Rs.1,700.00Rs.2,100.00

شناخت: معروف تاریخی ناول نگار، صحافی اور ادیب نسیم حجازی اردو ادب کے ان مقبول اور اثر انگیز ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخی ناول نگاری کو عوامی سطح پر غیر معمولی...

  • Book Name: Pardesi Darakht - پردیسی درخت
  • Author Name Naseem Hijazi
  • No. of Pages 2100

شناخت: معروف تاریخی ناول نگار، صحافی اور ادیب
نسیم حجازی اردو ادب کے ان مقبول اور اثر انگیز ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخی ناول نگاری کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی دلائی۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان کو نہایت مؤثر، جذباتی اور منظر نگاری سے بھرپور انداز میں پیش کیا، جس نے اردو پڑھنے والی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔

نسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا۔ وہ 1914ء میں ضلع گرداسپور (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر گیا اور انہوں نے باقی زندگی وہیں گزاری۔
انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ مختلف اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے، جن میں ہفت روزہ تنظیم (کوئٹہ)، روزنامہ حیات (کراچی)، روزنامہ زمانہ (کراچی)، روزنامہ تعمیر (راولپنڈی) اور روزنامہ کوہستان (راولپنڈی) شامل ہیں۔ صحافت کے ذریعے انہوں نے تحریکِ پاکستان کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا، خصوصاً بلوچستان اور سندھ کے علاقوں میں ان کی تحریروں نے عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم حصہ لیا۔

ان کی اصل شہرت تاریخی ناول نگاری کے سبب ہے۔ ان کے ناول صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک دنیا پیش کرتے ہیں جہاں کردار، مکالمے اور حالات قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ان کے نمایاں ناولوں میں داستانِ مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، قیصر و کسریٰ، تلوار ٹوٹ گئی، قافلۂ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر شامل ہیں۔ ان کے ناولوں میں اسلامی تاریخ، جہاد، قربانی، اخلاقی قوت اور قومی غیرت جیسے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی ناولوں کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح میں بھی طبع آزمائی کی، جن میں پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیرہ اور سو سال بعد جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا سفرنامہ پاکستان سے دیارِ حرم تک بھی خاصا مقبول ہوا۔

ان کی تصانیف کو غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کے کئی ناولوں کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے۔ ان کے مشہور ناول شاہین اور آخری چٹان پر ڈراما سیریلز بنائے گئے جبکہ خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی، جس سے ان کی مقبولیت مزید بڑھی۔
وفات: 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا۔شناخت: معروف تاریخی ناول نگار، صحافی اور ادیب
نسیم حجازی اردو ادب کے ان مقبول اور اثر انگیز ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخی ناول نگاری کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی دلائی۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان کو نہایت مؤثر، جذباتی اور منظر نگاری سے بھرپور انداز میں پیش کیا، جس نے اردو پڑھنے والی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔

نسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا۔ وہ 1914ء میں ضلع گرداسپور (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر گیا اور انہوں نے باقی زندگی وہیں گزاری۔
انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ مختلف اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے، جن میں ہفت روزہ تنظیم (کوئٹہ)، روزنامہ حیات (کراچی)، روزنامہ زمانہ (کراچی)، روزنامہ تعمیر (راولپنڈی) اور روزنامہ کوہستان (راولپنڈی) شامل ہیں۔ صحافت کے ذریعے انہوں نے تحریکِ پاکستان کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا، خصوصاً بلوچستان اور سندھ کے علاقوں میں ان کی تحریروں نے عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم حصہ لیا۔

ان کی اصل شہرت تاریخی ناول نگاری کے سبب ہے۔ ان کے ناول صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک دنیا پیش کرتے ہیں جہاں کردار، مکالمے اور حالات قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ان کے نمایاں ناولوں میں داستانِ مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، قیصر و کسریٰ، تلوار ٹوٹ گئی، قافلۂ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر شامل ہیں۔ ان کے ناولوں میں اسلامی تاریخ، جہاد، قربانی، اخلاقی قوت اور قومی غیرت جیسے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی ناولوں کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح میں بھی طبع آزمائی کی، جن میں پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیرہ اور سو سال بعد جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا سفرنامہ پاکستان سے دیارِ حرم تک بھی خاصا مقبول ہوا۔

ان کی تصانیف کو غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کے کئی ناولوں کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے۔ ان کے مشہور ناول شاہین اور آخری چٹان پر ڈراما سیریلز بنائے گئے جبکہ خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی، جس سے ان کی مقبولیت مزید بڑھی۔
وفات: 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا۔

Translation missing: en.general.search.loading
Chat

Noori Sons

Noori Sons

Hello! How can I help you today?

0/500