Rs.600.00Rs.700.00

بریم خوش نفساںشاہد احمد دہلویشاہد صاحب کا اپنا لب ولہجہ ہے۔ ان کا اپنا طر ز بیان ہے ۔ ان کی زبان ٹکسالی اور با محاورہ ہے اور وہ واقعات کو اس طرح ترتیب دیتے...

  • Book Name: Bazm e Khush nafsan - بزمِ خوش نفساں
  • Author Name Shahid Ahmad Dehlvi
  • No. of Pages 217
  • URD- Urdu 2024 / 12 / 05


بریم خوش نفساں
شاہد احمد دہلوی
شاہد صاحب کا اپنا لب ولہجہ ہے۔ ان کا اپنا طر ز بیان ہے ۔ ان کی زبان ٹکسالی اور با محاورہ ہے اور وہ واقعات کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ بھر پور تاثر قاری کے نہاں خانوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ شاہد صاحب کے خاکوں کا ایک وصف جو اُردو میں خال خال نظر آتا ہے، یہ ہے کہ وہ انسان کو انسان سمجھتے ہیں، اسے فرشتہ نہیں سمجھتے۔ وہ اس کی کمزوریوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی اس کی خوبیوں کو اسی لیے ان کے خاکوں میں ایک خاص قسم کی بے تکلفی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ بے تکلفی واقعات میں بھی ملتی ہے اور انداز بیان میں بھی یہی وہ فنی خلوص ہے جو اُن کے خاکوں میں اثر و تاثر کا جادو جگا دیتا ہے۔ بہت سے لوگ اس بے تکلفی پر ناک بھوؤں چڑھاتے ہیں لیکن اصل میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پورا خا کہ پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن پر اس شخصیت کا کیا اور کیسا اثر قائم ہوتا ہے۔ کیا وہ انسان بتاشہ کی طرح بیٹھ جاتا ہے یا مینارہ کی طرح بلند و بالا نظر آنے لگتا ہے۔ اگر تاثر باشہ کا ہے تو خاکہ نگار اپنے فن میں نا کام ہے۔ اگر اثر آفرینی مینارہ کی ہے تو وہ کامیاب ہے۔ اس نقطہ نظر سے ان خاکوں کو پڑھیے تو آپ کو مزاج کی سنجیدگی اور شگفتگی کے ساتھ
مل کر ایک نئے لب ولہجہ کو جنم دیتی ہے۔ ان کی نثر میں محاورے ایسے ٹھاٹ باٹ اور ٹھے سے استعمال میں آتے ہیں کہ انھیں کسی دوسرے لفظ یا محاورے سے نہیں بدلا جا سکتا۔ نہ وہ بہت دور تک نذیر احمد کے ساتھ چلتے ہیں اور نہ محمد حسین آزاد کے ساتھ لیکن دونوں کو اپنے ساتھ لیے، دونوں کے مزاجوں کو اپنے مزاج کے خمیر میں گوندھ کر ایک نیا مرکب تیار کرتے ہیں ۔ آپ کو ان کے ہاں ان دونوں کی گونج تو ضرور سنائی دے گی لیکن ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہوگا کہ یہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ شاہد احمد دہلوی کی نثر میں ڈپٹی نذیر احمد اور محمد حسین آزاد موجود ہیں اور نہیں بھی۔ ان کی نٹر ڈپٹی نذیر احمد و محمد حسین آزاد کی نثر کا ایک نیا امکان ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی

Translation missing: en.general.search.loading