{"title":"Majlis-e-Tarqee Adab","description":"","products":[{"product_id":"kuliyat-e-sarwat-hussain-کلیات-ثروت-حسین","title":"Kuliyat-e-Sarwat Hussain - کلیات ثروت حسین","description":"\u003ch2 style=\"text-align: right;\"\u003eجدید غزل کے انتہائی اہم اور اسلوب ساز شاعر ثروت حسین کی کلیات شائع کر دی ہے۔ اس کتاب کو عدنان بشیر نے مرتب کیا ہے\u003c\/h2\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003ch2 style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین: جدید اردو غزل کا رومانوی جادوگر اور خوابوں کا شاعر\u003c\/h2\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eاردو ادب کے معاصر منظر نامے پر\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cstrong\u003eثروت حسین\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eایک ایسا نام ہے جس نے اپنی مختصر زندگی میں غزل کو ایک نیا اور اچھوتا اسلوب عطا کیا۔ ان کی شاعری روایتی عشق و عاشقی سے ہٹ کر ایک ایسی کائناتی محبت اور حیرت کا بیان ہے جو قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ ان کے ہاں لفظوں کی تراش خراش اور استعاروں کا استعمال اس قدر فطری ہے کہ وہ دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eپیدائش اور ابتدائی زندگی\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی اور اردو ادبیات میں ایم اے کیا۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی حساسیت اور تنہائی پسندی موجود تھی، جس نے آگے چل کر ان کے شعری مزاج کی تشکیل کی۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eپیشہ ورانہ زندگی اور تدریس\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eانہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا اور سندھ کے مختلف کالجوں میں بطور لکچرر خدمات انجام دیں۔ تدریس کے دوران وہ اپنے طالب علموں میں بے حد مقبول تھے کیونکہ ان کا اندازِ گفتگو اور شخصیت نہایت پرکشش اور والہانہ تھی۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جو کتاب سے زیادہ زندگی اور فن کے اسرار سکھانے پر یقین رکھتے تھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eادبی خدمات اور شعری خصوصیات\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین کی شاعری جدید غزل کے ارتقاء میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:\u003c\/p\u003e\n\u003cul style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eحیرت کا عنصر:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی شاعری میں بچوں جیسی معصومیت اور کائنات کو پہلی بار دیکھنے والی حیرت کا احساس ملتا ہے۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eنئے استعارے:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eانہوں نے پرندوں، بادلوں، مٹی اور خوابوں کو نئے معنی دیے۔ ان کے ہاں \"شہزادی\" اور \"خواب\" محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eجمالیاتی رچاؤ:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی غزلوں میں حسن کی ایک ایسی خوشبو ہے جو قاری کے حواس کو معطر کر دیتی ہے۔ وہ دکھ کو بھی نہایت خوبصورتی اور وقار کے ساتھ بیان کرنے کے ماہر تھے۔\u003c\/li\u003e\n\u003c\/ul\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eشعری مجموعے\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین کی زندگی میں ان کا صرف ایک مجموعہ شائع ہو سکا تھا، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کا تمام کلام جمع کر کے شائع کرایا:\u003c\/p\u003e\n\u003cul style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eآدھے چاند کی رات:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eخاکدان:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی نظموں اور غزلوں کا دوسرا اہم مجموعہ۔\u003c\/li\u003e\n\u003cli\u003e\n\u003cstrong\u003eکلیاتِ ثروت حسین:\u003c\/strong\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eان کی تمام شعری تخلیقات کا مجموعہ جو جدید شاعری کے طالب علموں کے لیے ایک درسی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔\u003c\/li\u003e\n\u003c\/ul\u003e\n\u003ch3 style=\"text-align: right;\"\u003eالمیہ وفات اور ادبی مقام\u003c\/h3\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eثروت حسین کی زندگی کا اختتام نہایت المناک صورت میں ہوا۔ وہ 9 ستمبر 1996ء کو ایک ٹرین حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی ناگہانی موت نے اردو ادب کو ایک ایسے فنکار سے محروم کر دیا جو ابھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عروج پر تھا۔ ثروت حسین نے غزل کو جو تازگی اور نیا پن دیا، وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003chr\u003e","brand":"Sarwat Hussain","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48610604482784,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsAppImage2026-01-28at11.21.54AM.jpg?v=1769582623"},{"product_id":"siyah-hashiye-سیاہ-حاشیے","title":"Siyah Hashiye - سیاہ حاشیے","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب \"سیاہ حاشیے” سعادت حسن منٹو کے افسانچوں کا مجموعہ ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب میں منٹو کے شاندار افسانچے شامل ہیں۔\u003cbr\u003e\nآپ کیلئے یہ کتاب انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Saadat Hassan Manto","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611486957792,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-02-at-3.49.51-PM.jpg?v=1770968971"},{"product_id":"habab-ke-daramay-حباب-کے-ڈرامے-جلد-ہشتم","title":"Habab Ke Daramay - حباب کے ڈرامے (جلد ہشتم)","description":"\u003cp\u003eاُردو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ ڈراموں کا زیرِنظر مجموعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس جلد میں حباب کے چار ڈرامے شامل کیے گئے ہیں۔ الف خاں حباب ہسوہ فتح پور کے رہنے والے تھے۔ علومِ درسیہ کی تکمیل کے بعد ریاست ریواں میں مہاراج کمار کے ہاں عہدئہ وکالت سے سرفراز ہوئے۔ نواب حامد خاں کے زمانے میں رام پور میں ایک سرکاری ناٹک کمپنی میں بطور منشی ملازم ہوگئے۔ زیرِ نظر مجموعے میں الف خاں حباب کے چار ڈرامے شامل ہیں: ’’شررِ عشق‘‘، ’’نیرنگِ قاف‘‘، ’’نقشِ سلیمانی‘‘، اور ’’جشنِ کنور سین‘‘۔ مرتب نے تا بہ حدِ امکان ان ڈراموں کے متن کی تصحیح کر دی ہے۔ بعض مقامات پر حسبِ ضرورت حواشی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ تینوں ڈراموں کے متن کے فنی محاسن اور معائب پر تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Alif Khan Hubab","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611487154400,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/habab-k-dramay-7-50p_2f755c1e-fc04-4745-8f1e-40d49751d292.jpg?v=1770968657"},{"product_id":"namaloom-musanafin-ke-daramay-نامعلوم-مصنّفین-کے-ڈرامے-جلد-نہم","title":"Namaloom Musanafin Ke Daramay - نامعلوم مصنّفین کے ڈرامے (جلد نہم)","description":"\u003cp\u003eاُردو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ ڈراموں کا زیرِنظر مجموعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس جلد میں مختلف نامعلوم مصنفوں کے لکھے ہوئے تین پرانے ڈرامے یکجا کیے جا رہے ہیں۔ پہلے کا نام ہے ’’فتنۂ غانم‘‘، دوسرے کا نام ہے ’’ظلم وحشی‘‘ اور تیسرے کا نام ہے ’’دو رنگی دنیا‘‘۔ ان تینوں ڈراموں کے متون کے متعلق صراحت کے ساتھ یہ بات معلوم نہیں کہ انھیں کن حضرات نے لکھا اور پہلے پہل یہ کس تھیٹریکل کمپنی کے اسٹیج پر کب آئے۔ پہلے ڈرامے کے متعلق اتنی بات اور معلوم ہے کہ یہ ایک سے زیادہ بار لکھا گیا۔ اس کا ایک متن حافظ عبداللہ نے مرتب کیا تھا۔ دوسرا ڈراما کسی وکٹورین ڈرامے کا چربہ ہے۔ ایک زمانے میں یہ کھیل بہت مقبول تھا۔ تیسرا ڈراما ’’دو رنگی دُنیا‘‘ ہے۔ مرتب نے تا بہ حدِ امکان ان ڈراموں کے متن کی تصحیح کر دی ہے۔ بعض مقامات پر حسبِ ضرورت حواشی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ تینوں ڈراموں کے متن کے فنی محاسن اور معائب پر تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Imtiaz Ali Taj","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611487318240,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/na-maloam-musanfeen-k-dramay-9-50p_85381de8-b6b1-4e82-8320-d139cb463b33.jpg?v=1770969025"},{"product_id":"hafiz-abdullah-ke-daramay-حافظ-عبداللہ-کے-ڈرامے-جلد-دہم","title":"Hafiz Abdullah Ke Daramay - حافظ عبداللہ کے ڈرامے (جلد دہم)","description":"\u003cp\u003eاُردو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ ڈراموں کا زیرِنظر مجموعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس جلد میں حافظ عبداللہ کے تین ڈرامے یکجا کیے گئے ہیں۔ حافظ عبداللہ فتح پور کے ایک مقتدر اور متمول شیخ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور موضع بلپور کے زمیندار تھے۔ ان کے مورثِ اعلی ترکستان سے ہندوستان آئے تھے۔ حافظِ قرآن تھے، اور عربی فارسی سے واقفیت رکھتے تھے اور شعر و سخن سے لگائو تھا۔ زیرِ نظر جلد میں حافظ عبداللہ کے تین ڈرامے شامل ہیں: ’’علی بابا چہل قزاق‘‘، ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ اور ’’شکنتلا‘‘۔ مرتب نے تا بہ حدِ امکان ان ڈراموں کے متن کی تصحیح کر دی ہے۔ بعض مقامات پر حسبِ ضرورت حواشی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ تینوں ڈراموں کے متن کے فنی محاسن اور معائب پر تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Hafiz Muhammad Abdullah","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611487547616,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/hafiz-abdullah-k-dramay-10-50p_ca75d425-adcb-49eb-8317-dd361fb4e471.jpg?v=1770968788"},{"product_id":"mutfariq-musanafin-ke-daramay-متفرق-مصنّفین-کے-ڈرامے-جلد-یاز-دہم","title":"Mutfariq Musanafin Ke Daramay - متفرق مصنّفین کے ڈرامے (جلد یاز دہم)","description":"\u003cp\u003eاُردو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ ڈراموں کا زیرِنظر مجموعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس جلد میں دو الگ الگ مصنفوں کے دو ڈرامے یکجا کیے گئے ہیں۔ پہلے کا نام ’’گلرو زرینہ‘‘ (مصنف سیّد عباس علی) اور دوسرے کا نام ’’فسانۂ عجائب معروف بہ جان عالم انجمن آرا‘‘ (مصنف مرزا نظیر بیگ) ہے۔ مرتب نے تا بہ حدِ امکان ان ڈراموں کے متن کی تصحیح کر دی ہے۔ بعض مقامات پر حسبِ ضرورت حواشی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ تینوں ڈراموں کے متن کے فنی محاسن اور معائب پر تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Abbas Ali, Nazir Baig","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611487711456,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/mutfariq-musanfeen-k-dramay-10-yaz-50p.jpg?v=1770969018"},{"product_id":"karimuddin-murad-ke-daramay-کریم-الدین-مراد-کے-ڈرامے-جلد-ہفتم","title":"Karimuddin Murad Ke Daramay - کریم الدین مراد کے ڈرامے (جلد ہفتم)","description":"\u003cp\u003eاُردو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ ڈراموں کا زیرِنظر مجموعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس جلد میں کریم الدین مراد کے تین ڈرامے یکجا کیے گئے ہیں۔ کریم الدین مراد عربی و فارسی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ، اور مدرسۃ العلوم بریلی سے فاضلِ درس تھے۔ انہیں موسیقی میں بھی کافی مہارت حاصل تھی۔ پہلے ڈرامے کا نام ’’گلستانِ خاندانِ پامان‘‘، دوسرے کا ’’چترا بکاولی‘‘ اور تیسرے ڈرامے کا نام ’’خداداد‘‘ ہے۔ مرتب نے تا بہ حدِ امکان ان ڈراموں کے متن کی تصحیح کر دی ہے۔ بعض مقامات پر حسبِ ضرورت حواشی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ تینوں ڈراموں کے متن کے فنی محاسن اور معائب پر تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Karimuddin Murad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611487842528,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/kareem-udeen-murad-k-dramay-7-50_5aa1b563-ed1b-4343-8fa3-8e19258c3847.jpg?v=1770968814"},{"product_id":"jamie-e-hikayat-e-hindi-seer-e-ishrat-جامع-الحکایاتِ-ہندی-سیرِ-عشرت","title":"Jami'e-e-Hikayat-e-Hindi (Seer-e-Ishrat) - جامع الحکایاتِ ہندی (سیرِ عشرت)","description":"\u003cp\u003eزیرِ نظر کتاب ’’سیرِ عشرت‘‘ یا ’’جامع الحکایات‘‘ اُردو میں ’’جوامع الحکایات‘‘ کے دس ابواب میں سے چند منتخب حکایات کا ترجمہ ہے جو شیخ صالح محمد عثمانی نے 1825ء میں کیا تھا۔ جوامع الحکایات دراصل سدید الدین عوفی کی ’’جوامع الحکایات و لوامع الروایات‘‘ ہے جو عربی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا شمار اُن کتابوں میں ہوتا ہے جنہیں ادبِ عالم میں قدامت اور بقائے دوام کا شرف حاصل ہے۔ اس مشہورِ عالم کتاب کے چار حصے ہیں جن میں سے ہر ایک کے پچیس باب ہیں۔ کتاب کی تاریخِ تالیف معین نہیں کی جا سکتی۔ اصل کتاب کے خطی نسخے ایران، ہندوستان اور یورپ کے کتاب خانوں میں موجود ہیں، لیکن ابھی تک یہ کتاب کاملاً شائع نہیں ہوئی۔ ’’جوامع الحکایات‘‘ کے مصنف سدید الدین عوفی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بخارا میں پیدا ہوا اور اپنا شہر چھوڑ کر حاکم سمرقند جلال الدین ابراہیم بن حسین تمغاج خان کے دربار میں آ کر ملازم ہو گیا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس کے بعد وہ ماورا النہر، خراسان، سیستان اور ہندوستان کے کئی شہروں میں سیاحت کرتا رہا اور علماء اور مشائخ سے ملا، جس کا ذکر اس نے اپنی تصانیف میں کیا ہے۔ ’’جوامع الحکایات‘‘ کے مختلف انتخابات فارسی میں متعدد مرتبہ شائع ہوئے اور اسی طرح اس کے مختلف تراجم انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور دیگر زبانوں میں بھی شائع ہوئے۔ عوفی کی اس تالیف کا کینوس بہت وسیع ہے، اس میں ایسی پند آمیز تاریخی اور غیرتاریخی حکایات جمع کی ہیں، جن کا مقصود معاشرے کی اصلاح ہے۔ اس کتاب ’’جوامع الحکایات‘‘ کے انتخابات مختلف ادوار اور ممالک میں طلباء کی تربیت کرنے کے لیے نصاب میں شامل رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد باقر نے شیخ صالح محمد عثمانی کے ترجمے کو اس کی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر مرتب کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں نامانوس الفاظ کی فرہنگ بھی دی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Muhammad Baqir","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488039136,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/jamya-ul-haqayat-hindi-50_d3fec95b-f366-4fd5-8eca-4ec21849125d.jpg?v=1770968726"},{"product_id":"naqaliat-نقلیات","title":"Naqaliat - نقلیات","description":"\u003cp\u003eفورٹ ولیم کالج سے چھپی اس کتاب ’’نقلیات‘‘ کو گل کرسٹ کی تالیف بتایا جاتا ہے۔ لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ میر بہادر علی حسینی کی مرتب کردہ ہے جسے غلطی سے گل کرسٹ کی جانب منسوب کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں 108 نقلیں یا Tales شامل کی گئی ہیں۔ یہ کتاب فورٹ ولیم کالج کے مقاصد کے تحت لکھی گئی تھی جس کا مقصد انگریزوں کو مقامی زبان اُردو زبان و ادب سکھانے کے ساتھ ساتھ مقامی کلچر اور رسوم و رواج سے آشنا کرنا بھی تھا۔ اس کتاب میں شامل مختصر کہانیاں وہ ہیں جو اُس وقت عوام الناس میں مقبول تھیں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی تھیں۔ ابتدائی طور پر اس کتاب کو تین خطوں یعنی رومن، فارسی اور دیوناگری میں شائع کیا گیا۔ اُردو متن نستعلیق ٹائپ میں چھپا ہوا تھا اور کتاب کے ہر صفحے پر 13 سطریں اور ہر سطر میں 10 سے لے کر 13 الفاظ تھے۔ ٹائپ کے حروف اور جوڑ پوری طرح واضح تھے اور کسی ایک حرف کو دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں کسی طرح کی دقت کا سامنا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات دو دو لفظوں کو بغیر کسی ضرورت کے جوڑ دیا گیا تھا جیسے آپسمیں، لوگونسے، نظرونکا وغیرہ۔ جس طرح حروف اور الفاظ کو الگ الگ یا ملا کر لکھنے کے سلسلے میں کسی طرح کا اہتمام نہیں، اسی طرح اوقاف سے کام لینے کی کوشش کے باوجود ان کے استعمال میں کسی قاعدے یا اُصول کی پابندی نظر نہیں آتی۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eالبتہ اہتمام اور التزام اگر ہے تو اعراب کے استعمال کے معاملے میں کہ اس التزام کے بغیر لفظوں کے صحیح تلفظ کا پتا نہیں چلتا اور جن انگریز پڑھنے والوں کے لیے یہ نقلیں مرتب کی گئی ہیں، ان کے نقطۂ نظر سے اشد ضروری تھا کہ اعراب کے ذریعے لفظوں کے تلفظ کی وضاحت کی جائے۔ لیکن فارسی اور عربی کے بہت سے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے تلفظ کے معاملے میں بڑی بے احتیاطی برتی گئی ہے۔ اپنے انگریزی کے اختتامیہ میں گل کرسٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’نقلیات‘‘ کے متن میں لفظوں کے مختلف تلفظ استعمال کیے گئے ہیں جیسے روپیّا، روپّیا، روپئے، روپوں کا توڑا، روپے وغیرہ۔ ’’نقلیات‘‘ کے متن میں بعض لفظ اس طرح لکھے گئے ہیں کہ ان میں بظاہر کسی اُصول کی پابندی نظر نہیں آتی۔ علاوہ ازیں روزمرہ کے استعمال سے بے تکلفی پیدا کی گئی ہے اور لفظوں کی ترتیب بدل کر عام بول چال کی زبان سے قریب لایا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس کتاب ’’نقلیات‘‘ میں عوام الناس میں مقبول مختصر کہانیاں شامل جنہیں نقلیں کہا گیا ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب فورٹ ولیم کالج کے تحت انگریزی کو مقامی زبان و کلچر سکھانے کے لیے لکھی گئی۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب میں 108 نقلیں یا Tales یا کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Mir Bahadur Ali Hussaini","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488170208,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/naqlyaat-50.jpg?v=1770968859"},{"product_id":"nataij-ul-maani-نتائج-المعانی","title":"Nataij-ul-Maani - نتائج المعانی","description":"\u003cp\u003eآغا محمود بیگ راحت دہلوی کی یہ تصنیف ‘نتائج المعانی ٢٠٨ صفحات پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nمحمود بیگ راحت حکیم مومن خان مومن کے شاگرد اور صاحبِ طرز انشا پرداز تھے۔