{"title":"Nigarshat","description":"","products":[{"product_id":"dr-mubarak-ali","title":"ڈاکٹر منظور خرد افروز روشن خیال اور ادیب | Dr. Manzoor Khurd Afroz Roshankhal","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e جس پرمحترمہ سیدہ شمانہ بتول بخاری کاشکریہ ـ انہوں نے نام ور دانش ور اور فلسفی جناب ڈاکٹر منظور احمد کی مذہبی، سماجی اور فلسفیانہ فکر کا نہایت عرق ریزی سے تجزیاتی مطالعہ کیاہے اور خوب کیاہے. یہ کتاب اس طور بھی اہم ہے کہ اس میں ڈاکٹر منظور احمدکے فکر کی ارتقائی جہتوں کے ساتھ ساتھ ہماری مذہبی، سماجی اور فکری تاریخ بھی (اچھی یابری) مکمل سچائی کے ساتھ موجود نظر آتی ہے ـ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاس قدر اہم شخصیت پر کتاب کے لیے مصنفہ اور شعبہ اردو بہاوالدین زکریا ملتان مبارک باد کے مستحق ہیں\u003c\/div\u003e","brand":"Dr. Manzoor Khurd Afroz Roshankhal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46680202346720,"sku":"9789695628485","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Dr-Manzoor-Ahmed-1-scaled.jpg?v=1732799584"},{"product_id":"badshah-nama-بادشاہ-نامہ","title":"Badshah Nama (بادشاہ نامہ)","description":"\u003cp\u003eBadshah Nama (بادشاہ نامہ)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 400\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجمال پاشا الغزی\u003c\/p\u003e","brand":"T. S. Martin","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118047456,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Badshah-Nama.jpg?v=1733406479"},{"product_id":"sultani-mahlaat-k-raaz-سلطانی-محلات-کے-راز","title":"Sultani Mahlaat K Raaz (سلطانی محلات کے راز)","description":"\u003cdiv class=\"post-excerpt\"\u003e\n\u003cp\u003eSultani Mahlaat K Raaz (سلطانی محلات کے راز)\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eہندوستان کے مسلمان بادشاہوں کے دورِ زوال کا عبرت نامہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف ٹی ایس مارٹن\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003ePages: 415\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eBinding: Hard\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"T. S. Martin","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118145760,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Sultani-Mahlat-K-Raz.jpg?v=1733406481"},{"product_id":"tilism-a-hosh-o-ruba-طلسم-ہوش-ربا","title":"Tilism e Hosh o Ruba - طلسم ہوش ربا","description":"\u003cdiv class=\"post-excerpt\"\u003e\n\u003cp\u003eTilism a Hosh o Ruba (طلسم ہوش ربا)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eانتخاب\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"M Hassan Askari","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118309600,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Tilism-a-Hos-O-Ruba.jpg?v=1733406483"},{"product_id":"kaleela-o-dimna-کلیلہ-و-دمنہ","title":"Kaleela O Dimna (کلیلہ و دمنہ)","description":"\u003cp\u003eKaleela O Dimna (کلیلہ و دمنہ)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 190\u003c\/p\u003e","brand":"Arshad Raazi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118407904,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Kalila-Dimna.jpg?v=1733406485"},{"product_id":"the-book-of-woman-عورت","title":"THE BOOK OF WOMAN - عورت","description":"\u003cp\u003eاوشو کی \"عورت کی کتاب\" نسوانیت کی ایک فکر انگیز تحقیق ہے، جو عورت کے جوہر اور عورت ہونے کے متنوع جہتوں کو تلاش کرتی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے جیسے\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e- جنسیت: اوشو جنسی حقوق اور لذت کی اہمیت پر بحث کرتے ہیں، جنسیت کے لیے رجعت پسندی کے بجائے آزادانہ نقطہ نظر پر زور دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکیریئر اور سیاست: اوشو روایتی نظریات پر تنقید کرتے ہیں جو خواتین کی بنیادی قدر کو زچگی سے متعلق درجہ بندی کرتے ہیں اور معاشرے میں خواتین کے کردار کے از سر نو جائزہ کے لیے ان کی موروثی صلاحیتوں اور مختلف شعبوں میں عظمت کے امکانات کی عکاسی کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e- خواتین کی آزادی: خواتین کے لیے حقیقی آزادی ضروری ہے، جس سے وہ اپنی حقیقی فطرت کو اپنا سکیں اور مسخ شدہ تاریخی کرداروں سے آگے بڑھیں۔\u003cbr\u003e- رشتے: اوشو خواتین کو زچگی سے بالاتر کردار ادا کرنے اور مختلف تخلیقی شعبوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دیتا ہے، متوازن معاشرے کے لیے انفرادیت اور بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے۔\u003cbr\u003e- تخلیقی صلاحیت: وہ خواتین کے اندر موجود تخلیقی جذبے پر بحث کرتا ہے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ تخلیقی صلاحیت صنف سے بالاتر ہے اور محبت اور تکمیل سے ابھر سکتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمجموعی طور پر، \"عورت کی کتاب\" خواتین اور خواتین کے جذبے کا جشن ہے، جو خواتین کی شناخت اور تجربات کی گہرائی سے تحقیق کرتی ہے۔ اوشو کا کام خواتین کو ان کی منفرد صلاحیتوں اور صلاحیتوں کو اپناتے ہوئے نسوانیت کے ذریعے اپنی شناخت دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118506208,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Orat-by-Osho.jpg?v=1733406487"},{"product_id":"from-sex-to-superconciousness-شہوانیت-سے-الوہیت-تک","title":"FROM SEX TO SUPERCONCIOUSNESS - شہوانیت سے الوہیت تک","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"شہوانیت سے الوہیت تک\" اوشو کی ایک فکر انگیز کتاب ہے جو جنس، محبت اور روحانیت کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتے ہوئے انسانی شعور کے سفر کو تلاش کرتی ہے۔ یہاں آپ کتاب سے کیا توقع کر سکتے ہیں:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eجنس اور روحانیت:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e اوشو نے انسانی زندگی میں جنس کے کردار پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ فطرت کی طرف سے ایک بنیادی تحفہ ہے جو روحانی بیداری کا دروازہ بن سکتا ہے۔\u003cbr\u003e- جبر اور آزادی: وہ انسانی جنسیت کو دبانے کے لیے سماجی اصولوں اور مذہبی روایات پر تنقید کرتا ہے، جنسی اور محبت کے لیے زیادہ کھلے اور قبول کرنے والے انداز کی وکالت کرتا ہے۔\u003cbr\u003e- سپر شعور: کتاب قارئین کو جنسیت کے روایتی تصورات سے بالاتر ہونے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جس کا مقصد شعور کی ایک اعلیٰ کیفیت ہے جہاں افراد گہرے خوشی اور اتحاد کا تجربہ کر سکتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eبصیرت اور ٹیک ویز\u003cbr\u003e- ایک اتپریرک کے طور پر سیکس:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e اوشو کا خیال ہے کہ سیکس روحانی ترقی کے لیے ایک اتپریرک ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے جبر یا جرم کی بجائے سمجھ اور قبولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔\u003cbr\u003e- Orgasm کی طاقت: وہ orgasmic تجربے کو بے وقت، بے فکری، اور خالص خوشی کی ایک جھلک کے طور پر بیان کرتا ہے، جو الوہیت کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔\u003cbr\u003e- مراقبہ اور محبت: کتاب الوہیت کے حصول میں مراقبہ اور محبت کی اہمیت پر زور دیتی ہے، قارئین کو ذاتی ترقی اور تبدیلی کے لیے ان خصوصیات کو فروغ دینے کی ترغیب دیتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eتنازعہ اور استقبال\u003cbr\u003e- متنازعہ خیالات: جنسی تعلقات، تعلقات اور روحانیت کے بارے میں اوشو کے خیالات کو کچھ لوگوں نے اشتعال انگیز اور متنازعہ قرار دیا ہے، جس سے بحث و مباحثے کو ہوا ملتی ہے۔\u003cbr\u003e- اثر و رسوخ اور میراث: تنازعہ کے باوجود، \"شہوانیت سے لے کر الوہیت تک\" ایک وسیع پیمانے پر پڑھی جانے والی اور بااثر کتاب بنی ہوئی ہے، جو جدید روحانیت اور افکار پر اوشو کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118702816,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Shahwaniat-Osho.jpg?v=1733406489"},{"product_id":"100-azeem-shakhsiat-100-سو-عظیم-شخصیات","title":"100 Azeem Shakhsiat - سو عظیم شخصیات","description":"\u003cdiv class=\"cxmmr5t8 oygrvhab hcukyx3x c1et5uql o9v6fnle ii04i59q\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eUrdu Translation of \"The 100: A Ranking of The Most Influential Persons in History\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ ملیحہ سید، ایڈیٹنگ یاسر جواد۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"cxmmr5t8 oygrvhab hcukyx3x c1et5uql o9v6fnle ii04i59q\"\u003e\n\u003cdiv class=\"cxmmr5t8 oygrvhab hcukyx3x c1et5uql o9v6fnle ii04i59q\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمائیکل ایچ ہارٹ کی 1978 کی کتاب ہے،  یہ ہارٹ کی پہلی کتاب تھی، جسے 1992 میں نظر ثانی کے ساتھ دوبارہ شائع کیا گیا تھا۔ یہ ان 100 لوگوں کی درجہ بندی ہے جنہوں نے ہارٹ کے مطابق انسانی تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔\u003cbr\u003eہارٹ کی فہرست میں پہلا شخص پیغمبر اسلام محمد(SAW) ہے، ایک انتخاب جس نے کچھ تنازعہ پیدا کیا۔ ہارٹ نے زور دے کر کہا کہ محمد(SAW) مذہبی اور سیکولر دونوں شعبوں میں \"انتہائی کامیاب\" تھے۔ اس کا یہ بھی ماننا تھا کہ اسلام کی ترقی میں محمد(SAW) کا کردار عیسائیت کی ترقی میں عیسیٰ(AS) کے تعاون سے کہیں زیادہ اثر انگیز تھا۔ وہ عیسائیت کی ترقی کا سہرا سینٹ پال کو بتاتا ہے، جس نے اس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔\u003cbr\u003eکتاب میں ہارٹ نے ابراہم لنکن کو فہرست میں شامل نہیں کیا۔ 1992 کی نظرثانی میں کمیونزم سے وابستہ شخصیات کی تنزلی، جیسے ولادیمیر لینن اور ماؤ زی تنگ، اور میخائل گورباچوف کا تعارف شامل تھا۔ ہارٹ نے شیکسپیئر کے تصنیف کے معاملے میں فریق بنایا اور ولیم شیکسپیئر کے لیے آکسفورڈ کے 17 ویں ارل ایڈورڈ ڈی ویری کی جگہ لی۔ ہارٹ نے نیلس بوہر اور ہنری بیکریل کو ارنسٹ ردرفورڈ کے ساتھ تبدیل کیا، اس طرح پہلے ایڈیشن میں ایک غلطی کو درست کیا۔ پابلو پکاسو کی جگہ ہنری فورڈ کو \"اعزازی ذکر\" کی فہرست سے بھی ترقی دی گئی۔ آخر کار، درجہ بندی میں سے کچھ کو دوبارہ ترتیب دیا گیا، حالانکہ ٹاپ ٹین میں درج کسی نے بھی پوزیشن تبدیل نہیں کی۔\u003cbr\u003eیہ کتاب پہلی بار 1978 میں \"ہارٹ پبلشنگ کمپنی\" سے امپرنٹ کے طور پر شائع ہوئی تھی۔ 1992 میں، کتاب کا دوسرا ایڈیشن فہرست کی ترتیب میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ شائع ہوا۔ اس کی پہلی اشاعت میں، 60,000\/70,000 کاپیاں فروخت ہوئیں اور اس دوران کتاب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Michael H. Hart","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707118899424,"sku":null,"price":1495.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/100-1.jpg?v=1733406491"},{"product_id":"verdict-on-india-beverly-nicholas-آزادی-سے-تین-سال-پہلے-کا-ہندوستان","title":"VERDICT ON INDIA. Beverly Nicholas. (آزادی سے تین سال پہلے کا ہندوستان)","description":"\u003cdiv class=\"woocommerce-product-details__short-description\"\u003e\n\u003cp\u003eVERDICT ON INDIA. Beverly Nicholas. (آزادی سے تین سال پہلے کا ہندوستان)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمصنف: بیورلی نکلسن.\u003cbr\u003eترجمہ: عبدالقدوس ہاشمی.