Rs.1,500.00

یہ کہنے میں شاید ہی کسی کو تامل ہو کہ حضرت کا غزل پر بڑا احسان ہے اور میرے نزدیک جس کا غزل پر احسان ہے۔ اس کا پوری اُردو شاعری اور اُردو زبان پر...

  • Book Name: Kuliat E Hasrat Mohani - کلیات حسرت موہانی
  • Author Name Hasrat Mohani
  • No. of Pages 472
  • URD- Urdu 2026 / 01 / 03

Tags: Kuliyat

یہ کہنے میں شاید ہی کسی کو تامل ہو کہ حضرت کا غزل پر بڑا احسان ہے اور میرے نزدیک جس کا غزل پر احسان ہے۔ اس کا پوری اُردو شاعری اور اُردو زبان پر احسان ہے۔ حضرت نے غزل کی آبرو اس زمانہ میں رکھ لی جب غزل بہت بدنام اور ہر طرف سے نرغہ میں تھی ۔ انھوں نے اُردو غزل کی اہمیت اور عظمت ایک نا معلوم مدت تک منوالی ۔ رشید احمد صدیقی مصحفی ، جرات و مومن کے تغزل میں جو امکانات چھپے ہوئے تھے۔ وہ سب حسرت کی شاعری میں اس طرح پورے ہو گئے کہ اب اس رنگِ شاعری میں ترقی کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی۔ حسرت نے ان تینوں رنگوں کو ملا کر ایک رنگ بنا دیا ہے۔ فراق گورکھ پوری حسرت موہانی کی شاعری بھاگتی دھوپ کی شاعری نہیں ۔ شباب کے عنفوان اور نصف النہار کی شاعری ہے جس میں پہلی نگاہیں اور اجنبیت کے مزے ہیں اور ننگے پاؤں کو ٹھے پہ آنے کا دور بھی ہے اور جوانی کے دوسرے تجربے بھی ہیں ۔ حسرت کے ہاں شباب و محبت کے یہ قصے حقیقی ہیں، خیالی نہیں ہیں۔ زندگی کے تجربے معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں صداقت کی تاثیر اور سچائی کی اکسیر بدرجۂ کمال موجود ہے۔ ڈاکٹر سید عبد الله حسرت موہانی کے عشق میں ایک معصوم سپردگی ، ایک دلکش والہانہ پن ۔ والہانہ پن ہے۔ ایک روحپر در کیفیت ہے جو ایک رومانی احساس رکھتی ہے مگر اس کی رومانیت میں تخیل کی تازہ کاری اور لالہ کاری نے ایک سدا بہار چمن کھلا دیا ہے۔ اس رومانیت میں بلاشبہ اکہراپن اور ہلکا پن بھی ہے۔ یہ تہ دار نہیں ہے اور نہ پیچیدہ ہے مگر جو کچھ ہے ، وہ تخیل ، تجربے، جذبے اور حسن بیان کا بڑا دلکش محلول ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور حسرت کی عشقیہ شاعری کا مقابلہ اس دور کے کسی دوسرے شاعر کے کلام سے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے جذباتی تجربے کی نوعیت بالکل انوکھی ہے۔ اس لیے ان کے کلام میں ایک خاص انفرادیت پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے عشق پاک باز کی بدولت اُردو غزل کو ایک نئے قسم کے محبوب سے روشناس کیا ہے جو اُن کی شاعری کی طرح منفرد ہے۔ ڈاکٹر یوسف حسین خان

Translation missing: en.general.search.loading