\u003cbr\u003e\nمقدمہ میں مصنف کی سوانح حیات اور ادبی قدر و قیمت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب حکایات کا مجموعہ ہے۔\u003cbr\u003e\nبقول محمد سلیم الرحمن حکایتوں کی دل چسپی سے قطع نظر اس کتاب کی افادیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ایک کھڑکی ہے جو انیسویں صدی کے نصف اول کی طرف کھلتی ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Mahmood Baig Rahat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488366816,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-02-27-at-12.35.19-AM.jpg?v=1770968829"},{"product_id":"johar-e-akhlaq-جوہرِ-اخلاق-دلچسپ-اخلاقی-کہانیاں","title":"Johar-e-Akhlaq - جوہرِ اخلاق (دلچسپ اخلاقی کہانیاں)","description":"\u003cp\u003e’’جوہرِ اخلاق‘‘ دراصل ڈھائی ہزار سال قبل کے مشہور یونانی نصیحت آموز تماثیل لکھنے والے ایسپ (Aesopus) یا (Aesop) کی حکایات کا اُردو ترجمہ ہے۔ البتہ یہ معلوم نہیں ہے یہ ترجمہ براہِ راست یونانی سے یا انگریزی کے توسط سے کیا گیا ہے۔ انگریزی تراجم میں سو سے زیادہ حکایات ہیں جبکہ جیمز فرانسس کارکرن نے صرف پچاس حکایات کا ترجمہ پیش کیا ہے۔ انگریزی کے تراجم میں ہر حکایت کے آخرمیں ’’نتیجہ‘‘ یا \"Moral” نثر میں دیا ہوا ہے لیکن کارکرن نے اس کی بجائے ہر حکایت کے اختتام پر ’’حاصل‘‘ کے عنوان سے دو سے چار شعر ہم وزن درج کیے ہیں۔ یہ شعر بھی کارکرن نے خود لکھے ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اُردو کا شاعر بھی تھا اور بے عیب شعر لکھتا تھا۔ اصل نسخے کی املا میں چند نامانوس یا آج کل کے رواج کے خلاف جو کلمات نظر آتے ہیں، مجلس ترقی ادب لاہور نے ان کی املا کی وہی شکل اختیارکی ہے جو آج کل رائج ہے اور جس سے اُردو قارئین اچھی طرح مانوس ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eکارکرن نہ صرف اُردو کا ماہر تھا بلکہ عربی، فارسی اور ہندی میں بھی وارد تھا اور نسلاً انگریز تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اُس کی اُردو میں ان تمام زبانوں کی آمیزش کی جھلک نظر آتی ہے اور وہ محاورات، تراکیب، اسالیبِ بیان اور امثال کو کبھی کبھی اپنے نقطۂ نظر سے وضع کرتا ہے، لیکن نفسِ مضمون کو اس انداز سے نبھاتا ہے کہ اُس کی یہ روش گراں نہیں گزرتی۔ کارکرن کا یہ کتابچہ اس حقیقت کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ عصرِ حاضر میں اُردو کو عالمانہ اور معیاری سانچوں میں گانٹھ باندھ کر اس کی وسعت، ہردلعزیزی اور ہمہ گیری کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اُردو بنیادی طور پر ایک مرکب زبان ہے۔ ہر زبان کے الفاظ کو اپنے اندر سمونے اور جذب کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور مختلف زبانوں کے اسالیبِ بیان کو بھی اپناتی ہے اگر ہم نئے نئے محاورات، تراکیب، امثال اور اسالیب بیان کا اضافہ اُردو میں کرتے رہیں تو اس کا دامن وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔ کارکرن نے جوہرِ اخلاق میں کلمات، محاورات، تراکیب، امثال اور اسالیبِ بیان کو نہایت چابک دستی سے استعمال کیا ہے اور متن میں اس طرح سجایا ہے کہ حرف گیری کرنے کو جی نہیں چاہتا بلکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آج سے سو سوا سو سال پہلے اُردو کس قدر وسیع زبان تھی۔\u003c\/p\u003e","brand":"James Francis Karkarn","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488497888,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/johar-e-ikhlaq-50_282958e9-7b78-48eb-bbdc-da84fb91248e.jpg?v=1770968807"},{"product_id":"kuliyat-e-shah-naseer-کلیاتِ-شاہ-نصیر-جلد-سوم","title":"Kuliyat-e-Shah Naseer - کلیاتِ شاہ نصیر (جلد سوم)","description":"\u003cp\u003eشاہ نصیر دہلوی اپنے عہد کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سخن ورانہ معرکہ آرائیوں میں گزارا۔ ان کے مطارحوں اور شاعرانہ رزم آرائیوں کا ذکر ان کے بیشتر قریب العہد تذکروں میں موجود ہے جس سے اُن کے زمانے کی ادبی فضا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ بایں ہمہ اُن کی زندگی کا کوئی مربوط خاکہ کہیں نہیں ملتا۔ اتنا ظاہر ہے کہ ایک خانوادۂ تصوف سے تعلق کے باوجود اُنھیں سبحہ و سجادہ سے کہیں زیادہ دلچسپی شعر و سخن سے تھی۔ شاہ نصیر زبان و بیان کے شاعر تھے۔ ان کے بیشتر اشعار زبان کے لحاظ سے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ ان کی زبان اپنے اکثر معاصرین کے مقابلے میں نئی معلوم ہوتی ہے۔ دہلی کے اسلوب کے تعین میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ شاہ نصیر کے دیوان کے قلمی نسخوں میں غالباً قدیم ترین کتب خانۂ آصفیہ کا نسخہ ہے۔ سب سے بعد کا نسخہ رضا لائبریری کا ہے جو بہ اعتبار کلام دوسرے نسخوں سے زیادہ مبسوط اور مکمل ہے۔ کلیاتِ شاہ نصیر کے متن کی ترتیب میں تین قلمی نسخے، دو قلمی انتخاب اور دو مطبوعہ نسخے ڈاکٹر تنویر احمد علوی کے پیشِ نظر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے شاہ نصیر کے عہد کے تذکروں اور بعد کے کچھ مستند مآخذوں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ترتیبِ متن میں قدیم تر اور نسبتاً زیادہ صحیح نسخے کو مرجع سمجھا گیا ہے۔ باقی روایتوں کو حواشی میں جگہ دی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eشاہ نصیر کا شمار اپنے عہد کے ممتاز شعرا اور دہلی کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک خانوادہ تصوف سے تھا، لیکن اس کے باوجود شعر و سخن سے کافی زیادہ دلچسپی تھی۔ ان کی شاعری کا زمانہ اردو شعر ادب کی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے جس وقت معنی سے زیادہ صورت اور معیار سے زیادہ مقدار کی اہمیت پر زیادہ زور دیا جا رہا تھا۔ دہلی کے علاوہ بعض دوسرے شہروں میں بھی مشاعرے عام ہو چکے تھے۔ مقامی اور غیرمقامی طور پر گروہ بندیاں بنتی جا رہی تھیں۔ بحور اوزان سے واقفیت اور الفاظ و محاوارت پر قدرت کو کمال استادی اور معیار شاعری سمجھا جانے لگا تھا۔ شاہ نصیر کے شعور و شعر کا مطالعہ ان کے عہد کے اسی ادبی میلان اور شاعرانہ افتاد مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جانا چاہئے۔ ’’کلیات شاہ نصیر‘‘ ان کے تین قلمی نسخوں، دو قلمی انتخابات اور دو مطبوعہ نسخوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ کلیاتِ شاہ نصیر کا مکمل اور صحیح متن، مبسوط حواشی کے ساتھ پہلی بار مجلس ترقیِ ادب لاہور نے شائع کیا ہے جسے ایک طویل مبسوط مقدمہ کے ساتھ تنویر احمد علوی نے چار جلدوں میں ترتیب دیا ہے۔ زیر نظر اس کلیات کی جلد سوم ہے جس میں ردیف ی کی غزلیات شامل ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Shah Nasir Dehalvi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488661728,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/qulyate-e-shah-naseer-3-50p.jpg?v=1770968983"},{"product_id":"diwan-e-saba-دیوانِ-صبا","title":"Diwan-e-Saba - دیوانِ صبا","description":"\u003cp\u003eمیر وزیر علی نام اور صبا تخلص تھا۔ میر بندہ علی کے بیٹے تھے۔ اُن کے ماموں میر اشرف علی نے ان کو اپنا متنبیٰ قرار دیا تھا۔ لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ اُس زمانے میں علومِ قدیمہ کا زور شور تھا۔ عربی صرف و نحو اور منطق کے ساتھ ساتھ دیگر علومِ قدیمہ جیسے فنِ طب اور علمِ کلام کا درس لینا شریف زادوں کا شیوہ اور امیر زادوں کا لازمی شمار تھا۔ میر وزیر علی صبا نے ایسے ہی ماحول میں آنکھیں کھولیں اور ایک اچھے شریف زادے کی طرح فارسی کی اعلیٰ اور عربی کی بقدر ضرورت تعلیم حاصل کی۔ ذرا ہوش سنبھالا تو ہر طرف شعر و سخن کی محفلیں آراستہ تھیں۔ شاعرانہ مزاج کے باعث شعرگوئی کی طرف متوجہ ہوئے۔ صبا نے آتش کا رنگِ تغزل پسند کیا اور انھی کے شاگرد ہو گئے۔ اور بہت جلد شعر گوئی میں مشتاق ہو گئے۔ آتش کے شاگردوں میں خوب نام پیدا کیا اور بعد کو خود بھی استاد ہوئے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eمیر وزیر علی صبا کی شاعری ان کے زمانے کی لکھنوی شاعری کا بہترین نمونہ ہے۔ لطفِ بیان اور اندازِ بیان لاجواب ہے۔ چھوٹی چھوٹی بحروں میں صبا نے سلاست اور روانی کے دریا بہائے ہیں۔ صبا کو زبان پر پوری پوری قدرت حاصل تھی۔ ان کے یہاں محاورات کا استعمال بہت ہی منتخب اور برمحل ہے۔ البتہ وہ رعایتِ لفظی سے پرہیز کرتے تھے، لیکن جہاں کہیں رعایتِ لفظی ہے وہاں تصنع اور مہملیت بھی صاف ظاہر ہے۔ صبا کے یہاں بہت سی غزلوں میں تو سلاست اور روانی اس درجہ ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ صبا کا خاص رنگ یہی ہے۔ بعض ناقدین کی رائے میں صبا کے کلام میں لکھنویت بہت زیادہ ہے اور اُن کے ہاں بامزہ اشعار کی کمی ہے اور ان کے کلام کا رنگ آتش کے مقابلے میں ناسخ سے قریب تر ہے۔ لیکن حقیقت میں صبا کے بہت سے اشعار ان عیبوں سے پاک ہیں اور ان کے اکثر اشعار آتش ہی کے رنگ میں ہیں۔ وہی خیال کی دلفریبی، وہی بیان کی رنگینی، وہی ندرتِ خیال، وہی سلاست، وہی قلب واردات اور وہی مضمون کی بلندی۔ اس کے باوجود صبا کے رنگ کو ناسخ کے رنگ سے قریب تر خیال کرنا، یا صبا کو درجۂ دوم کے شاگردوں میں شمار کرنا، اُس عظیم فنکار کے ساتھ کھلی ناانصافی ہوگی۔\u003c\/p\u003e","brand":"Mir Wazir Ali Saba Lakhnawi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488825568,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/dewan-e-sabha-50_d0fa0e37-351f-4628-acfa-acaab2bb67dc.jpg?v=1770968874"},{"product_id":"masnavi-hasht-e-adl-with-wasoukht-مثنوی-ہشت-عدل-مع-واسوخت","title":"Masnavi Hasht-e-Adl with Wasoukht - مثنوی ہشت عدل مع واسوخت","description":"\u003cp\u003eمثنوی ہشت عدل مع واسوخت” محمود بیگ راحت کی تصنیف ہے۔”\u003cbr\u003e\nاس کتاب کو گوہر نوشاہی نے مرتب کیا ہے۔\u003cbr\u003e\nآغا محمود بیگ نام اور تخلص ‘راحت’ تھا۔ ان کا آبائی وطن روم تھا۔\u003cbr\u003e\nسپاہی پیشہ اور جواں مرد تھے۔\u003cbr\u003e\nشاعری میں حکیم مومن خان سے اصلاح لیتے تھے۔ یہ مثنوی ان کی شاعرانہ قابلیت کا ایک نمونہ ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب ١٤٢ صفحات پر مشتمل ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Mahmood Baig Rahat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611488989408,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-06-at-1.00.46-AM.jpg?v=1770968830"},{"product_id":"wasookhat-واسوخت","title":"Wasookhat - واسوخت","description":"\u003cp\u003eامانت لکھنوی شاعر، ڈراما نگار، سید آغا حسن نام، سید آغا رضوی کے بیٹے، لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ وہیں علومِ مروجہ کی تحصیل کی۔ شروع میں مرثیے کہتے اور میاں دلگیر سے اصلاح لیتے تھے۔ پھر غزل پر طبع آزمائی کرنے لگے۔ 1835ء میں بعمر بیس سال کسی بیماری سے زبان بند ہو گئی اور قوت گویائی سے محروم ہو کر خانہ نشین ہو گئے۔ دس برس تک یہی حالت رہی۔ 43۔1842 میں کربلا روانہ ہوئے 1844ء میں لکھنؤ واپس آئے تو ان کی زبان کھل گئی۔ امانت نے اردو کا پہلا ڈراما اندر سبھا لکھا۔ اس میں وہ استاد تخلص کرتے ہیں۔ امانت لکھنوی کی درج ذیل تصانیف ہیں: (۱) دیوان خزائن الفصاحت، 1861ء؛ (۲) گلدستہ امانت، 1852ء؛ (۳) اندر سبھا، 1848ء؛ (۴) واسوخت 1843ء۔ واسوخت نظم کی وہ قسم ہے جس میں عاشق اپنے معشوق کی بے وفائی، ظلم و ستم، رقیب کے ساتھ بے جا محبت اور جدائی کی مصیبت و تکالیف کی شکایتیں کرتا ہے۔ امانت نے صرف دو واسوخت لکھے۔ لکھنو کی بنیادوں پر امانت نے اپنے واسوخت کا عظیم الشان محل تعمیر کیا۔ ہرچند اس کا نقشہ پرانا تھا اور اس میں کوئی خاص ترمیم بھی نہ کی گئی تھی، لیکن مسالہ خالص لکھنو کی سرزمین سے جمع کیا گیا تھا اور واجد علی شاہ اس کے دور کا آئینہ دار تھا۔ امانت نے پہلا واسوخت اپنی جوانی کے آغاز میں لکھا جس کے ایک سو دس بند تھے۔ یہ ابھی پوری طرح منظرِ عام پر نہ آنے پایا تھا کہ اس کے ایک دوست نے اسے لے کر دبا لیا اور مانگنے کے باوجود واپس نہ کیا۔ یہی واسوخت آج ایک سو سترہ بندوں کی شکل میں محفوظ ہے۔ امانت کا دوسرا واسوخت اُردو شاعری میں طویل ترین واسوخت ہے اور دراصل یہی واسوخت ہے جس سے اس میدان میں امانت کی عظمت کا سکہ بیٹھا۔ یہ واسوخت تقریباً چار سال کے عرصے میں لکھا گیا جس دوران امانت کئی بار بیمار پڑا۔ البتہ معلوم نہیں وہ جذبہ کس قدر شدید ہوگا جس کے تحت یہ واسوخت باوجود طویل رکاوٹوں کے لکھا جاتا رہا اور اس قدر طوالت کے باوصف اس میں غیرمعمولی ناہمواری اور اظہار و بیان کی خرابی بار نہ پا سکی۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eیہ کتاب سیّد آغا حسن امانت لکھنوی کے انہی دو واسوخت پر مشتمل ہے جنہیں قیوم نظر نے مرتب کیا ہے۔ امانت کے یہ دونوں واسوخت ایک دوسرے کا تتمہ اور تکملہ ہیں اور اپنی رنگینیِ اسلوب، شیرینیِ اظہار اور رعنائی خیال کے لیے معروف ہیں۔ جہاں کہیں ذوق چیں بہ چیں ہونا چاہتا ہے، وہاں امانت کمال صنعت گری سے معاملے کو سنبھال لیتا ہے۔ پرانی وضع داری کی تمکین اور امانت کی بے لاگ معاملہ بندی باہمی کیا سمجھوتا کرتی ہے، یہ ایک دلچسپ داستان ہے اور فاضل مرتب قیوم نظر نے اس دبستان کو بہت دل فریب بنا دیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Agha Hassan Amanat Lakhnawi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611489153248,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/wasookht-50_82eb8faf-cf2c-4828-a29b-37e8231cbf75.jpg?v=1770968642"},{"product_id":"safar-سفر","title":"Safar - سفر","description":"\u003cp\u003eسفر” ایس اے رحمان کی چھ نظموں پر مشتمل کتاب ہے۔”\u003cbr\u003e\nاس میں تخلیقِ پاکستان کا پسِ منظر بیان کیا گیا ہے گویا یہ تخلیقِ پاکستان کی شعری داستان ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب میں عبدالرحمن چغتائی کی شاہکار تصاویر بھی شامل ہیں۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب اسی صفحات پر مشتمل ہے\u003c\/p\u003e","brand":"SA Rahman","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611489317088,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-01-at-2.12.27-AM_1b2a222e-7fc2-4cfe-99fd-7d329fe5e7e1.jpg?v=1770968970"},{"product_id":"zuban-aur-shairi-زبان-اور-شاعری","title":"Zuban Aur Shairi - زبان اور شاعری","description":"\u003cp\u003eمحمد ہادی حسین کی لکھی ہوئی اس کتاب کا موضوع جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، زبان اور شاعری ہے۔ کتاب ’’زبان اور شاعری‘‘ کئی برس پہلے اُردو ٹائپ یعنی نسخ میں چھپی تھی۔ اب دوسرا ایڈیشن نستعلیق میں شائع ہوا ہے۔ اُردو میں تنقید کا مضمون بھی دیگر کئی اصنافِ نظم و نثر کی طرح مغربی ادبیات سے آیا ہے۔ مصنف کے تعارف میں ان کی ایک کتاب ’’مغربی شعریات‘‘ ہے جو شاعری پر تنقیدی کتب میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eضخامت کے اعتبار سے یہ ایک مختصر سی کتاب ہے۔ مگر اس کے مضامین خیر الکلام ما قلّ و دلّ کا مفہوم رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں زبان کی اہمیت اور زبان پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا اختصار کے ساتھ مگر قابلِ فہم انداز میں تذکرہ ہے۔ کتاب چھے ابواب پر مشتمل ہے۔ ہر باب ایک الگ موضوع اور مضمون کا حامل ہے مگر زبان کی علامتی حوالوں سے شاعری میں اہمیت اور حیثیت کے بارے میں مباحث میں ایک نامیاتی تسلسل پایا جاتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ شاعری اور لسانیات کے بارے میں تحقیقی اور تخلیقی ہر دو حوالوں سے فائدہ مند ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Muhammad Hadi Hussain","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611489808608,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/zuban-aur-shayeri-50.jpg?v=1770968902"},{"product_id":"yadasht-e-hai-maulvi-muhammad-shafi-یادداشت-ہاے-مولوی-محمد-شفیع","title":"Yadasht-e-Hai Maulvi Muhammad Shafi - یادداشت ہاے مولوی محمد شفیع","description":"\u003cp\u003eعلامہ مولوی محمد شفیع کی علمی یادداشتوں کا یہ مجموعہ اُن کی مختلف کاپیوں اور متفرق کاغذوں سے اور اُن کے زیرِ مطالعہ کتابوں میں لکھے ہوئے حواشی اور اشارات سے مرتب کیا گیا ہے، اپنی نوعیت کی پہلی چیز ہے۔یادداشتوں کے اس ذخیرے سے ایک طرف علم و ادب کے گوشے روشن ہوتے ہیں تو دوسری طرف تہذیب و تمدن کی تمام سمتوں میں تحقیق کی راہیں کھلتی ہیں۔ یہ یادداشتیں مولوی شفیع کے وسیع اور عمیق مطالعے کے نقوش ہیں۔ یہ یادداشتیں وہ اپنے تحقیقی منصوبوں کے لیے مرتب کرتے رہے تھے۔ مولوی محمد شفیع کے تحقیقی کام کی اہمیت و عظمت اور بین الاقوامی شہرت کا راز یہی ہے کہ اُنھوں نے ہر قسم کی تحقیق سے پہلے اُس کے لیے حوالے کی کامل یادداشتیں علمی اُصولوں کے مطابق مرتب کیں۔ بعد میں انہی علمی نقشوں سے ان کی تصنیف و تحقیق کی عالیشان عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ اسی ذخیرے میں ایسی متفرق یادداشتیں بھی ہیں جن کی مدد سے وہ مختلف کتابیں اور مقالے تصنیف کرنا چاہتے تھے مگر زندگی نے اس کی مہلت نہ دی۔ اب یہ سرمایہ تحقیقی میدان میں آنے والے قافلوں کے کام آ سکتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eیہ یادداشتیں جابجا بکھرے ہوئے موتیوں کی صورت تھیں، جنھیں تلاش کر کے لڑیوں میں پرو کر یکجا کر دیا گیا ہے۔ یادداشتوں کا یہ مجموعہ چار حصوں پر مشتمل ہے: (۱) شرف الدین علی یزدی کے ظفرنامے کا دیباچہ، (۲) خلاصۂ یزدی، (۳) فواید از یزدی، (۴) یادداشتہای علامہ مولوی محمد شفیع۔ اس مجموعے کے آخر میں جو مندرجہ بالا چار حصوں پر مشتمل ہے، مراجعے کی سہولت کے لیے یادداشتوں کے حسب ذیل چار اشاریے مرتب کر کے شامل کیے گئے ہیں۔ (۱) اسامی، اشخاص و اقوام و قبایل، (۲) اسامی جغرافیائی، (۳) رسوم و معلومات، (۴) اسامی اشیاء وغیرہ۔ اکثر یادداشتیں اُردو میں ہیں اور چند مقامات پر انگریزی یا فارسی میں۔ اُردو یادداشت کے ساتھ مرتب نے قلابین [] میں فارسی ترجمہ درج کر دیا ہے تاکہ بیرونی ممالک کے وہ فارسی دان بھی جو اُردو نہیں جانتے استفادہ کر سکیں۔ یادداشتوں کے اس مجموعے میں جو اسمی اختصارات اور علائم و رموز استعمال کیے گئے ہیں، اُن کی تفصیل و توضیح ملحقہ فہرست میں دے دی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Maulvi Muhammad Shafi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611489972448,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/yadasht-haaye-molvi-shafi-50.jpg?v=1770968843"},{"product_id":"gheeb-e-shuhood-غیب-و-شہود","title":"Gheeb e Shuhood - غیب و شہود","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب سر آرتھر اسٹینلے اڈنگٹن کے ایک خطبے کا ترجمہ ہے، جس کا عنوان ’’سائنس اور عالمِ غیب‘‘ ہے۔ یہ ترجمہ سیّد نذیر نیازی نے کئی سال پہلے مجلس ترجمہ کے لیے کیا تھا۔ اب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن خط نستعلیق میں شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے دیباچہ اور تصریح کے عنوانات کے تحت بعض باتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ دیباچہ 1930ء میں اس خطبے کی طباعتِ پنجم کے لیے لکھا گیا تھا جس میں سوارتھ مور لیکچرشپ (موسسہ دسمبر 1907ء) کے تحت دیے گئے اس خطبے کے محرک اغراض و مقاصد اور مقام اور وقت بیان کیا گیا ہے۔ اس دیباچے کی تصریح کے بعد مترجم نے الگ سے ایک چوبیس صفحات پر مشتمل بھرپور مقدمہ تحریر کیا ہے۔ جس میں اڈنگٹن کے نظریۂ علم اور اس خطبے کے ترجمے کا نام غیب و شہود رکھنے کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ سیّد نذیر نیازی نے اس مقدمے میں مترجمین کے مسائل اور ترجمہ نگاری کی اہمیت سے اربابِ علم و اختیار کی عدم توجہی اور سنجیدگی کے فقدان کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ سائنس اور مذہب بالخصوص اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے جس کی رو سے قرآن نے انسان کو کائنات کے بارے میں غور و فکر کرنے اور آیاتِ الٰہیہ اور فاطر السموات کی قدرتوں پر ایمان لانے کی ترغیب دی ہے۔ مترجم نے مقدمے میں اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ انھوں نے اس خطبے کا ترجمہ غیب و شہود رکھنے کی توجیہہ بھی کی ہے۔ اس کے بعد ’’غیب و شہود‘‘ کے عنوان سے اڈنگٹن کا خطبہ جو اڑتیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ’’استدراک‘‘ کے عنوان سے الگ باب قائم کرکے اڈنگٹن کے خطبے پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ آخری پانچ صفحات میں کتاب میں استعمال ہونے والی (انگریزی میں) اصطلاحات اور اسما کے اُردو تراجم دیے گئے ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Arthur Stanley Eddington","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611490103520,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/gaib-o-shahod-340x520-1.jpg?v=1770968993"},{"product_id":"apnay-dukh-mujhy-de-do-اپنے-دکھ-مجھے-دے-دو","title":"Apnay Dukh Mujhy De Do - اپنے دکھ مجھے دے دو","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب ”اپنے دکھ مجھے دے دو” راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا مجموعہ ہے جو 174 صفحات پرمشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب میں نہایت شاندار افسانے جمع ہیں۔ راجندر سنگھ بیدی اردو کے ان چند نمایاں افسانہ نگاروں میں شامل ہیں\u003cbr\u003e\nجنہیں بجا طور پر صاحبِ اسلوب کہا جا سکتا ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Rajinder Singh Baidi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611490300128,"sku":null,"price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-05-at-12.30.05-PM.jpg?v=1770968960"},{"product_id":"dana-o-daam-دانہ-و-دام","title":"Dana o Daam - دانہ و دام","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب \"دانہ و دام راجندر سنگھ بیدی کے شاندار افسانوں کا مجموعہ ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب 110 صفحات ھٹپر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nبقول رشید صدیقی راجندر سنگھ بیدی جزو کو کل سے زیادہ دلچسپ بنا دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Rajinder Singh Baidi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611490463968,"sku":null,"price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-05-at-12.43.19-PM.jpg?v=1770968961"},{"product_id":"grahan-گرہن","title":"Grahan - گرہن","description":"\u003cp\u003eہ کتاب \"گرہن” راجندر سنگھ بیدی کے بے بدل افسانوں پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب کے صفحات کی تعداد 118 ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب میں بیدی لکھتے ہیں ” میرے خیال میں اظہارِ حقیقت کیلئے ایک رومانی نقطہِ نظر کی ضرورت ہے\u003cbr\u003e\nبلکہ مشاہدے کے بعد پیش کرنا انداز کے متعلق سوچنا بجائے خود کسی حد تک رومانی طرزِ عمل ہےاور اس اعتبار سے مطلق حقیقت نگاری بحیثیت فن غیر موزوں ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Rajinder Singh Baidi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611490627808,"sku":null,"price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-05-at-12.53.38-PM.jpg?v=1770968962"},{"product_id":"sirgazisht-e-aseer-سرگزشتِ-اسیر","title":"Sirgazisht e Aseer - سرگزشتِ اسیر","description":"\u003cp\u003e‘سرگزشتِ اسیر’ فرانسیسی رائٹر وکٹر ہیوگو کے ڈرامے ” The last days of condemned” کے اردو ترجمے پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب 96 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مصنف سعادت حسن منٹو ہیں۔\u003cbr\u003e\nسزائے موت کی تنسیخ کے نظریہ کے حوالے سے یہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سعادت حسن منٹو ایک عظیم افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باکمال مترجم بھی تھے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Saadat Hassan Manto","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611490791648,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-01-at-12.56.09-PM.jpg?v=1770968972"},{"product_id":"afsanay-aur-daramay-افسانے-اور-ڈرامے","title":"Afsanay Aur Daramay - افسانے اور ڈرامے","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب ‘افسانے اور ڈرامے’ سعادت حسن منٹو کے تیرہ افسانوں اور ڈراموں پر مشتمل ہے\u003cbr\u003e\nسعادت حسن منٹو زندگی کے مصور ہیں۔ انہوں نے ان افسانوں اور ڈراموں میں اپنے حسنِ تحریر سے جو پینٹگز بنائی ہیں.