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eصفحات 348. سائز 5.75 \/8.75\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cform class=\"cart\" action=\"https:\/\/onlineurdubazar.pk\/product\/verdict-on-india-beverly-nicholas-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%da%a9%d8%a7-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7\/\" method=\"post\" enctype=\"multipart\/form-data\"\u003e\n\u003cdiv class=\"quantity\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/form\u003e","brand":"Beverly Nicholas, Abdul Qadoos Hashmi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707119980768,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Azadi-Sy-Pehly-Ka-Hindustan.jpg?v=1733406500"},{"product_id":"tareekh-a-islam-تاریخ-اسلام","title":"Tareekh A Islam (تاریخ اسلام)","description":"\u003cp\u003eTareekh A Islam (تاریخ اسلام)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor: Syed Ameer Ali\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eTranslator: Bari Aleeg\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Ameer Ali, Bari Aleeg","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707120537824,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Tareekh-a-Islam.jpg?v=1733406506"},{"product_id":"freued-k-mazamin","title":"Freud K Mazamin - فرئیڈ کے مضامین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eبنیادی طور پر یہ مضامین فرائڈ کے وسیع تر اور اطلاقی نظریات کا نتیجہ ہیں جن میں اس نے تحلیلِ نفسی کی طویل تحقیق سے ثابت ہونے والے نتائج کا اطلاق نفسیات کے علاوہ زندگی کے بعض دیگر شعبوں پر بھی کیا ہے جن میں مذہب، معاشرت، بشریات، ادب اور فلسفہ شامل ہیں.\u003cbr\u003eزیرِ نظر کتاب کے پہلے تین مضامین یعنی \"ایک فریب کا مستقبل\"، ٹوٹم اینڈ ٹیبو\" اور\" موسیٰ اور مذہبِ توحید\" خالصتاً فرائڈ کے مذہبی نظریات کا احاطہ کرتے ہیں.\u003cbr\u003e\" گروپ سائیکالوجی اور ایگو کا تجربہ\" ایک طویل مضمون ہے. اس میں فرد کی نفسیات کا اطلاق گروہ پر کر کے دور رس نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔\u003cbr\u003eاس میں فرائڈ نے تنویم، اثر پزیری اور عشق کا باہمی ربط جس قدر دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے وہ اس تحریر کو نفسیات کے دائرے سے نکال کر ادبِ عظیم کے درجے پر فائز کرنے کے لئے کافی ہے۔ خاص طور پر اس کا یہ کہنا کہ سماجی انصاف کا مقصد دوسروں کو یکساں حقوق دلانا نہیں بلکہ بہت سی ایسی مراعات سے محروم رکھنا ہے جنہیں ہم خود نہیں پا سکتے.\u003cbr\u003e\"جنگ اور موت سے متعلق کچھ خیالات\" پر مبنی مضمون پہلی جنگ عظیم کے دوران تحریر کیا گیا جس میں جنگ کے دوران انسان کی اخلاقی گراوٹ کی نفسیاتی وجوہ بیان کی گئی ہیں۔\u003cbr\u003eاس سلسلے کا آخری انتخاب یعنی \"جنگ کیوں\" فرائڈ اور آئن سٹائن کی باہمی خط و کتابت پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003eکتاب کے ابتداء میں فرائڈ کا مختصر سوانخی خاکہ اور عمومی خیالات کا مجموعی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eفرائڈ کے مضامین.\u003cbr\u003eترجمہ ڈاکٹر ثوبیہ طاہر.\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Sigmund Freud","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707157598432,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Freued-K-Mazamin-800.jpg?v=1733407395"},{"product_id":"ghair-saami-mazahib-k-bani","title":"Ghair Saami Mazahib K Bani - غیر سامی مزاہب کے بانی","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eغیرسامی مذاہب کے بانی از الطاف جاوید\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس وقت دنیا میں بے شمار آسمانی و غیر آسمانی مذاہب پائے جاتے ہیں،جن کی اپنی اپنی تہذیب وثقافت اور زندگی گزارنے کی لئے تعلیمات ہیں ہمارے معاشرے میں چونکہ مطالعہ کا رجحان بہت کم ہو چکا ہے لہذا مذاہب کی تاریخ اور ارتقاء سے متعلق بہت کم لوگ معلومات رکھتے ہیں۔اس وقت دنیا میں دو قسم کے مذاہب ہیں۔ ایک سامی مذاہب جنہیں الہامی مذاہب بھی کہتے ہیں۔سامی مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جو سام بن نوح کی اولادسے نکلے ہوں۔ انہیں الہامی مذاہب بھی کہتے ہیں۔ انہیں الہامی مذاہب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں مذاہب کی بنیاد الہام الہٰی یا وحی الہٰی پر ہے۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام اہم بڑے سامی مذاہب ہیں اور دوسرے غیر سامی مذاہب ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eغیر سامی مذاہب میں بدھ مت، ہندومت اور زرتشت مت اور سکھ مت، تاوازم، کنفویشس ازم وغیرہ شامل ہیں۔غیر سامی مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جن کا تعلق سام بن نوح کی اولاد سے نہیں ہے غیر الہامی مذاہب کو منگولی اور آریائی مذاہب بھی کہا جاتا ہے دنیا میں موجود ہر شخص کسی نہ کسی مذہب سے متاثر چلا آرہا ہے چاہے وہ سامی مذاہب ہوں یا غیر سامی مذاہب چونکہ مذہب زندگی کے ہر معاملے میں انسان کی مکمل رہنمائی کرتا ہے اس لئے اس کے وجود سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکا۔مذہب كے آغاز كے بارے میں دو بڑے نظریئے پائے جاتے ہیں۔ ارتقائی نظریہ اور الہامی نظریہ۔ڈارون كے نظریہِ ارتقاء سے متاثر ہوكر مغربی محققین اور مستشرقین كی اكثریت نے مذہب كا ارتقائی نظریہ پیش كیا ہے۔ جدید ماہرین كو چونكہ ہر چیز میں ارتقاء كی كارفرمائی نظر آتی ہے لہٰذا انہوں نے مذہب کے متعلق بھی ایسے ہی اندازے لگانے شروع کیے ۔مذہب كے ارتقائی نظریہ كی رو سے انسان كی ابتداء جہالت اور گمراہی سے ہوئی۔ بعدازیں اس نے بتدریج مشركانہ خدا پرستی اپنالی۔ ان ارتقائی مراحل كی تفصیل میں كافی اختلاف ہے۔ مثلاً: بعض محققین كا خیال ہے كہ مذہب كی ابتداء اكابر پرستی سے ہوئی جبكہ دوسروں كی رائے میں ابتداء مظاہر پرستی سے ہوئی۔ ان كا خیال ہے كہ انسان نے ابتداء میں اپنی كم فہمی اور لاعلمی كی وجہ سے مظاہرِ فطرت كی پرستش شروع كردی۔ كیونكہ ابتدا میں اس كی زندگی و موت كا انحصار كافی حد تك ان پر تھا۔ مثلاً: سیلاب، طوفان، زلزلے اور آتش فشاں وغیرہ، لیكن جوں جوں اس كا علم بڑھتا گیا اور جہالت دور ہوتی گئی تو اس نے محسوس كیا كہ یہ مظاہرِ فطرت خدائی قوتیں نہیں ركھتے۔ ابتدا میں لوگوں نے ہر چیز كو دیوتا بنالیا لیكن علمی ترقی كے ساتھ ساتھ خداؤں كی تعداد میں كمی ہونے لگی حتٰی كہ آخر میں صرف ایك خدا رہ گیا۔جولین بكسلے پہلا مغربی مفكر ہے جس نے ڈارون كے نظریہِ ارتقاء كو مذاہب كی تاریخ پر چسپاں كیا۔ وہ لكھتا ھے’’پہلے جادو پیدا ہوا، پھر روحانی تصرفات نے اس كی جگہ لے لی۔ پھر دیوتاؤں كا عقیدہ اُبھرا، بعد ازیں خدا كا تصور آیا۔ اس طرح ارتقائی مراحل سے گزر كر مذہب اپنی آخری حد كو پہنچ چكا ہے۔‘‘\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجب کہ مذہب كا الہامی نظریہ ہے كہ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل حضرت آدم علیہ الّسلام كو جب دنیا میں بھیجا تو اوّل روز سے ہی ان كی تمام مادی ضروریات كی طرح ان كی روحانی ضروریات یعنی دینی ہدایت كا بھی سامان كیا۔اس طرح انسانِ اوّل پوری طرح ہدایت یافتہ تھا۔ وہ نہ صرف توحید پرست تھا بلكہ توحیدِ الٰہی كا پیغامبر تھا،انسانیت كو صراطِ مستقیم اور توحیدِ خالص سكھانے كے لیے وقفے وقفے سے ہر زمانے اور ہر قوم كی طرف رسول بھیجے گئے۔۔مختصر یہ کہ ابتدائے آفرینش سے انسان كا اصلی مذہب توحید رہا ہے۔ شرك اس وقت پیدا ہوا جب انسانی آبادی میں اضافہ اور پھیلاؤ ہوا اور انبیاء كی تعلیم دھندلی پڑگئی۔ آج بھی غیر الہامی اور مشرک مذاہب ہندو مت، جین مت، زرتشتی اور سكھ مت، بدھ مت اور افریقہ کے پرانے مذاہب وغیرہ میں الہامی تعلیمات کی ہلکی پھلکی جھلک دیکھی جاسکتی ہیں ۔اس وقت موجود الہامی مذاہب عیسائیت، یہودیت اور اسلام ہیں، ان كے داعی اللہ تعالیٰ كے رسول اور پیغمبر تھے۔ ان كی تعلیمات جزوی فرق سے خالص توحید پر مبنی تھیں، لیکن بعد میں عیسائیت اور یہودیت كے پیروكاروں نے اپنے مذاہب میں من مانی ترامیم اور تحریفات كرلیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eالہامی مذاہب اصلاً ایك خدا كے تصور پر مبنی ہیں، یہ مذاہب پیغمبروں كے قائل ہیں، مذاہب كا اصل منبع و سرچشمہ سماوی ہیں، مشرقِ وسطٰی سامی اقوام سے ابتدا ہوئی اور اپنی تعلیمات کی تبلیغ کے باعث باہر بھی پھیلے ۔غیر الہامی مذاہب ایک تصور خدا كے پابند نہیں، بعض سرے سے خدا كے تصور سے بھی عاری ہیں، تعلیمات کا سرچشمہ سماوی نہیں رہا، ا ن میں پیغمبروں کا تصور ختم ہوچکا ہے ، ان کا علاقہ وہ ہے جہاں بعد میں سامی مذاہب کی تبلیغ نہیں ہوسکی ۔تعلیمات کے لحاظ سے بھی ان میں فرق ہے ، الہامی مذاہب اپنی تعلیمات یا عملی تاریخ كے باعث تبلیغی ہیں اور غیر الہامی اپنی اصلی تعلیمات كے مطابق تبلیغی نہیں۔ اس طرح الہامی مذاہب كی تعلیمات معیّن اور واضح ہیں لیكن غیر الہامی مذاہب كی تعلیمات غیرمعیّن اور لچكدار ہیں۔ مزید الہامی مذاہب كی تعلیمات كلّی ہیں اور اپنی اصل كی بنا پر دینی اور دنیوی زندگی پر كم و بیش حاوی ہیں، لیكن غیر الہامی مذاہب كی تعلیمات جزوی ہیں یعنی یا تو صرف روحانی زندگی سے متعلق ہیں جیسے تاؤ مت یا پھر دنیوی زندگی سے متعلق ہیں جیسے كنفیوشسی مت۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eزیر تبصرہ کتاب’’ غیرسامی مذاہب کے بانی\" جناب الطاف جاوید کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے غیر سامی مذاہب میں آریہ اور زرد اقوام وغیرہ میں جو بانیان مذاہب ہوئے ان کے حالات اور تعلیم کے متعلق معلومات سپرد قلم کی ہیں ۔یعنی اس کتا ب میں چندر کرشن، گوتم بدھ ، مہاویر ، آخن آتوں ، زرتشت ، کنفیوشس، اور سقراط کی اصل الہامی تعلیمات کے متعلق تحقیقی انکشافات پیش کیے گئے ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Altaf Javaid","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707157729504,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Ghai_Sami_Mazahab_k_baani.jpg?v=1755941419"},{"product_id":"sachi-paish-goian","title":"Sachi Paish Goian - سچی پیشن گوئیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eFuture Predictions by Naimatullah Shah Wali\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eTranslated by: Touseef Ahmed Khan\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eنعمت اللہ شاہ ولی کی \"مستقبل کی پیشین گوئیاں\" 15ویں صدی کے صوفی بزرگ سے منسوب پیشین گوئیوں اور پیشین گوئیوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب مستقبل کے ممکنہ واقعات کے بارے میں بصیرت فراہم کرتی ہے، زندگی کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی پیش کرتی ہے، بشمول:\u003cbr\u003e- سیاست: حکمرانی، قیادت، اور عالمی سیاست سے متعلق پیشین گوئیاں۔\u003cbr\u003e- معیشت: معاشی رجحانات، چیلنجز اور مواقع کے بارے میں پیشین گوئیاں۔\u003cbr\u003e- سماجی مسائل: سماجی حرکیات، ثقافتی تبدیلیوں، اور ممکنہ چیلنجوں کی بصیرت۔\u003cbr\u003e- قدرتی آفات: قدرتی آفات اور ان کے اثرات کے بارے میں پیشین گوئیاں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eنعمت اللہ شاہ ولی کی پیشین گوئیوں کو گہرا سمجھا جاتا ہے اور ماہرین نے ان کا تجزیہ کیا ہے، جو تاریخی تناظر اور مستقبل کی ممکنہ تشریحات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے کام کو کتابوں اور ایپس میں مرتب کیا گیا ہے\u003cbr\u003eخیال کیا جاتا ہے کہ پیشین گوئیاں قیمتی بصیرت پیش کرتی ہیں، جو افراد کو ان کے روحانی تعلق اور اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں گہرائی سے سمجھنے کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ ان کی چند قابل ذکر تصانیف شامل ہیں۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Naimatullah Shah Wali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707158024416,"sku":null,"price":730.