{"product_id":"pardesi-darakht-پردیسی-درخت","title":"Pardesi Darakht - پردیسی درخت","description":"\u003cp\u003eشناخت: معروف تاریخی ناول نگار، صحافی اور ادیب\u003cbr\u003e\nنسیم حجازی اردو ادب کے ان مقبول اور اثر انگیز ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخی ناول نگاری کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی دلائی۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان کو نہایت مؤثر، جذباتی اور منظر نگاری سے بھرپور انداز میں پیش کیا، جس نے اردو پڑھنے والی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eنسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا۔ وہ 1914ء میں ضلع گرداسپور (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر گیا اور انہوں نے باقی زندگی وہیں گزاری۔\u003cbr\u003e\nانہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ مختلف اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے، جن میں ہفت روزہ تنظیم (کوئٹہ)، روزنامہ حیات (کراچی)، روزنامہ زمانہ (کراچی)، روزنامہ تعمیر (راولپنڈی) اور روزنامہ کوہستان (راولپنڈی) شامل ہیں۔ صحافت کے ذریعے انہوں نے تحریکِ پاکستان کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا، خصوصاً بلوچستان اور سندھ کے علاقوں میں ان کی تحریروں نے عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم حصہ لیا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eان کی اصل شہرت تاریخی ناول نگاری کے سبب ہے۔ ان کے ناول صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک دنیا پیش کرتے ہیں جہاں کردار، مکالمے اور حالات قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ان کے نمایاں ناولوں میں داستانِ مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، قیصر و کسریٰ، تلوار ٹوٹ گئی، قافلۂ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر شامل ہیں۔ ان کے ناولوں میں اسلامی تاریخ، جہاد، قربانی، اخلاقی قوت اور قومی غیرت جیسے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔\u003cbr\u003e\nتاریخی ناولوں کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح میں بھی طبع آزمائی کی، جن میں پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیرہ اور سو سال بعد جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا سفرنامہ پاکستان سے دیارِ حرم تک بھی خاصا مقبول ہوا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eان کی تصانیف کو غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کے کئی ناولوں کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے۔ ان کے مشہور ناول شاہین اور آخری چٹان پر ڈراما سیریلز بنائے گئے جبکہ خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی، جس سے ان کی مقبولیت مزید بڑھی۔\u003cbr\u003e\nوفات: 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا۔شناخت: معروف تاریخی ناول نگار، صحافی اور ادیب\u003cbr\u003e\nنسیم حجازی اردو ادب کے ان مقبول اور اثر انگیز ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخی ناول نگاری کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی دلائی۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان کو نہایت مؤثر، جذباتی اور منظر نگاری سے بھرپور انداز میں پیش کیا، جس نے اردو پڑھنے والی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eنسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا۔ وہ 1914ء میں ضلع گرداسپور (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر گیا اور انہوں نے باقی زندگی وہیں گزاری۔\u003cbr\u003e\nانہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ مختلف اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے، جن میں ہفت روزہ تنظیم (کوئٹہ)، روزنامہ حیات (کراچی)، روزنامہ زمانہ (کراچی)، روزنامہ تعمیر (راولپنڈی) اور روزنامہ کوہستان (راولپنڈی) شامل ہیں۔ صحافت کے ذریعے انہوں نے تحریکِ پاکستان کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا، خصوصاً بلوچستان اور سندھ کے علاقوں میں ان کی تحریروں نے عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم حصہ لیا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eان کی اصل شہرت تاریخی ناول نگاری کے سبب ہے۔ ان کے ناول صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک دنیا پیش کرتے ہیں جہاں کردار، مکالمے اور حالات قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ان کے نمایاں ناولوں میں داستانِ مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، قیصر و کسریٰ، تلوار ٹوٹ گئی، قافلۂ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر شامل ہیں۔ ان کے ناولوں میں اسلامی تاریخ، جہاد، قربانی، اخلاقی قوت اور قومی غیرت جیسے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔\u003cbr\u003e\nتاریخی ناولوں کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح میں بھی طبع آزمائی کی، جن میں پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیرہ اور سو سال بعد جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا سفرنامہ پاکستان سے دیارِ حرم تک بھی خاصا مقبول ہوا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eان کی تصانیف کو غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کے کئی ناولوں کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے۔ ان کے مشہور ناول شاہین اور آخری چٹان پر ڈراما سیریلز بنائے گئے جبکہ خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی، جس سے ان کی مقبولیت مزید بڑھی۔\u003cbr\u003e\nوفات: 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا۔\u003c\/p\u003e","brand":"Naseem Hijazi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":53279927238880,"sku":null,"price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/6adb2b14-5bd3-4753-896b-3746f2f9dd64-600x800.webp_600x800_-GoogleChrome8_7_20243_38_27PM.png?v=1782989778","url":"https:\/\/noorisons.com\/products\/pardesi-darakht-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa","provider":"Noori Sons","version":"1.0","type":"link"}