Rs.695.00

اردو کے بلند پایہ ناقد، دانشور، ادیب اور ڈرامہ نگار پروفیسر شمیم حنفی کی پیدائش ۱۷ مئی 1939 کو سلطان پور کے ایک معزز علمی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد محمد یٰسین لاء گریجویٹ...

  • Book Name: Hum Nafson Ki Bazm Mein
  • Author Name Shamim Hanfi
  • No. of Pages 280
  • ENG- English 2026 / 01 / 03

Tags: Literary Criticism

اردو کے بلند پایہ ناقد، دانشور، ادیب اور ڈرامہ نگار پروفیسر شمیم حنفی کی پیدائش ۱۷ مئی 1939 کو سلطان پور کے ایک معزز علمی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد محمد یٰسین لاء گریجویٹ تھے اور علم و ادب سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم سلطان پور میں حاصل کرنے کے بعد مدھوسودن ودھیالیہ سے انٹر کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے الہ آباد چلے گئے۔ وہاں سے انھوں نے بی اے ، ایم اے اردو اور ایم اے تاریخ کی ڈگریاں حاصل کیں اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے ڈی فل کیا جو پی ایچ ڈی کا ہی دوسرا نام ہے۔ ڈی فل میں ان کے نگراں معروف نقاد پروفیسر احتشام حسین تھے۔ پروفیسر احتشام حسین کی نگرانی میں ہی ان کا تنقیدی شعور پروان چڑھا۔ شمیم حنفی کو فراقؔ، ڈاکٹر اعجاز حسین اور انگریزی ادب کے معروف دانشور پروفیسر ایس سی دیو جیسے اساتذہ کی سرپرستی حاصل رہی جن سے ان کے ذہن رسا کو نہ صرف یہ کہ علم و آگہی کی روشنی ملی بلکہ مستقبل کی راہ متعین کرنے کا حوصلہ بھی ملا۔ الٰہ آباد سے ڈی فل کرنے کے بعد پروفیسر شمیم حنفی ۱۹۶۵ میں اندور یونیورسٹی میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوگئے اور جلد ہی اردو، فارسی اور عربی کے صدر شعبہ بنا دیے گئے۔ ۱۹۶۹ میں آپ کا تقرر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بحیثیت لیکچرر ہوگیا۔ علی گڑھ کی علمی و ادبی فضاؤں نے انھیں نئی قوت پرواز عطا کی اور یہیں سے انھوں نے ۱۹۷۶ میں پروفیسر آل احمد سرور کی نگرانی میں دوہرے امتیازات کے ساتھ ڈٰی لٹ کی باوقار سند حاصل کی۔ اسی سال آپ کا تقرر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں بحیثیت لیکچرر ہوگیا۔ اپنی غیر معمولی صلاحیت اور علمی بصیرت کی بنا پر وہ چند ماہ بعد ہی ریڈر کے عہدے پر فائز ہوئے اور ۱۹۸۴ میں پروفیسر کے منصب پر فائز ہوگئے۔ آپ کئی دفعہ شعبۂ اردو کے صدر رہنے کے علاوہ ڈٰین فیکلٹٰی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز اور اردو کریسپانڈنس کورس کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ ۲۰۰۷ میں جامعہ کی تدریسی ذمہ داریوں سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے مگر ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں سے جامعہ کو محروم نہ ہونے دینے کی غرض سے انھیں پروفیسر ایمرٹس بنا دیا گیا۔ یہ تاحیات اعزازی منصب تھا جس کا مطلب تھا کہ جامعہ کو آپ کی آخری سانس تک آپ کی رہنمائی اور سرپرستی حاصل رہے گی۔

Translation missing: en.general.search.loading