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Sachi-Paish-Goian-800.jpg?v=1733407403"},{"product_id":"tareekh-o-tehzeeb-e-alam","title":"Tareekh o Tehzeeb E Alam - تاریخ و تہذیب عالم","description":"\u003cdiv id=\"content\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product-blocks blocks-default\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tabs-container product_extra product_tabs product_tabs-default\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tab-content\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product_extra-275 tab-pane active\" id=\"product_tabs-69b7bcfef20d9\"\u003e\n\u003cdiv class=\"block-body expand-block\"\u003e\n\u003cdiv class=\"block-wrapper\"\u003e\n\u003cdiv class=\"block-content\"\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp\u003eزمانہ ما قبل تاریخ تا حال\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"A.Z MANFRED","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707158188256,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Tareekh-o-Tehzeeb-E-Alam-2000.jpg?v=1733407405"},{"product_id":"pakistani-siasat-mein-gadi-nasheeno-ka-kirdar","title":"Pakistani Siasat Mein Gadi Nasheeno Ka Kirdar - پاکستانی سیاست میں گدی نشینوں کا کردار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eپاکیستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار“…… ایک جائزہ\"\u003cbr\u003eپاکستانی سیاست پر لکھنے والوں میں ایک نیا نام جناب ذبیح اللہ صادق بلگن کا ہے۔ ان کی تازہ کتاب ”پاکستانی سیاست…… مذہبی جماعتوں کا کردار (1947ء سے تاحال)“ ہے۔ اسے ”نگارشات“ نے356 صفحات پر شائع کیا ہے۔ کتاب کا بیک پیج بتاتا ہے کہ مصنف کی اس سے پہلے مندرجہ ذیل تین تصانیف منظر عام پر آ چکی ہیں:\u003cbr\u003e٭…… بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ\u003cbr\u003e٭…… پاکستان میں بین الاقوامی مداخلتیں\u003cbr\u003e٭…… پاکستانی جماعتیں اور غیر ملکی فنڈنگ\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eیہ کتابیں میری نظر سے نہیں گزریں۔البتہ مذہبی جماعتوں والی کاوش کا مَیں نے بصد ذوق و شوق مطالعہ کیا ہے۔اس کا بڑا سبب میرا اپنا بچپن سے دینی رجحان ہے۔ پہلے پہل مَیں وہابی سُنی کے جھگڑے بہت دلچسپی سے سنتا اور پڑھتا رہا۔ پھر مولانا مودودیؒ کی تحریروں نے مجھے ایسا جذب کیا کہ مَیں وہ جھگڑے بھول بھال گیا۔اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے وابستگی نے مجھے مذہبی سیاست کو بہت نزدیک سے سمجھنے کا موقع دیا۔مَیں نے جناب بلگن کی کتاب کا جماعت اسلامی والا باب(صفحہ53 تا 108) بغور پڑھا اور اسی پر اظہارِ خیال کر رہا ہوں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eجناب بلگن نے جماعت اسلامی کے نظریات اور حکمت ِ عملی پر جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ اندازِ بیان سے کہیں جانبداری کا گمان نہیں گزرتا،لیکن ایسے موضوعات پر جب قلم اٹھایا جاتا ہے تو اتنا ہی کافی نہیں ہوتا۔فاضل مصنف نے ایک تو حقائق و واقعات کی زیادہ چھان پھٹک نہیں کی۔بس جو ملا اور جیسا ملا اسے ترتیب دے دیا۔ دوسرے، ایسے موضوعات جس قسم کی سنجیدہ اور پختہ زبان چاہتے ہیں وہ بلگن صاحب کو میسر نہیں۔ تیسرے، کتاب لکھنے کے بعد اسے دوبارہ یا سہ بارہ پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔پروف کی ایسی ایسی فاش غلطیاں ہیں کہ پوری کتاب درجہ اعتبار سے گر جاتی ہے، مثلاً صفحہ54 پر مصری عالم قاسم امین بے کا نام ”قاسم دین“ اور مولانا حمید الدین فراہی کا نام مولانا فرید الدین فراہی درج کر دیا ہے۔اگلے صفحہ پر مولانا مودودیؒ کے کتابچہ ”اسلام کا سر چشمہ ئ قوت“ کو ”اسلام کا چشمہ ئ قدرت“ لکھ دیا ہے۔ صفحہ77پر نواب آف کالا باغ کا نام چودھری محمد علی خان رقم کیا ہے۔ اس نوع کی غلطیاں پوری کتاب میں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ صفحہ144 پر مولانا سید ابو الحسنات کو بتکرار مولانا عبدالحسنات لکھا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eبعض مشہور و معروف حقائق کا بُری طرح تیا پانچہ کیا گیا ہے۔ مثلاً لکھا ہے کہ جماعت اسلامی کا تاسیسی اجتماع پٹھان کوٹ میں ہوا تھا،حالانکہ مذکورہ مقام پٹھان کوٹ نہیں، اسلامیہ پارک لاہور تھا۔ایک جگہ لکھتے ہیں:جماعت پر قیام پاکستان کا مخالف ہونے اور اس کے بانی مولانا مودودیؒ پر یہ الزام دہرایا جاتا ہے کہ انہوں نے قائداعظم ؒ کو کافر ِ اعظم قرار دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ در فتنی مجلس احرار کے نامور رہنما مولانا مظہر علی اظہر کی چھوڑی ہوئی تھی۔انہوں نے لاہور میں غلام غوث ہزاروی کی صدارت میں ہونے والے ایک جلسہ عام میں یہ افواہ اڑائی تھی“ (صفحہ63)\u003cbr\u003eفاضل مصنف نے ”در فتنی“ اور ”افواہ اڑانے“ کے الفاظ غیر ذمہ داری سے استعمال کئے ہیں۔اصل واقعہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے لاہور کے ایک جلسہ ئ عام میں مولانا مظہر علی اظہر نے جو مجلس ِ احرار کے صدر تھے،قائداعظم کو کافرِ اعظم کہا تھا اور باقاعدہ اپنا یہ شعر پیش کیا تھا:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eاِک کافرہ عورت کے لئے دین کو بیچا\u003cbr\u003eیہ قائداعظم ہے کہ ہے کافرِ اعظم\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cbr\u003eاسی طرح بلگن صاحب نے ایوب دور کے ادارہ تحقیقات اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر فضل الرحمن کے بارے میں صفحہ78 پر لکھا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے انہیں کافر قرار دلوانے اور انہیں ملک سے باہر نکلوانے کا حکومت سے مطالبہ کیا تھا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ مولانا نے ڈاکٹر صاحب کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا اور نہ یہ کہا کہ انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔ ایسے فتوے دینا اور مطالبے کرنا مولانا مودودیؒ کے مزاج کے خلاف تھا۔\u003cbr\u003eمذہبی جماعتوں اور ان کے اندر سے پھوٹنے والی گروہ بندیوں کی تفصیلات بلاشبہ قاری کے سامنے مذہبی سیاست کے خدوخال کو نمایاں کر دیتی ہیں۔اس اعتبار سے معلومات کافی محنت سے اکٹھی کی گئی ہیں۔البتہ جماعتوں کے قیام کے پیچھے کار فرما خفیہ ہاتھوں کا بہت کم ذکر کیا گیا ہے،حالانکہ خفیہ ہاتھوں نے صرف اسلامی جمہوری اتحاد ہی نہیں بنوایا تھا اور بھی بہت کچھ انجام دیا تھا،کاش کوئی طاقتور قلم ان ہاتھوں کو جرأت کے ساتھ بے نقاب کر دے!\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eخوب کیا ہے زِشت کیا ہے،\u003cbr\u003eجہاں کی اصلی سرشت کیا ہے\u003cbr\u003eبڑا مزہ ہو تمام چہرے\u003cbr\u003eاگر کوئی بے نقاب کر دے\u003cbr\u003e(حفیظ جالندھری)\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eذوالفقار علی بھٹو کے عہد ِ حکومت میں اپوزیشن جماعتوں نے ”متحدہ جمہوری محاذ“ نام سے ایک اتحاد ضرور قائم کیا تھا،لیکن فاضل مصنف کا یہ کہنا کہ ”آخر کار تنگ آ کر حکومت نے1975ء میں اس اتحاد پر پابندی عائد کر دی اور عدالت نے پابندی برقرار رکھی ”سرا سر خلافِ واقعہ ہے۔مزید لکھتے ہیں کہ ”عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اتحاد کی مرکزی و صوبائی قیادت کی اسمبلیوں سے رکنیت کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا“۔ (ص86:)اسی طرح صفحہ91 پر یہ جو رقم فرمایا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد سے مشاورت کے نتیجے میں مجلس شوریٰ قائم کی تھی، معلوم نہیں مصنف کا ذریعہ معلومات کیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eخالد ہمایوں\u003c\/p\u003e","brand":"Zabeeh Ullah Balaggan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707160678624,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Pakisani-Siasat-Mein.jpg?v=1733407440"},{"product_id":"ap-beti-set","title":"Ap Beti Set","description":"","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707161596128,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Ap-Beti-Set-1350.jpg?v=1733407454"},{"product_id":"hamo-rabi-aur-babli-tehzeeb","title":"Hamoorbi Aur Babli Tehzeeb Wa Tamaddun","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eحموربی اٹھارویں صدی قبل مسیح میں قدیم بابل کے پہلے شاہی خاندان کا چھٹا اور سب سے مشہور بادشاہ گزرا ہے۔ سمیر اور اکاد “جنوبی عراق‘‘ کی شہری ریاستوں کو اپنی قلمرو میں شامل کیا اور لرسا کے ایلمی بادشاہ کو شکست دے کر اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ مگر فتوحات سے زیادہ اپنے ضابطہ قوانین کے لیے مشہور ہے۔ حموربی کا قانونی ،آئینی اور اخلاقی ضابطہ دنیا کا سب سے قدیم ضابطہ ہے۔\"حمورابی کا ضابطہ قانون انسانی تاریخ میں پہلی قانونی دستاویز مانی جاتی ہے ، جس میں قوانین کو تحریراً ایک مکمل ضابطے کی صورت میں پیش کیا گیا۔اس کی تاریخ تخلیق 18ویں صدی قبل مسیح بتائی جاتی ہے۔ اس ضابطے میں 282قوانین شامل ہیں،جنہیں بارہ الواح پر لکھا گیا۔اسے تحریری صورت میں8 فٹ بلند پتھر کے ستونوں پر کندہ کرایاگیا ،جنہیں بابل اورمیسوپوٹیمیاکے دیگرشہروں کے بڑے چوکوں میں نصب کروا یا گیا تاکہ ہر خاص و عام کی رسائی میں آسکے اور عوام کی زیادہ سے زیادہ تعداد ان سے آگاہ ہوسکے \"حموربی اور بابلی تہذیب وتمدن\"حموربی کے نظریات ، قانون اور قدیم بابلی گم گشتہ تہذیب و ثقافت کی بیش بہا معلومات کا خزانہ ہے۔ مالک رام نے یہ کتاب مولوی عبد الحق کے کہنے پر لکھی۔ اور انھوں نے حموربی کے \" قانون\" کا ترجمہ کرنے کو کہا۔ پھر اس حوالے سے کچھ مضامین رسالے \"تاریخ اور سیاسیات\" میں شائع بھی ہوئے۔ مگر یہ رسالہ ناپید ہو گیا۔ زیر نظر کتاب میں مالک رام نے اسےدنیا کی قدیم قانونی دستوری دستاویز قرار دیا ہے۔ حموبی کا قانون کم وبیش تقریبا دو ہزار برس تک نہ صرف بابل(سومر اور اکدا) ہی میں ، بلکہ ایشیائے کوچک اور وسط ایشیا کے بہت سے خطے میں بھی نافذ رہا۔اس کتاب کو پانچ ابواب میں منقسم کیا گیا ہے:۔ قانون حموربی۔ حموربی کون تھا؟ بابلی تہذیب و تمدّن۔ بابلی مذہب و معتقدات اور بابلی زبان وادبیات ۔\u003c\/p\u003e","brand":"Malik Ram","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707165593824,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Hamo-Rabi-Aur-Babli-Tehzeeb-1000.jpg?v=1733407521"},{"product_id":"islamic-sultanatain","title":"Islami Sultanatain - اسلامی سلطنطیں","description":"","brand":"C.E. Bossworth; Yasir Jawad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707165757664,"sku":null,"price":560.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Islamic-Sultanatain-800.jpg?v=1733407523"},{"product_id":"jun-nama","title":"Jang Nam - جنگ نامہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"جنگ نامہ\" سید فخر کاکاخیل کی ایک فکر انگیز کتاب ہے جو پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔ مصنف، ایک تجربہ کار صحافی جس کے پاس خطے کا احاطہ کرنے کا تقریباً تین دہائیوں کا تجربہ ہے، مذہبی عسکریت پسندی کے عروج، ارتقا اور اثرات کے بارے میں ایک اہم نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eکتاب کی اہم خصوصیات\u003cbr\u003e- صحافتی بصیرت: کاکا خیل کا وسیع تجربہ اور زمینی رپورٹنگ بیانیہ میں ایک منفرد نقطہ نظر لاتی ہے، جو اسے تشدد، نظریے اور جغرافیائی سیاست کے الجھے ہوئے جال کو سمجھنے کے لیے ایک ضروری مطالعہ بناتی ہے۔\u003cbr\u003e- تاریخی گہرائی: کتاب عسکریت پسندی کے تاریخی سیاق و سباق کی کھوج کرتی ہے، اس کی جڑوں اور وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء کا پتہ لگاتی ہے، جس میں عبداللہ یوسف عزام اور ابو مصعب الزرقاوی جیسی اہم شخصیات کا اثر بھی شامل ہے۔\u003cbr\u003e- علاقائی فوکس: کاکاخیل نے پاکستان اور وسیع تر خطے پر عسکریت پسندی کے اثرات کا جائزہ لیا، بشمول چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبے اور افغان نژاد وسطی ایشیائی عسکریت پسند گروپوں کے کردار۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Fakhar Kakakhail","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707166052576,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Jung-Nama.jpg?v=1733407528"},{"product_id":"mera-palistine","title":"Mera Flastein - میرا فلسطین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eابھی بھی فلسطینی سوال کا ایک بنیادی اور ناگزیر بیان، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین پیش رفت کو شامل کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے- انتفادہ سے لے کر خلیجی جنگ تک میڈرڈ میں ہونے والی تاریخی امن کانفرنس تک۔