Rs.700.00Rs.1,000.00

خیال و خامہ یہ مثنوی ہے اس کی ادا شاعر کے خواب سے ہوتی ہے اس میں وہ دیکھتا ہے کہ نظم عالم درہم برہم ہو چکا ہے ہو چکا ہے ہر طرف ظلمتوں نے...

Guaranteed safe checkout

amazon paymentsapple paybitcoingoogle paypaypalvisa

خیال و خامہ یہ مثنوی ہے اس کی ادا شاعر کے خواب سے ہوتی ہے اس میں وہ دیکھتا ہے کہ نظم عالم درہم برہم ہو چکا ہے ہو چکا ہے ہر طرف ظلمتوں نے ڈیرے ڈال دیے ہیں ان میں ایک ہی راہ روشن ہے یہ وہی راہ ہے جس کے بارے میں خود اسی نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

Translation missing: en.general.search.loading