{"product_id":"kuliyat-e-sarwat-hussain-کلیات-ثروت-حسین","title":"Kuliyat-e-Sarwat Hussain - کلیات ثروت حسین","description":"\u003ch2 style=\"text-align: right;\"\u003eجدید غزل کے انتہائی اہم اور اسلوب ساز شاعر ثروت حسین کی کلیات شائع کر دی ہے۔ اس کتاب کو عدنان بشیر نے مرتب کیا ہے\u003c\/h2\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003ch2 style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین: جدید اردو غزل کا رومانوی جادوگر اور خوابوں کا شاعر\u003c\/h2\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eاردو ادب کے معاصر منظر نامے پر\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cstrong\u003eثروت حسین\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eایک ایسا نام ہے جس نے اپنی مختصر زندگی میں غزل کو ایک نیا اور اچھوتا اسلوب عطا کیا۔ ان کی شاعری روایتی عشق و عاشقی سے ہٹ کر ایک ایسی کائناتی محبت اور حیرت کا بیان ہے جو قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ ان کے ہاں لفظوں کی تراش خراش اور استعاروں کا استعمال اس قدر فطری ہے کہ وہ دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eپیدائش اور ابتدائی زندگی\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی اور اردو ادبیات میں ایم اے کیا۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی حساسیت اور تنہائی پسندی موجود تھی، جس نے آگے چل کر ان کے شعری مزاج کی تشکیل کی۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eپیشہ ورانہ زندگی اور تدریس\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eانہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا اور سندھ کے مختلف کالجوں میں بطور لکچرر خدمات انجام دیں۔ تدریس کے دوران وہ اپنے طالب علموں میں بے حد مقبول تھے کیونکہ ان کا اندازِ گفتگو اور شخصیت نہایت پرکشش اور والہانہ تھی۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جو کتاب سے زیادہ زندگی اور فن کے اسرار سکھانے پر یقین رکھتے تھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eادبی خدمات اور شعری خصوصیات\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین کی شاعری جدید غزل کے ارتقاء میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:\u003c\/p\u003e\n\u003cul style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eحیرت کا عنصر:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی شاعری میں بچوں جیسی معصومیت اور کائنات کو پہلی بار دیکھنے والی حیرت کا احساس ملتا ہے۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eنئے استعارے:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eانہوں نے پرندوں، بادلوں، مٹی اور خوابوں کو نئے معنی دیے۔ ان کے ہاں \"شہزادی\" اور \"خواب\" محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eجمالیاتی رچاؤ:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی غزلوں میں حسن کی ایک ایسی خوشبو ہے جو قاری کے حواس کو معطر کر دیتی ہے۔ وہ دکھ کو بھی نہایت خوبصورتی اور وقار کے ساتھ بیان کرنے کے ماہر تھے۔\u003c\/li\u003e\n\u003c\/ul\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eشعری مجموعے\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین کی زندگی میں ان کا صرف ایک مجموعہ شائع ہو سکا تھا، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کا تمام کلام جمع کر کے شائع کرایا:\u003c\/p\u003e\n\u003cul style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eآدھے چاند کی رات:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eخاکدان:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی نظموں اور غزلوں کا دوسرا اہم مجموعہ۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eکلیاتِ ثروت حسین:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی تمام شعری تخلیقات کا مجموعہ جو جدید شاعری کے طالب علموں کے لیے ایک درسی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔\u003c\/li\u003e\n\u003c\/ul\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eالمیہ وفات اور ادبی مقام\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین کی زندگی کا اختتام نہایت المناک صورت میں ہوا۔ وہ 9 ستمبر 1996ء کو ایک ٹرین حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی ناگہانی موت نے اردو ادب کو ایک ایسے فنکار سے محروم کر دیا جو ابھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عروج پر تھا۔ ثروت حسین نے غزل کو جو تازگی اور نیا پن دیا، وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003chr\u003e","brand":"Sarwat Hussain","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48610604482784,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsAppImage2026-01-28at11.21.54AM.jpg?v=1769582623","url":"https:\/\/noorisons.com\/products\/kuliyat-e-sarwat-hussain-%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%ab%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86","provider":"Noori Sons","version":"1.0","type":"link"}