\u003c\/p\u003e","brand":"Edward W Said","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707166445792,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Mera-Falastine.jpg?v=1733407534"},{"product_id":"musalamano-ka-siasi-urooj-o-zawal","title":"Muslamano Ka Siasi Arooj O Zawal - مسلمانوں کا سیاسی عروج و زوال","description":"\u003cdiv class=\"product-blocks blocks-default\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tabs-container product_extra product_tabs product_tabs-default\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tab-content\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product_extra-275 tab-pane active\" id=\"product_tabs-69ac124ac5bdd\"\u003e\n\u003cdiv class=\"block-body expand-block\"\u003e\n\u003cdiv class=\"block-wrapper\"\u003e\n\u003cdiv class=\"block-content\"\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eگزشتہ ڈیڑھ ہزار سال کے دوران دنیا پھر میں اسلامی حکومتوں کے قیام و استحکام اور شکست و ریخت  پر ایک مستند تحقیق\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Karen Armstrong","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707166642400,"sku":null,"price":560.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Musalamano-Ka-Siasi-Urooj-o-Zawal-800.jpg?v=1733407536"},{"product_id":"pakistan-par-mafia-ka-qabza","title":"Pakistan Par Mafia Ka Qabza - پاکستان میں مافیاز کا قبضہ اور بیانیہ کی جنگ","description":"\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکس طرح مافیا اور 100-150 خاندان نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں بلکہ انہیں جانوروں\/نوروں کے برابر سمجھتے ہیں اور پاکستان میں جمہوریت کے نام پر رینگنے والے جانوروں کی طرح مرنا ہماری زندگی کا مقدر ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Ch. Muhammad Saleem","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707166740704,"sku":null,"price":1250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Pakistan-Par-Mafia.jpg?v=1733407538"},{"product_id":"saam-vaid","title":"Saam Vaid - سام وید","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکسی بھی مذہب کو جاننا اور اس کے اصول و عقائد کو پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مذہبی جذبات کو جان اور سمجھ سکیں۔ ہندو مذہب ایک قدیم مذہب ہےجس میں ظاہر اور پوشیدہ دونوں طرح کے خداؤں کی پرستش کی جاتی ہے جہاں ہر اوتار کسی نہ کسی خدا کا عکس ہوتا ہے۔ ہندو دھرم کے بارے کم وقت میں زیادہ جاننے کے لئے نہایت ہی مفید کتاب\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Maharshi Dayanand Saraswati","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707167035616,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Saam-Vaid.jpg?v=1733407542"},{"product_id":"seerat-e-ghous-e-azam","title":"Seerat E Ghous E Azam - سیرت سیدنا حضرت غوث اعظم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eدنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الله تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی، اصلاح و فلاح کے لئے مخصوص طور پر منتخب فرماتا ہے۔ یہ لوگ صرف عبادت گزار ہی نہیں ہوتے بلکہ ان کی زندگی علم و معرفت، زہد و تقویٰ، ایثار اور قرب الٰہی کا ایک ایسا پیکر ہوتی ہے کہ ان کے وجود سے نہ صرف ایک زمانہ فیض یاب ہوتا ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے فیوض و برکات سے روشنی حاصل کرتی ہیں۔ یہ الله تعالیٰ کے بندے معاشرے کے لئے مشعلِ راہ، ان کی باتوں میں دلوں کو سکون، ان کی مجلسوں میں روحانیت اور ان کے وجود سے ایمان کو جِلا ملتی ہے۔ ایسے ہی عظیم المرتبت ولی کامل، عارف باالله، علم و حکمت کا مینار، زہد و تقویٰ کا پیکر اور ولایت کے تاجدار جنہیں دنیا پیرانِ پیر، غوث الاعظم، قطب الاقطاب، شیخ المشائخ اور سلطان الاولیاء جیسے عظیم القابات سے یاد کرتی ہے۔ وہ عظیم شخصیت حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی الله عنہ کی ہے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ پوری دنیا میں عقیدت و محبت اور احترام کی علامت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Abdul Salik","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707167166688,"sku":null,"price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Seerat-E-SGA-500.jpg?v=1733407544"},{"product_id":"yajar-vaid","title":"Yajar Ved - یجر وید","description":"\u003cdiv id=\"shopify-section-template--18810817380576__1643864123b4b20033\" class=\"shopify-section\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product-description-review-area pb-120\" id=\"section-template--18810817380576__1643864123b4b20033\"\u003e\n\u003cdiv class=\"container\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product-description-review tab-slider-wrapper product-description-review-container  section-space--inner\"\u003e\n\u003cdiv class=\"description-review-text tab-content\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tab-pane active\" id=\"pro-dec\" role=\"tabpanel\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product-description\"\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکسی بھی مذہب کو جاننا اور اس کے اصول و عقائد کو پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مذہبی جذبات کو جان اور سمجھ سکیں۔ ہندو مذہب ایک قدیم مذہب ہےجس میں ظاہر اور پوشیدہ دونوں طرح کے خداؤں کی پرستش کی جاتی ہے جہاں ہر اوتار کسی نہ کسی خدا کا عکس ہوتا ہے۔ ہندو دھرم کے بارے کم وقت میں زیادہ جاننے کے لئے نہایت ہی مفید کتاب\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"tab-pane fade\" id=\"pro-review\" role=\"tabpanel\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"tab-pane\" id=\"-d13aae25-1a97-4c35-9405-39accbdc2ace\" role=\"tabpanel\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product-description\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Maharshi Dayanand Saraswati","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707167822048,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Yajar-Vaid.jpg?v=1733407555"},{"product_id":"arth-shahstar","title":"Arth Shahstar - ارتھ شاستر","description":"\u003cp\u003eہندوستان کے کلاسیکی ذہنوں میں سے ایک کے ذریعہ ریاستی دستکاری اور زندگی گزارنے کی سائنس پر ایک غیر معمولی تفصیلی کتابچہ؛ کوٹیلیہ؛ چانکیہ اور وشنو گپت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ارتھ شاستر 150 عیسوی کے بعد لکھا حالانکہ اس کی تاریخ حتمی طور پر قائم نہیں کی گئی ہے۔ روایت ہے کہ وہ یا تو کیرالہ کا برہمن تھا یا شمالی ہندوستان سے۔ تاہم؛ یہ بات یقینی ہے کہ کوٹیلیہ ہی وہ شخص تھا جس نے نندا خاندان کو تباہ کیا اور چندرگپت موریہ کو مگدھ کا بادشاہ بنایا۔ ایک ماہر حکمت عملی جو ویدوں سے اچھی طرح واقف تھا اور سازشیں کرنے اور سیاسی حکمت عملی وضع کرنے میں ماہر تھا۔ کوٹیلیہ کی ذہانت اس کے ارتھ شاستر میں جھلکتی ہے جو کہ کلاسیکی دور کے ریاستی دستکاری کا سب سے جامع مقالہ ہے۔\u003cbr\u003eارتھا; لفظی دولت؛ ہندو روایت کے ذریعہ تجویز کردہ چار اعلیٰ مقاصد میں سے ایک ہے۔ تاہم؛ اس کی بہت وسیع اہمیت ہے اور افراد کی مادی بہبود اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے مطابق؛ کوٹیلیہ کا ارتھ شاستر اس بات کو برقرار رکھتا ہے کہ کسی ملک کی ریاست یا حکومت کا ملک اور اس کے عوام دونوں کی مادی حیثیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ لہذا؛ ارتھ شاستر کا ایک اہم حصہ معاشیات کی سائنس سے متعلق ہے۔ جب یہ سیاست کی سائنس سے متعلق ہے؛ ارتھ شاستر حکومت کے فن کو اس کے وسیع معنی میں تفصیل سے بیان کرتا ہے - امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک موثر انتظامی مشینری بھی۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Acharya Kautilya Chanakya","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46707169591520,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/Arth-Shahstar.jpg?v=1733407579"},{"product_id":"akbar-ka-hindustan","title":"Akbar Ka Hindustan","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: اکبر کا ہندوستان۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 800\u003cbr\u003eمغل دور حکومت میں یہاں عیسائی مشنری آنا شروع ہو گئے تھے۔ عام لوگوں میں تبلیغ کے بجائے اُن کا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ حکمراں کو عیسائی بنالیں تو باقی رعایا بھی اُس کی تقلید کرے گی۔ اکبر کے دور حکومت میں گوا سے عیسائی مشن آیا تا کہ اکبر کو عیسائی بنانے کی کوشش کی جائے ۔ اکبر کو بھی مختلف مذاہب کے بارے میں جانے کا شوق تھا۔ اُس نے فتح پور سیکری میں عبادت خانے کی تعمیر کرائی تھی اور مختلف مذاہب کے علما کو بلا کر اُن سے اُن کے مذہب کے بارے میں معلومات حاصل کرتا تھا۔ عیسائی مشنری بھی ان محفلوں میں شریک ہو کر عیسائیت کے بارے میں تقریریں کرتے تھے لیکن ساتھ ہی میں اسلام پر سخت تنقید بھی کرتے تھے۔ اُن کی اس تنقید کو مغل امرا اکبر کی وجہ سے برداشت کر لیتے تھے۔ اس مشن کا ایک رکن مونسیراٹ تھا جس نے واپس جاکر اکبر کے دربار کے حالات لکھے۔ عیسائی مشنریز کو اس میں تو کامیابی نہیں ہوئی کہ وہ اکبر کا مذہب بدل سکے لیکن اُس نے اکبر کے دربار میں جو کچھ دیکھا اور اکبر کے ساتھ کاہل کے سفر میں بھی شریک رہا۔ واپسی پر لاہور میں بھی قیام کیا۔ اُس نے اکبر کے بارے\u003cbr\u003eمیں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، اُس سے اکبر کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں ۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892056117472,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0027_f4f4e6f9-8764-40fa-b689-60f415c24b7e.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"akhri-ahd-e-mughlia-ka-hindustan","title":"Akhri Ahd-e-Mughlia Ka Hindustan","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: آخری عہد مغلیہ کا ہندستان۔\u003cbr\u003eمعنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 800\u003cbr\u003eمقل زوال کے آثار اور نگ زیب کے عہد حکومت ہی میں شروع ہو چکے تھے۔ میل امرا کے پاس\u003cbr\u003eبے استہ دولت تھی۔ وہ اپنی دولت کی حفاظت کے لیے جنگ و جدل سے دُور رہنا چاہتے تھے ۔ عیاشی کی زندگی نے ان کی اہلیت اور لیاقت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بد عنوانی اور رشوت کا دور دورہ تھا۔ جب 1707ء میں اور نگ زیب کی وفات ہوئی تو پہلے ہوئے جھگڑے اور فسادات سامنے آگئے۔ مغل شہزادوں میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوا جس نے سیاسی استحکام کو تم کیا اور سازشوں کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب مغل سلطنت کمزور ہوئی تو بغاوتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ مرہٹے، جائے ، سکھ اور روہیلوں نے اپنے اقتدار کے لیے جنگوں کا سہارا لیا۔ مسلسل جنگوں نے یہ شہر یوں کو کوئی تحفظ دیانہ کسانوں کو امن\u003cbr\u003eکے ساتھ کھیتی باڑی کرنے دی۔ تجارتی راستے بھی غیر محفوظ ہوگئے ۔ جب مغل بادشاہ کی حکومت لال قلعے تک محدود ہو گئی تو کئی کئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں جن میں خاص طور سے اودھ ، بنگال، مرشد آباد اور وکن کی سلطنتیں تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لگان کی وہ رقوم جو ان علاقوں سے آتی تھیں وہ آنا بند ہو گئیں، جس کی وجہ سے دہلی دربار کی آمدنی ختم ہوئی لیکن نئی ریاستوں میں دولت کی بہتات ہوگئی۔ اب مغل درباری کھیر کی بجائے نیار یاستی گھر اودھ ، بنگال اور دکن میں تشکیل ہوا ۔\u003cbr\u003eیہ وہ حالات تھے جب 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی تیاب ہوئی۔ پھر اس کی\u003cbr\u003eفتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو پورا ہندوستان اُس کے تسلط میں آگیا۔ مغل بادشاہ کی نہ کوئی طاقت رہی اور نہ ہی اُس کے پاس مالی وسائل رہے۔\u003cbr\u003eجب بڑی بڑی سلطنتیں ٹوٹتی ہیں تو مسلح جماعتیں لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر دیتی ہیں۔ سہی کچھ آخری عہد مغلیہ میں ہوا۔ تھنگ ، ڈاکو اور پنڈاری ملک میں لوٹ مار کرنے لگے ۔ نہ تاجروں\u003cbr\u003eکو تحفظ رہا اور نہ عام لوگوں کی عزت محفوظ رہی۔ یہ وہ حالات تھے کہ جب ایسے اللہ یا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے اقتدار\u003cbr\u003eکو قائم کیا۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892057329888,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0023_613364ad-b8cd-4473-b4c7-4b0c74944783.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"bare-e-sakheer-mein-musalman-mashra-ka-almia","title":"Bare-e-Saghir mein Musalman Mashra ka Almia","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: برصغیر میں مسلمان معاشرہ کا المیہ \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eبرصغیر انڈو پاک میں مسلمان بہ حیثیت حملہ آور، تاجر اور مہاجرین کی حیثیت سے آئے۔ یہاں\u003cbr\u003eآباد ہو کر خود کو ہندوستانی بنایا۔ لیکن مسلمان معاشرہ کبھی متحد نہیں رہا۔ ذات پات اور فرقہ وارانہ\u003cbr\u003eشناختوں کی وجہ سے یہ ٹکڑوں میں بٹا رہا۔ جغرافیائی طور پر بھی مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی بولی جانے والی زبان اور کلچر میں فرق رہا۔\u003cbr\u003eبرطانوی عہد میں مسلمان را ہنماؤں نے کوشش کی کہ مذہب کی بنیاد پر ان کو متحد کیا جائے لیکن\u003cbr\u003eاسی کے ساتھ ان میں عالم اسلام سے تعلق کی ابتداء ہوئی۔ جس کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں\u003cbr\u003eنے بھی خود کو وہابی تحریک میں الجھایا اور کبھی خلافت تحریک میں حصہ لیا۔ اس کی وجہ سے یہ ذہنی طور پر سیاسی انتشار کا شکار ہو گئے۔ اس کے علاوہ مسلم شناخت اور ہندوستانی شناخت کے درمیان کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ اس مختصر کتاب میں اسی ذہنیت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892057428192,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0025_feca0055-b562-4a82-954f-cc8806d445d0.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"brtanvi-raaj","title":"Brtanvi Raaj","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: برطانوی راج۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eپاکستان میں برطانوی راج اور اُس کے اثرات کو پوری طرح سے نہیں سمجھا گیا۔ اس لیے لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ برطانوی دور حکومت میں انصاف تھا، لوگوں کے حقوق کا تحفظ تھا اور ریاست کے ادارے جن میں فوج، پولیس اور سیاسی عہد یدار شامل تھے ، وہ عوام کی خدمت کرتے تھے ۔ رشوت اور نمین\u003cbr\u003eمیر با ادارے کم سے کم ملوث تھے۔ سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مخبری کے کئی ادارے تھے ۔ عدلیہ آزاد اور خود مختار تھی ۔ ملک میں امن و امان تھا۔ قانون کی بالا دستی تھی۔\u003cbr\u003eبرطانوی حکومت کے بارے میں یہ ایک رومانوی داستان ہے۔ اُس کے جن پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ ریاست کا جبر تھا۔ آزادی پر پابندیاں تھیں ۔ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے برطانوی حکومت نے جو اقدامات کیے اُن میں ریاستوں کا خاتمہ تھا۔ معاہدوں کی خلاف ورزیاں تھیں۔ زمینداروں کے طبقے کو تشکیل دینا تھا تا کہ اُس کے ذریعے عام لوگوں کو قابو میں رکھا جائے ۔ ٹیکسوں کی سختی\u003cbr\u003eسے وصولی کی جاتی تھی اور ہندوستان کی دولت کو سمیٹ کر انگلستان لے جایا جاتا تھا۔ ہندوستان کی صنعت و حرفت کو ختم کیا گیا۔ خاص طور سے کپڑے کی صنعت کو تا کہ انگلستان کا مال یہاں فروخت ہو سکے۔ تعلیم کے ذریعے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا گیا جس نے حکومت کی مدد کی اور اپنے ہی لوگوں کو اُن کا\u003cbr\u003eغلام بنایا۔\u003cbr\u003eبرطانوی راج کو آج اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ آزادی کے بعد ہمارے حکمراں طبقے نے ملک کی\u003cbr\u003eاصلاح کے لیے یا اُسے جدید حالات کے لیے تیار نہیں کیا۔ نا اہلی، کرپشن، ذاتی مفادات اور اقتدار کے\u003cbr\u003eغلط استعمال نے معاشرے کو ایک کے بعد ایک بحرانوں میں مبتلا کیا اور اب لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آزادی نے چند خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جبکہ ملک کی اکثریت غربت ، مایوسی اور بے بسی کا شکار ہے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892057952480,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0028_602d91c7-707f-4a52-b2b2-716d1fb8ba8b.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"ghulami-aur-nasal-parasti","title":"Ghulami Aur Nasal Parasti","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: غلامی اور نسل پرستی\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eقدیم زمانے میں جنگی قیدیوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے اس لئے یونانی ، رومی اور مسلمانوں میں غلامی کا رواج تھا اور اُس کو اخلاقی طور پر جائز بھی سمجھا جاتا تھا لیکن امریکہ میں غلامی کی ایک اور ہی شکل پیدا ہوئ کیونکہ جو یورپی آبادکار یہاں آئے اُنھوں نے ریڈ انڈینز کی زمینوں پر قبضہ کیا تا کہ وہاں کاشت کاری کر سکیں اس کے لئے اُنھیں بڑی تعداد میں غلاموں کی ضرورت\u003cbr\u003eتھی لہذا یہ غلام افریقہ سے لائے گئے اور یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہو گیا۔\u003cbr\u003eافریقی غلاموں کو جہازوں میں بھر کر لایا جاتا تھا اور جب یہ امریکہ میں کسی بندرگاہ میں پہنچتے تھے تو ان کی گردنوں میں لوہے کے پٹے ڈال دیے جاتے تھے۔ پیروں میں زنجیریں ہوتیں تھیں۔ بندرگاہ سے قریبی شہر تک انھیں پیدل چلا کر لے جایا جاتا تھا۔ شہروں میں غلاموں کی منڈیاں ہوتی تھیں جہاں بڑے کھیتوں کے مالک انھیں خریدنے کے لئے آتے تھے۔ خرید کے وقت بیٹی کو ماں سے، بیٹے کو باپ سے اور شوہر کو بیوی سے جدا کر دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد یہ خریدار کی ملکیت ہو جاتے تھے۔ وہ انھیں جنوب کی ریاستوں میں لے جاتے تھے۔ جہاں کاٹن، تمباکو اور گنے کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں یہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتے تھے اور ان کے آرام کا کوئی وقت نہیں ہوتا تھا۔ برطانیہ میں کاٹن کی مانگ بڑھ گئی تھی کیونکہ لیور پول اور مانچسٹر میں کپڑے کی ملیں کپڑا تیار کر کے یورپ اور ایشیا کی منڈیوں میں\u003cbr\u003eفروخت کر رہے تھے۔\u003cbr\u003eچونکہ غلاموں کے ساتھ بے حد ظلم کیا جاتا تھا۔ انہیں اذیتیں دیں جاتی تھیں۔ لوہے کا پٹہ ان کی گردن میں ہوتا\u003cbr\u003eتھا جس پر مالک کا نام درج ہوتا تھا۔ کاٹن کے کھیت میں پھول چننے کے لیے ایک خاص کوٹہ ہوتا تھا۔ اگر وہ پورا نہ ہوتا تو انھیں سزا دی جاتی تھی۔ ان کو سزا دیتے وقت سفید فام مالک کے دل میں کوئی رحم نہیں آتا تھا۔ افریقی غلاموں کے بارے میں خیال یہ تھا کہ ان کی نہ تو کوئی روح ہوتی ہے اور نہ ہی ان میں جذبات اور احساسات ہوتے ہیں۔ اس رویے نے سفید فام لوگوں میں نسلی برتری کو پیدا کیا تاکہ وہ افریقیوں پر اپنا تسلط قائم کرسکیں۔\u003cbr\u003eاگرچہ افریقیوں کو عیسائی تو بنا لیا گیا مگر اس کے باوجود انھیں کمتر ہی سمجھا گیا اور چرچ میں بھی عبادت کے وقت یہ سفید فاموں سے علیحدہ رہتے تھے۔ امریکہ میں افریقی غلاموں نے جس نفرت اور تعصب کو برداشت کیا ہے اُس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔\u003cbr\u003eموجودہ دور میں امریکی افریقی اپنی یاداشتیں لکھ رہے ہیں جن سے سفید فام لوگوں کے رویوں اور رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی میں افریقی اپنے دُکھ بھی اور تعصبات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892058444000,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0012_7d38d51b-d326-4a3f-86cf-349ba0cc9720.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"hindustan","title":"Hindustan","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"780\" style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"780\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" dir=\"RTL\" align=\"right\" width=\"780\" style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\"\u003eکتاب کا نام: ہندوستان \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eہندوستان میں تہذیب کی ابتداء اگرچہ وادی سندھ کی تہذیب سے ہوئی لیکن یہ تہذیب حادثات کے\u003cbr\u003eہاتھوں زوال کا شکار ہو کر مٹی میں مدفون ہو گئی۔ ہندوستان کی تاریخ آریاؤں کی آمد سے شروع ہوتی ہے جو 1500 قبل مسیح میں ہندوستان میں آنا شروع ہوئے تھے ۔ 1920 عیسوی میں جب ہر پہ اور موہنجو داڑو دریافت ہوئے تو تاریخ\u003cbr\u003eکی ابتداء 5000 قبل مسیح سے شروع ہو گئی۔ آریاؤں کی تہذیب کی بنیاد مذہب اور فلسفے پر تھی۔ ان کے ویدک عہد میں مذہبی کتابوں کا ذکر ہے۔ جن سے ان کے مذہبی عقیدے کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ اسی عہد میں ہندوستان مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوا۔ ان کی آپس کی جنگیں تاریخ کا اہم موضوع ہیں۔\u003cbr\u003eتیرویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی۔ یہ اپنے ساتھ نیا طرز تعمیر نئی صنعتیں اور آب پاشی کے نئے نظام کو ساتھ میں لائے۔ ترکوں کی حکومت نے ہندوستان کی سیاست کو بدل ڈالا اور ایک لحاظ سے\u003cbr\u003eہندوستان قدیم عہد سے جدید دور میں آیا۔\u003cbr\u003eسلاطین کے بعد ہندوستان میں مغلوں کی حکومت قائم ہوئی۔ مغلوں کے شہنشاہ اکبر نے تمام مذاہب کو آپس میں ملایا اور رواداری کی پالیسی کو اختیار کیا۔ مغل دور ہی میں فتوحات کے ذریعے ہندوستان کو سیاسی طور پر متحد کیا۔ یہ دور اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں ادب، آرٹ ہتعمیرات موسیقی اور ادب آداب کی روائتیں قائم ہوئیں ۔\u003cbr\u003eمغل زوال کے بعد یہاں برطانوی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ انگریز اپنے ساتھ یورپی تہذیب اور اس کے علوم وفنون کو اپنے ساتھ لائے ۔ انگریزوں کی آمد نے ہندوستان کے سماج کو بدل ڈالا اور اشرافیہ کا ایک ایسا طبقہ پیدا\u003cbr\u003eہوا جو مغربی تعلیم یافتہ تھا اور مغرب کی تہذیب کو اختیار کر چکا تھا۔ ان کی مدد سے انگریزوں نے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم\u003cbr\u003eکیا اور یورپی تہذیب کو ہندوستان میں روشناس کرایا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جدید طبقہ جو\u003cbr\u003eیورپی تہذیب کا حامی تھا اور اکثریت جو قدامت پرست تھی اور جن کی اپنی ہی دنیا تھی۔ انگریزوں کے جانے کے بعد بھی\u003cbr\u003eبرصغیر ہندوستان میں یہ تقسیم جاری رہی۔\u003cbr\u003e1. Qadeem Hindustan\u003cbr\u003e2. Ohd E Wasta Ka Hindustan\u003cbr\u003e3. Bartanvi Hindustan\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892060508384,"sku":"","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0015_48bc132f-2156-4a07-a98a-d9e168431870.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"jageerdari","title":"Jageerdari","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: جاگیر داری\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eقدیم زمانے میں زرعی زمین کی اہمیت ہوا کرتی تھی ، کیونکہ پیداوار اور لگان آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ بادشاہ اپنے وفادار اُمرا کو زرعی زمین بطور جا گیر دیا کرتا تھا تا کہ وقت ضرورت وہ اُس کی مالی اور فوجی مدد کرے ۔ مختلف سلطنتوں میں جاگیر کی مختلف شکلیں ہوا کرتیں تھیں۔ کہیں جاگیر موروثی ہوتی تھی جو ایک ہی خاندان کے افراد میں منتقل ہو جاتی تھی۔ اگر جاگیر کے کئی حصے دار ہوتے تھے تو اُسے ان میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ وقت کے ساتھ جاگیردار خاندان کا خاتمہ ہو جاتا تھا۔ اس کو روکنے کے لئے یورپ میں یہ قانون بنایا گیا ، کہ جائیداد کا وارث بڑا لڑکا ہوگا۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eہندوستان میں بادشاہ زمین کا مالک ہوتا تھا۔ کسی بھی امیر کو جاگیر خاص وقت کے لئے دی جاتی تھی۔ اُس کی جاگیر کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ اُس کے ریٹائر ہونے یا مرنے پر جاگیر دوبارہ سے بادشاہ کے پاس آجایا کرتی تھی۔ لہذا جاگیر داروں کا کوئی مستقل طبقہ نہیں تھا۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eجب ہندوستان میں برطانوی حکومت قائم ہوئی تو اُس نے جاگیرداروں کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا اور جاگیر کونجی بنا دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وفادار جاگیردار طبقہ برطانوی حکومت کا وفادار رہے اور وقت ضرورت اُن کی مالی امداد بھی کرتا رہے۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eبرصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان کی حکومت نے جاگیرداری اور مقامی ریاستوں کو ختم کر دیا۔ لیکن پاکستان میں موروثی جاگیردار خاندان باقی رہے جو آج بھی ملک کی سیاست، معیشت اور عام لوگوں پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہیں۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892061753568,"sku":"","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0021_eea9d8aa-fbc4-45da-bfb0-1343a9d8280f.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"jahangir-ka-hindustan","title":"Jahangir Ka Hindustan","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: جہانگیر کا ہندوستان \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eمغل دور حکومت میں یورپی سیاحوں کی بڑی تعداد آئی۔ان کا مقصد ہندوستان سے تجارت کرنا تھا اور اُن حالات کا جائزہ لینا تھا جو اُن کے لیے سہولت کا باعث ہو۔ لیکن یہ سیاح ہندوستان کے معاشرے، نظام حکومت اور اُس کے تجارتی شہروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے تھے۔ جہانگیر یورپی سیاحوں کو خوش آمدید کہتا تھا اور\u003cbr\u003eاُن سے فرمائش کرتا تھا کہ یورپی آرٹسٹوں کی پینٹگز لے کر آئیں جن کا وہ بڑا شائق تھا۔\u003cbr\u003eیورپی سیاحوں کے لیے ہندوستان ایک اجنبی ملک تھا۔ جس کی تہذیب اور کلچر یورپ سے مختلف تھی۔ اس لیے وہ ہندوستانی معاشرے کو ناقدانہ نقطۂ نظر سے دیکھتے\u003cbr\u003eتھے اور یہاں ماحول کا عادی ہونے کے لیے انھیں کافی وقت لگتا تھا۔\u003cbr\u003eواپس جا کر جب یہ ہندوستان کے بارے میں اپنی یادداشتیں لکھتے تھے تو یورپ کے لوگ اُنھیں بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہندوستان سے سیاح یورپی ملکوں میں نہیں جاتے تھے۔ اس لیے یورپ کے بارے میں ہندوستان کے لوگوں کو اُن کی تہذیب اور کلچر کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں۔\u003cbr\u003eاس مختصر کتاب میں ڈچ سیاح نے جو جہانگیر کے عہد میں ہندوستان آیا تھا یہاں کے رسم ورواج ، نظام حکومت اور لوگوں کی عادات کے بارے میں ذکر کیا ہے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892062703840,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0014_99c4f2da-7d0b-4682-a4e1-d8770b0c2edd.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"muhghal-darbar","title":"Muhghal Darbar","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: مغل دربار۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 800\u003cbr\u003eیہ بات 1987ء کی ہے جب نگارشات لاہور نے میری کتاب \"مغل دربار\" کا پہلا ایڈیشن چھاپہ تھا۔ اس کے بعد اس کے مختلف ایڈیشنز شایع ہوتے رہے۔ اب یہ نیا ایڈیشن ترمیم و اضافے کے بعد ایک بار پھر نگارشات سے بہتر شکل میں چھپا ہے۔\u003cbr\u003e\"مغل دربار\" کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں دربار کی رسومات، ادب و آداب، مذہبی تہوار کا انعقاد، شاہی خاندان کے جلسے و جلوس، مغل خاندان کی لائبریری اور اُمراء کے ساتھ دربار خاص کی محفلیں، دربار عام میں عام لوگوں کی رسائی، ان سب نے مل کر مغل کلچر کو پیدا کیا تھا۔\u003cbr\u003eاس کے مقابلے میں عام لوگوں کا بازاری کلچر تھا، بازار میں نہ صرف شہر کے لوگ ہوتے تھے بلکہ قصبوں اور گاؤں سے دیہاتی بھی آتے تھے جو اپنی اپنی زبانیں بولتے تھے جبکہ فارسی اشرافیہ کی زبان تھی۔\u003cbr\u003e\"مغل دربار\" کے اد مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کی اشرافیہ اور عوام میں کلچر کا جو فرق ہے وہ آج بھی جاری ہے۔ آج بھی اشرافیہ عام لوگوں کو اپنی دولت اور شان و شوکت سے متاثر کرتی ہے اور انہیں کمتری کا احساس دلاتی ہے، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا درباری کلچر پر غالب آگیا ہے اور عام لوگوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔\u003cbr\u003eاب میری تمام کتابوں کی اشاعت آہستہ آہستہ نگارشات کی جانب سے ہوگی لیکن اس کے ساتھ میری نئ کتابیں بھی جو مختلف تاریخی موضوعات پر ہوں گی اُن کی اشاعت بھی ہوتی رہے گی۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892062769376,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0018_f5798c41-92a2-4ffd-bbea-49b034ceb9d4.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"quaid-e-azam-kia-they-kia-nahi","title":"Quaid-e-Azam Kia They Kia Nahi","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: قائداعظم کیا تھے کیا نہیں تھے۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eمعاشرہ پہلے اپنے ہیروز کی تشکیل کرتا ہے، پھر اُن کی شخصیت کو مقدس بناتا ہے، پھر اُس کے حوالے سے اپنے خیالات اور نظریات کو پیش کر کے انھیں عوام میں مقبول بناتا ہے۔ ہیرو کی شخصیت تمام غلطیوں اور کمزوریوں سے پاک ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال پاکستان میں قائد اعظم محمدعلی جناح کی ہے۔ کبھی اُن\u003cbr\u003eکے نام سے جعلی ڈائری چھپ کر سامنے آئی کبھی اُن سے وہ واقعات منسوب کیے گئے جس سے اُن کا کوئی\u003cbr\u003eتعلق نہیں تھا۔ مثلاً ٹی وی کے ایک اینکر پرسن نے کہا کہ ایک مرتبہ جناح صاحب اسلام آباد کی سائٹ سے گزر رہے تھے تو انھوں نے اشارہ کر کے کہا کہ پاکستان کا دارالخلافہ یہاں بنے گا۔ اب جب علامہ اقبال اور جناح صاحب میں مقابلہ ہوتا ہے تو علامہ اقبال نے جناح صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ پاکستان میں سوشل ڈیموکریسی لے کر آئیں یعنی پاکستان کی سیاست میں علامہ اقبال جناح صاحب سے بڑھ کر تھے۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں جناح صاحب کی شخصیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ کی شمولیت سے پہلے\u003cbr\u003eاور بعد میں ۔ پاکستان کے قیام کے بعد اُن کی تبدیل ہوتی سیاست کے بارے ذکر ہے۔ اُن کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب مفید ہوگی۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892063064288,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0024_b767f4ba-2e12-4227-be27-58a459fba77c.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"sirmayadari-aur-socialism","title":"Sirmayadari Aur Socialism","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: سرمایہ داری اور سوشلزم \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eتاریخ میں سرمایہ داری بدلتی رہی ہے۔ ابتدائی سرمایہ داری کو تاجرانہ Merchant)\u003cbr\u003e(Capitalism کہا جاتا تھا۔ اس میں تاجر ایک منڈی سے سستا مال خرید کر دوسری منڈی\u003cbr\u003eمیں مہنگے داموں فروخت کر کے منافع حاصل کرتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے بعد ایک نیا سرمایہ داری کا نظام پیدا ہوا۔ یہ سرمایہ دار فیکٹریوں کے مالک تھے اور زیادہ سے زیادہ منفعتی پیداوار کے ذریعے دُنیا بھر کی منڈیوں میں اُن کی فروخت کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرتے تھے۔ پھر\u003cbr\u003eسرمائے کی تیسری شکل فنانس کیپٹل ازم کی صورت میں آئی۔ اس میں بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں بنیں جنہوں نے آزاد منڈی کے نظریئے کے تحت بے تحاشا سر مایہ اکٹھا کیا۔ موجودہ دور میں سرمایہ داری نے معاشرے کے ہر شعبے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ سرمایہ داری\u003cbr\u003eکے اس جارحانہ عمل کو روکنے کے لیے سوشل ازم کا نظریہ آیا تھا مگر وہ سرمایہ داری کا مقابلہ زیادہ\u003cbr\u003eدیر تک نہیں کر سکا۔\u003cbr\u003eاس وقت سرمایہ داری نے جو عالمگیریت حاصل کرلی ہے اُس میں ایشیاء اور افریقہ کے غریب ملکوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ اُن کے قدرتی وسائل اور ان کی مارکیٹیں سرمایہ دار ملکوں کی گرفت میں ہیں۔ سرمایہ داری کا یہ نظام غریبوں کے خون و پسینے کی کمائی سے آگے بڑھ رہا\u003cbr\u003eہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی ٹیکنا لوجی غریبوں کی نسلوں کا خاتمہ کر کے صرف سرمایہ دار کے\u003cbr\u003eوجود کو باقی رکھے گی۔\u003cbr\u003eان حالات میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل ازم ایک نئی توانائی کے ساتھ اُبھر سکے گا اور کیا وہ انسانیت کو سرمایہ داروں کی گرفت سے آزاد کر سکے گا؟\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892064375008,"sku":"","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0011_cea32cee-5a4b-421f-9595-f538efa1ff6d.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tareekh-aur-aurat","title":"Tarikh aur Aurat - تاریخ اور عورت","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور عورت۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 900\u003cbr\u003eعورت دنیا کی مظلوم ترین مخلوق ہے۔ مرد نے اپنی بالادستی کے لیے اور عورت کا سماجی رتبہ گرانے کے لیے مذہب، تاریخ، بولی جانے والی زبانیں، سماجی اور سائنسی علوم، ان سب کو استعمال کر لیا ہے۔ ارسطو جو یونان کا ایک بڑا فلسفی تھا، اُس کا کہنا تھا کہ عورت کی پیدائش نہ مکمل حمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس نظریے کے تحت مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہوگئی جس نے پدرسری کا نظریہ پیدا کیا چونکہ عورت کی شناخت مرد کے ساتھ ہے اس لیے اگر اُس کے شوہر کی وفات ہو جاتی ہے تو وہ بیوہ کی حیثیت سے اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ اسی بنیاد پر ہندوؤں میں ستی کا رواج تھا۔\u003cbr\u003eعورت کے کردار کو اور اُس کی ذہانت اور سرگرمیوں کو تاریخ کا حصہ نہیں بنایا گیا، کیونکہ ہماری تاریخ مردوں کی لکھی ہوئی ہے اس لیے اس میں عورتیں گمنام ہیں۔\u003cbr\u003eجدید دور میں عورتیں مختلف تحریکوں کے ذریعے تاریخ اور سماج میں باوقار مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ لہذا مختلف موضوعات پر عورتوں نے تحقیق کے بعد ثابت کیا ہے کہ وہ ذہانت، قابلیت اور شعور کے لحاظ سے مردوں کے برابر ہیں۔ اب نئے قوانین اور اصولوں کے تحت ترقی یافتہ ملکوں میں عورتوں کو حقوق دیئے گئے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں چونکہ عورتوں کو برابر نہیں سمجھا جاتا اس لیے اُن کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔\u003cbr\u003eعورتوں کا سماجی تعلیم میں جو حصہ ہے،\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eاُس کو سمجھنے کے لیے تاریخ اور عورت کا پڑھنا ضروری ہے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892064604384,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0017_f9ab1627-85c2-48f1-b1f1-19c48263791a.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tareekh-aur-mashra","title":"Tareekh aur Mashra","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور معاشرہ۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eہر معاشرہ اپنے عہد میں مختلف سیاسی، معاشری اور سماجی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو اُسے پچھلے دور کی وراثت سے ملے تھے۔ کچھ وسائل ایسے ہوتے ہیں جنھیں جديد ایجادات اور ٹیکنالوجی نے پیدا کیا ہوتا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی بھی معاشرے کے خدوخال کو بدلتی ہے۔ اس لیے معاشرے کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کے لیے علم کی آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے کو علم کی اہمیت سے گھٹا دیا جائے تو اس صورت میں معاشرہ ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔\u003cbr\u003eتاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر معاشرہ طبقات میں پڑ جائے تو یہ طبقاتی تقسیم اشرافیہ اور محروم طبقوں کو جنم دیتی ہے اور معاشرہ طبقوں کی آپس کے تصادم میں اپنی\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eتوانائی اور طاقت کھو دیتا ہے۔\u003cbr\u003eمعاشرے کی اہمیت اُسی وقت ہوتی ہے جب یہ نئے اُفقار اور خیالات کو پیدا کرتا ہے۔ نئ ایجادات کرتا ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارتا ہے۔ اگر وہ ان منصوبوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اس صورت میں اُس کی عزت اور وقار کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور وہ دنیا کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرے تاریخ میں بھی گمنام ہو جاتے ہیں۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892064735456,"sku":"","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0016_71e1a377-4616-46f5-be4a-594fd44e5d5e.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tareekh-aur-mazhabi-tahreeken","title":"Tareekh aur Mazhabi Tahreeken","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور مذہبی تحریکیں۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eتاریخ میں جب بھی مسلم اقوام سیاسی بحرانوں سے گزریں اور زوال میں مبتلا ہوئیں تو ان حالات میں مذہبی رہنماؤں نے یہ دلیل دی کہ اُن کے زوال کا سبب مذہبی تعلیمات سے انحراف ہے۔ اس لئے اگر مذہبی تعلیمات کا احیاء کیا جائے اور اس میں جو غلط رسم و رواج داخل ہوگئے ہیں۔ اُن سے مذہب کو پاک صاف کیا جائے تو مسلمان ایک بار پھر طاقتور ہو کر اُبھریں گے۔ لیکن احیاء کی جتنی تحریکیں چلیں اُنہوں نے مسلمانوں کی اکثریت کو متاثر نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ماننے والے فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور اتحاد کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعصب کا برتاؤ کیا جانے لگا۔\u003cbr\u003eدنیا کے تقریبا ہر مذہب میں اصلاحی تحریکیں جاری ہیں۔ فرقہ واریت کے نتیجے میں باہمی جنگ و جدل اور خونریزی بھی ہوتی رہتی ہے۔ آخر میں خاص طور سے مغرب میں یہ حل ڈھونڈا گیا کہ مذہب کے معاملے میں ریاست کو غیر جانبدار اور قومی ہونا چاہیے۔ تاکہ ریاست ہر فرقے اور مذہب کے ماننے والوں کو تحفظ دے۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ کتاب میں دی گئی مذہبی تحریکوں کا تجربہ کرکے اُن کی مدد سے موجودہ حالات کو سمجھنا چاہیے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892065259744,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0019_1fea309b-59c1-4be2-9416-257343956abf.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tareekh-kay-badalty-nazariyat","title":"Tareekh Kay Badalty Nazariyat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ کے بدلتے نظریات۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eابتدائی دور میں تاریخ نویسی کا یہ مطلب تھا کہ ماضی میں ہونے والے واقعات کو بیان کر دیا جائے۔ یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ واقعات کی نوعیت کیا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیا ہی ڈالی شعور میں اضافہ کریں گے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اب جدید تاریخ کو نظریات کی روشنی میں لکھا جاتا ہے خام جب ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں آزادی کی جدو جہد شروع ہوئی تو تاریخ کو قوم پرستی کے نظریے کے تحت لکھا گیا تا کہ یورپی سامراج کا مقابلہ کیا جائے۔ یورپ کے سامراجی ملکوں نے یورپ کی تاریخ کو برتر ثابت کیا اور کالونیز کی تاریخ کو پسماندہ کہہ کر اپنے اقتدار کو جائز قرار دیا۔ کارل مارکس نے تاریخ میں طبقاتی جنگ کو اہمیت دیتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ یہ طبقاتی جنگ تاریخ کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔ اب\u003cbr\u003eتک تاریخ نویسی میں عورتوں کے کردار کا بہت کم ذکر تھا۔ لہذا تحریک نسواں نے مردوں کی تاریخ پر اجارہ\u003cbr\u003eداری کو چیلنج کیا اور تاریخ کی تشکیل میں عورتوں کے کردار کو پیش کر کے تاریخ نویسی کو تبدیل کیا۔ ایک وقت تک تاریخ سیاست تک محدود تھی۔ بعد میں اس میں معیشت کا بھی اضافہ ہوا لیکن تاریخ نویسی کو سیاست اور معیشت سے نکال کر اس میں نفسیات ، عمرانیات ، علم بشریات اور سائنس کے مضامین کو بھی شامل کر لیا۔ فرانس میں 1930 ء کی دہائی میں قائم ہونے والے انا لز اسکول کے مؤرخین نے ٹوٹل ہسٹری کا نظریہ پیش کیا ، جس میں جذبات کی تاریخ بھی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاب مؤرخین کا دعوی ہے کہ معاشرے کی تمام روایات، ادارے اور رویے تاریخ کی دسترس میں ہیں۔ تاریخ کی وسعت نے اسے ایک نئی زندگی دے دی ہے اور مؤرخ ان موضوعات پر تحقیق کر رہے ہیں جو اب تک تاریخ نویسی کا حصہ نہیں تھے۔\u003cbr\u003eوقت کے ساتھ جیسے جیسے ماحول بدلتا ہے اُس کے ساتھ نئے نظریات بھی پیدا ہوتے ہیں اس لیے تاریخ کو\u003cbr\u003eبار بار لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ نئے نظریات کی روشنی میں واقعات کی تشریح کرے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892065554656,"sku":"","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0026_0f1903aa-2bf1-4b3b-b836-873a30a5a018.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tareekh-thug-aur-daku","title":"Tareekh: Thug Aur Daku","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ: ٹھگ اور ڈاکو۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eتاریخ میں ڈاکوؤں کا وجود بغاوت کی علامت ہوتا ہے۔ یہ وڈیروں کے ظلم وستم ، ٹیکسوں کی بہتات، سرکاری عہدیداروں کی رعونت ، کسانوں میں سے بعض افراد کو اس پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ظلم وستم کی زنجیریں توڑ کر آزاد ہو جائیں۔ جب یہ ڈاکہ زنی کے ذریعے دولت مندوں کو لوٹتے ہیں تو یہ قانون کے تحت مجرم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی حملہ آور مفتوح قوموں کا مال غنیمت لوٹتا ہے یا اُن کا قتل عام کرتا ہے تو وہ فاتح کہلاتا ہے۔ کیونکہ ڈاکو طاقتور کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں اس لیے یہ عوام میں مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ جیسے انگلستان میں روبن ہڈ اور برصغیر ہندوستان میں سلطانہ ڈاکو لوک کہانیوں کا موضوع بن گئے ہیں۔ اکثر مورخ ان کو پسماندہ دور کے باغی یا Primitive Rebel کہتے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eڈاکو اُسی وقت تک محفوظ رہتے ہیں جب گاؤں اور دیہاتوں کے عام لوگ ان سے تعاون کرتے ہیں اور انہیں پناہ دیتے ہیں۔ لہذا ڈاکو طاقتور کی نا انصافی اور اُس کے استحصال کی وجہ سے بغاوت کرتے ہیں۔ جہاں تک ٹھگوں کا تعلق ہے ان کا کردار ڈاکوؤں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ فریب ، دھو کے بازی اور جھوٹ کے ذریعے افراد کو اپنے جال میں پھنسا کر اُن کو لوٹتے بھی ہیں اور جان سے مار بھی دیتے ہیں ٹھگی کی اصطلاح کو آج ہم کئی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں کہ کسی عورت سے زیور لے کر اُسے دو گنا کرنے کا لالچ دیتے ہیں۔ کچھ افراد رقم کو دوگنا کرنے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی فون سے یہ پیغام بھی آتا ہے کہ لاٹری میں اُس کے نام پر لاکھوں روپے نکل آئے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eڈاکو ہوں یا ٹھگ یہ کمزور ریاست میں پیدا ہوتے ہیں جو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر پاتی۔ پاکستان میں اب ماڈرن ڈاکو اور ٹھگ پیدا ہو گئے ہیں۔ جو بدعنوانی، رشوت ، غبن اور جعلسازی کے ذریعے دولت اکٹھی کرتے ہیں اور معاشرے کے معزز رکن بن جاتے ہیں۔ موجودہ کتاب ٹھگوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کرے گی۔ اس کے مطالعے کے بعد اپنے اردگرد ٹھگوں اور ڈاکوؤں کو پہچان سکیں گے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892065882336,"sku":"","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0022_310627f2-e13d-4940-b570-1d30aa68ee06.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tarikh-or-falsafa-e-tarikh","title":"Tarikh or Falsafa E Tarikh","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور فلسفہ تاریخ\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eتاریخ اور فلسفہ تاریخ پر میرے یہ مضامین تین کتابوں پر\u003cbr\u003eبکھرے ہوئے تھے یعنی تاریخ کیا ہے؟ تاریخ اور روشنی اور تاریخ کے نظریات۔ ان مضامین کو اس لیے یکجا کیا کہ یہ ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں اور ایک جگہ پڑھنے سے (اگر چہ بعض جگہ کچھ باتیں دہرائی ہوئی ملیں گی ) تاریخ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ ایک چیز کا ذکر میں خاص طور سے کرنا چاہتا ہوں کہ میری اولین کتاب ” تاریخ کیا ہے ؟ تھی۔ اس وقت تک میرا یہ خیال تھا کہ انسان تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتا ہے کیونکہ جن غلطیوں کو وہ بار بار دہراتا ہے وہ اس بات کی تصدیق ہے مگر جب تاریخ کا اور مطالعہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ انسان تاریخ سے ضرور سیکھتا ہے اور اس میں تاریخ کے ذریعہ آگہی و شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو اپنی زندگی میں استعمال بھی کرتا ہے۔ یہ بات ضرور صحیح ہے کہ جو تاریخ سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ غلطیوں کو بار بار دہراتے ہیں۔\u003cbr\u003eاس لیے ضروری یہ ہے کہ تاریخ کو سچائی کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ اگر اس کو مسخ کر کے اور اپنی مرضی کے مطابق پڑھا جائے گا تو وہ غلط راستہ پر ہی لے جائے گی اور اس کے نتیجہ میں انھیں غلطیوں کو دہرایا جائے گا۔ تنقیدی و تجزیاتی تاریخ، جو کمزوریوں سے پردہ اٹھائے ، وہ صحیح راستہ متعین کرنے میں مدد دے گی۔\u003cbr\u003eاس لیے یہ کہنا کہ تاریخ سے انسان کچھ نہیں سیکھتا ، غلط ہے۔ انسان جب ہی تاریخ سے سیکھتا ہے کہ جب تاریخ کو سچائی کے ساتھ لکھا جائے۔\u003cbr\u003eاس کی مثال ہماری تاریخ سے دی جاسکتی ہے کہ جسے یک طرفہ ہاتھ سے ایک ہی نظریہ کے تحت لکھا جا رہا ہے اور اس میں کوئی تنقیدی اور تجزیاتی عصر نہیں ہے، ہمارے تمام راہنما غلطیوں سے پاک ومبرا تھے ظاہر ہے کہ تاریخ تو لوگوں کو سکھانے کے بجائے گمراہ کرے گی۔\u003cbr\u003eیہ کتاب طالب علموں کے لیے بھی ہے اور عام قارئین کے لیے بھی ، یہ دانشوروں کے لیے نہیں ہے کہ وہ پہلے سے سب کچھ جانتے ہیں اور میری کوئی خواہش نہیں کہ ان کے علم میں اضافہ کروں ۔ میں اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کا مشکور ہوں کہ وہ مجھے اپنے مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892067520736,"sku":"","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0010_18bd108a-0bc2-4200-a1c1-83be25b2f6d1.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tarikh-or-nisabi-kutab","title":"Tarikh or Nisabi Kutab","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور نصابی کتب\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eقومی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد سے تعلیم کو قومی بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ قومی ریاست نصابی تعلیم کے ذریعے طالب علموں میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے جذبات کو پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکمران طبقے پر کوئی تنقید نہ کی جائے اور نہ ہی ریاست میں اصلاح کی تجاویز دی جائیں۔ اس مقصد کے لیے نصابی کتب اُن افراد سے لکھوائی جاتی ہیں جو قومی ریاست کے منصوبے کو پورا کرتے ہیں۔\u003cbr\u003eنصابی کتابوں میں سیاست کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اقتدار میں آنے والی سیاسی پارٹی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اُن موضوعات کو شامل کرتیں جو عوام میں مقبول ہوں جبکہ نصابی کتابوں کے ذریعے عالمگیر سیاست نئے افکار و خیالات کو شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جن ملکوں میں نصابی کتابوں کے ذریعے کسی ایک خاص نظریے کی تعلیم دی گئی ہو تو اس صورت میں نوجوانوں میں تعصب اور نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا نصابی کتابوں کی وجہ سے کئی ملکوں کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں۔ جیسے جاپان اور کوریا، اسرائیل اور عرب ممالک ، امریکہ اور لاطینی ممالک، جرمنی اور انگلینڈ، انڈیا اور پاکستان۔ کئی بار یہ کوشش کی گئی کہ جن ملکوں کے درمیان نصابی کتب تنازعے کا باعث ہیں اُن کے مورخ مل کر ایسی تاریخ لکھیں جس میں تعصبات نہ ہوں بلکہ باہمی روابط کے واقعات ہوں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892067619040,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0013_b449c802-75da-4e7a-9660-75d4ad8bca98.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"tehzeeb-ki-kahani","title":"Tehzeeb ki Kahani","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"780\" style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"780\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" dir=\"RTL\" align=\"right\" width=\"780\" style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\"\u003eکتاب کا نام: تہذیب کی کہانی \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 900\u003cbr\u003eمؤرخوں نے تہذیب کی بنیاد اور ترقی کو سمجھنے کے لیے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔\u003cbr\u003eپہلا زمانہ پتھر کا کہلاتا ہے۔اس میں انسان نے پتھر کے ہتھیار بنا کر\u003cbr\u003eاور اُن سے شکار کر کے اپنی غذا حاصل کی ۔\u003cbr\u003eدوسرا کانسی کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس میں ترقی کرتے ہوئے ریاست کی بنیاد ڈالی گئی۔ اُس کے ادارے قائم ہوئے اور معاشرے کو متحد کر کے قانون کے ذریعے ان پر حکومت کی گئی۔ یہ عہد اس لیے بھی قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں رسم الخط\u003cbr\u003eکی ابتدا ہوئی جس نے تاریخ اور تہذیب کے بارے اہم معلومات فراہم کیں ۔\u003cbr\u003eتیسرا عہد لوہے کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس میں بڑی سلطنتیں وجود میں\u003cbr\u003eآئیں اور سیاسی نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوا۔ حکمراں کو بے حد اختیارات ملے۔ اسی عہد میں فلسفہ تھیڑ ، رقص اور موسیقی اپنی پختگی کو پہنچے ۔ جن ملکوں نے ترقی کی تھی وہ مہذب کہلائے اور جو پسماندہ رہ گئے تھے انھیں بار بیرین کہا گیا۔\u003cbr\u003eتہذیب کی اس کہانی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی ذہن ہمیشہ غور وفکر کے بعد اپنے ماحول کو بدلتا رہا ہے۔ دنیا ایک جگہ ٹھہری ہوئی نہیں رہی ہے۔ انسانی ذہن آج بھی\u003cbr\u003eنئی ایجادات اور افکار کے ذریعے ایک نئی دنیا کو جنم دے رہا ہے۔\u003cbr\u003e1. Pathar Ka Zamana\u003cbr\u003e2. Kansi Ka Zamana\u003cbr\u003e3. Lohay Ka Zamana\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892067848416,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0020_7bec5901-b936-4890-9e85-df6a2b6bd50b.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"ulma-aur-siasat","title":"Ulma aur Siasat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: علماء اور سیاست\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eبرصغیر ہندوستان میں سلاطین دہلی اور مغل سلطنتوں میں علماء کا کردار رہا ہے۔ لیکن ان کے اور\u003cbr\u003eحکمرانوں کے درمیان سیاسی اختلافات رہے تھے، علماء مذہبی طور پر ہندو رعایا کے ساتھ انتہا پسندی کا سلوک چاہتے تھے۔ لیکن حکمران سیاسی طور پر اپنی ہندو رعایا کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔ چونکہ سیاسی طاقت حکمرانوں کے پاس تھی اس لیے وہ علماء کے دباؤ میں نہیں آئے بلکہ انہیں ریاست کا وفادار بنائے رکھا۔\u003cbr\u003eبرطانوی دور حکومت میں جبکہ یہاں سے مغل ریاست ختم ہو چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے مدر سے قائم کر کے مسلمانوں کو مذہبی تعلیمات دیں، بلکہ فتوؤں کے ذریعے اُن کے سماجی اور معاشی مسائل کو بھی\u003cbr\u003eحل کیا۔ جب سائنس کی ایجادات آئیں تو انہوں نے اُن کی مخالفت کی ، تاکہ مسلمانوں کے عقیدے\u003cbr\u003eمیں شک وشبہ پیدا نہ ہو۔ ان کے مقابلے میں سرسید احمد خاں نے اسلام کا ترقی پسندانہ نظریہ پیش\u003cbr\u003eکیا، جس کی وجہ سے آج تک اسلام کی قدامت پسندی اور ترقی پسندی کے درمیان تصادم جاری ہے پاکستان کے موجودہ حالات میں جب سیاستدان ناکام ہو گئے اور جمہوری ادارے بھی عوام کو\u003cbr\u003eنمائندگی نہ دیں سکیں تو اس ماحول میں علماء کو اپنی جگہ بنانے کا موقع مل گیا۔ لیکن ان حالات میں سیاستدانوں اور علماء کے درمیان مذہبی پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں رہا۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی تاریخ میں علماء کے بدلتے ہوئے کردار کا تجزیہ کیا جائے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46892068307168,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/IMG-20250118-WA0029_48226c05-6c87-464a-b6d9-1e2573ad2e64.jpg?v=1737191125"},{"product_id":"3-books-set-of-dr-mubarak-ali","title":"3 Books Set of Dr. Mubarak Ali","description":"\u003cdiv class=\"xyamay9 x1pi30zi xsag5q8 x1swvt13\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eڈاکٹر مبارک علی کی 3 بہترین کتب کا سیٹ رعایتی قیمت 1770 روپے فری ہوم ڈلیوری کے ساتھ۔ آرڈر کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں 03174627290\u003cbr class=\"html-br\"\u003eان میں شامل ہیں۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003eکتاب کا نام: آخری عہد مغلیہ کا ہندستان۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003eمعنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eصفحات:188\u003cbr class=\"html-br\"\u003eقیمت: 800\u003cbr class=\"html-br\"\u003e\u003cbr class=\"html-br\"\u003eکتاب کا نام: برطانوی راج۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eصفحات:99\u003cbr class=\"html-br\"\u003eقیمت: 600\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003e\u003cbr class=\"html-br\"\u003eکتاب کا نام: اکبر کا ہندوستان۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eصفحات:192\u003cbr class=\"html-br\"\u003eقیمت: 800\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv\u003e\n\u003cdiv class=\"xq8finb x16n37ib x1uuop16 x1fqkajt x1aj7aux x1axty5n\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x2lah0s x1n2onr6 x1qughib x1qjc9v5 xozqiw3 x1q0g3np xjkvuk6 x1iorvi4 x4cne27 xifccgj\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz x5ve5x3\" aria-label=\"Like\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cspan class=\"x3nfvp2\"\u003e\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli x16tdsg8 x1hl2dhg x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz x4r51d9 x1d0ri9u x1ug4tga xkhd6sd x4uap5 xnfr1j xzpqnlu x179tack x10l6tqk x5ve5x3\" aria-label=\"React\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz\" aria-label=\"Leave a comment\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz\" aria-label=\"Send this to friends or post it on your profile.\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x8cjs6t x13fuv20 x178xt8z xdj266r xktsk01 xat24cr x1d52u69\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x18d9i69 x1swvt13 x1pi30zi\"\u003e\n\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd\"\u003e\n\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x78zum5 x1n2onr6 x1nhvcw1\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003ch2 class=\"html-h2 xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1vvkbs x1heor9g x1qlqyl8 x1pd3egz x1a2a7pz xzpqnlu x1hyvwdk xjm9jq1 x6ikm8r x10wlt62 x10l6tqk x1i1rx1s\" dir=\"auto\"\u003eCo\u003c\/h2\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46913898741984,"sku":"","price":1770.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/467310596_955503609931632_7321206787734793937_n.jpg?v=1737615922"},{"product_id":"1857-ki-jung-e-azadi-complete","title":"1857 Ki Jung E Azadi (Complete)","description":"\u003cdiv class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tNl zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"CloseupDescriptionContainer\" class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"main-pin-description-text\" class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv aria-disabled=\"false\" class=\"S9z eEj CCY Tbt L4E e8F BG7\" role=\"button\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"truncated-description\" class=\"XiG ujU zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"safeTextDirection\" dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"X8m zDA IZT CKL tBJ dyH iFc sAJ swG\"\u003e\u003cspan class=\"X8m zDA IZT tBJ dyH iFc sAJ swG\"\u003eTareekh Jang e Azadi Hind 1857 is about the Independence War of 1857. It has a proper historical standard beneficial for history students.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47223536222432,"sku":"","price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/1857-ki-jungh-azadi-1100x1100h_jpg.webp?v=1744017611"},{"product_id":"almia-tareekh","title":"Almia Tareekh","description":"\u003cp\u003eاس کتاب میں میرے وہ مضامین شامل ہیں جو میں نے تاریخ اور اگہی اور تاریخ اور روشنی میں شامل کیے تھے ان کی ترتیب بدل دی ہے اور نئے مضامین اس میں شامل کیے ہیں اب یہ نئی کتاب بر صغیر ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار اور اس دور میں جو اخلاقی اور سماجی اقدار بنی تھی ان پر روشنی ڈالتی ہے اس کتاب کی ایک حصے میں ان مسائل پر بحث کی گئی ہے کہ جو پاکستان میں تاریخ کے تعلیم کے سلسلے میں ہے مقصد یہ ہے کہ قاری نہ صرف تاریخ کے بنیادی مفہوم سے اگا رہے ہیں بلکہ وہ مسلمان خاندانوں کی حکومت کے کردار کو بھی سمجھے اور ان سے جو نتائج نکلے ہیں ان سے بھی اگئی ہو تصوف کے موضوع پر اس نئے ایڈیشن میں دو نئے مضامین اور شامل کر دیے ہیں جو اس موضوع کو سمجھنے میں مدد دیں گے ان مضامین میں کوشش کی گئی ہے کہ تاریخ کو ایک نئے نقطہ نظر سے بیان کیا جائے تاکہ لوگوں کو تاریکی واقعات وہ حقائق کا نئے انداز میں تجزیہ کرنے کا موقع مل سکے میں اپنے طالب علموں اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ان مضامین کو پڑھ کر اپنی رائے دی \u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47223549821152,"sku":"","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/almia-tareekh-500x500h_jpg.webp?v=1744019266"},{"product_id":"achoot-logo-ka-adab","title":"Achoot Logo Ka Adab","description":"\u003cp\u003eاردو زبان میں دلت تحریک اور دلت ادب پر کوئی مواد دستیاب نہیں ہے اس لیے اس مختصر کی کتاب میں اس بات کو کوشش کی گئی ہے کہ دلت تحریک کی تعریف اس کے مقاصد اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شاعری سے لوگوں کو روشناس کروایا جائے اس کتاب کی تیاری میں بار بارہ ار جوشی کی کتاب اچھوت لندن اور ساؤتھ ایشین بلوٹن کی ساتویں جلد سے مدد لی گئی ہے نظموں کا اردو ترجمہ اس انگریزی ترجمے سے کیا ہے جو ان دو کتابوں میں ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47223556636896,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/9789694797069_202-313x487.jpg?v=1744019863"}],"url":"https:\/\/noorisons.com\/collections\/nigarshat.oembed?page=2","provider":"Noori Sons","version":"1.0","type":"link"}