\u003cbr\u003e\nوہ نہ صرف معاشرے کی عکاس ہیں قاری کی فکر کو اس طرح جھنجوڑتی ہے کہ وہ خود کر ان ڈراموں اور افسانوں کا حصہ محسوس کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Saadat Hassan Manto","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611490955488,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-01-at-12.11.06-PM_ddc3c5d0-1faf-4ca6-9d3e-beb35e5eb7d8.jpg?v=1770968973"},{"product_id":"chughad-چغد","title":"Chughad - چغد","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب ‘چغد’ سعادت حسن منٹو کے بہترین افسانوں کا مجموعہ ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ 96 صفحات پر مشتمل ہے۔ معیاری ادب ارزاں نرخوں پر قارئین تک پہنچانے کا جو سلسلہ مجلس ترقی ادب نے شروع کیا ہے یہ کتاب اسی سلسلے کی کڑی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Saadat Hassan Manto","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611491119328,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-01-at-11.49.02-AM-1_5a6c9a0c-ed1b-46b3-b156-e9657fa06788.jpg?v=1770968974"},{"product_id":"ghabbar-e-khatir-غبارِ-خاطر","title":"Ghabbar e Khatir - غبارِ خاطر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمولانا ابوالکلام آزاد ایک صاحبِ اسلوب نثر نگار ہیں۔\u003cbr\u003eیہ خطوط انہوں نے قلعہ احمد نگر میں تین سالہ قید کے دوران نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کے نام تحریر کیے۔\u003cbr\u003eمولانا کی زندگی مختلف اور متضاد حیثیتوں میں بٹی ہوئی تھی۔ وہ بیک وقت ایک مقرر مفکر مصنف اور فلسفی کے روپ میں نظر آتے ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Maulana Abul Kalam Azad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611491315936,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-02-at-2.36.08-PM_f23db101-e616-4b4b-84d1-b91dab575042.jpg?v=1770968637"},{"product_id":"badshahat-ka-khatma-بادشاہت-کا-خاتمہ","title":"Badshahat Ka Khatma - بادشاہت کا خاتمہ","description":"\u003cp\u003eہ کتاب ‘بادشاہت کا خاتمہ’ منٹو کے گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب 96 صفحات پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب کے پیش لفظ میں منٹو لکھتے ہیں۔ \"مجھے ان افسانوں کے متعلق صرف یہ کہنا ہے کہ یہ میرے افسانے ہیں”۔\u003cbr\u003e\nاس جملے سے اس کتاب کی افادیت کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Saadat Hassan Manto","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611491479776,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-01-at-12.40.35-PM.jpg?v=1770968975"},{"product_id":"namrood-ki-khudai-نمرود-کی-خدائی","title":"Namrood Ki Khudai - نمرود کی خدائی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eیہ کتاب \"نمرود کی خدائی” سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔\u003cbr\u003eیہ کتاب 88 صفحات پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں ‘کھول دو’ اور ‘ہرنام کور’ جیسے شاہکار افسانے شامل ہیں۔ یہ کتاب ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Saadat Hassan Manto","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611491643616,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-02-at-3.34.09-PM.jpg?v=1770968976"},{"product_id":"hath-hamaray-qalam-hue-ہاتھ-ہمارے-قلم-ہوئے","title":"Hath Hamaray Qalam Hue - ہاتھ ہمارے قلم ہوئے","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب \"ہاتھ ہمارے قلم ہوئے” راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب 110 صفحات پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کتاب میں راجندر سنگھ بیدی کے معروف افسانے ‘صرف ایک سگریٹ’ اور ‘کلیانی’ بھی شامل ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Rajinder Singh Baidi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611491872992,"sku":null,"price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-01-05-at-12.37.02-PM.jpg?v=1770968964"},{"product_id":"nishtar-novel-نشتر-ناول","title":"Nishtar (Novel) - نشتر (ناول)","description":"\u003cp\u003eناول ’’نشتر‘‘ کا پلاٹ سچے واقعات پر مبنی ہے جو 1199ھ مطابق 1785-84ء کے دوران میں خود صاحبِ تصنیف پر گزرے اور اس نے اپنی زبان (اس عہد کی سادہ مروجہ فارسی) میں آپ بیتی کے طور پر اس واقعے کے تقریباً چھ سال بعد قلم بند کیے۔ اصل کتاب طبع نہ ہو سکی مگر اس کا ایک قلمی نسخہ منشی سجاد حسین کسمنڈوی مرحوم کو 1894ء میں دستیاب ہوا اور اُنھوں نے سلیس اور عام فہم اُردو زبان میں اس کا ترجمہ کر دیا۔ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی بیان کی سادگی اور صداقت ہے جو نہایت خلوص و دیانت سے آشکار کر دی ہے اور اس کی شخصیت و کردار کا خلوص جگہ جگہ نمایاں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف نہایت شریف النفس، سادہ مزاج اور نیک دل نوجوان ہے اور اپنی فطری نادانی اور سادہ لوحی کو چھپانے پر مطلق قادر نہیں یا چھپانا نہیں چاہتا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاگرچہ اس تالیف کو اصطلاحاً ناول نہیں کہا جا سکتا کیونکہ پلاٹ میں جگہ جگہ جھول نظر آتا ہے اور واقعات کی ترتیب میں تناسب بھی قائم نہیں رہ سکا، لیکن سچی داستانِ محبت لگنے کی وجہ سے قاری تکنیک کی خامیوں کے باوجود مصنف کے بیان کے سوز و گداز سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے بعض اوقات اسے مثنوی زہرِ عشق کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Muhammad Mohsin Shah","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611492036832,"sku":null,"price":110.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/nishter.jpg?v=1770969028"},{"product_id":"gul-e-maghfirat-گلِ-مغفرت","title":"Gul-e-Maghfirat - گلِ مغفرت","description":"\u003cp\u003eحیدر بخش حیدری، فورٹ ولیم کالج کے ان انشاپردازوں میں شامل تھے جو متنوع مضامین پر تصانیف و تالیفات کے اہل تھے۔ خانوادۂ تیمور کے آخری عہد کے مشہور خطیب اور مصنف حسین واعظ کاشفی نے جس کی تصنیف ’’انوار سہیلی‘‘ دُنیا کی اہم ترین کتابوں میں شامل ہے، ایک تالیف ’’روضۃ الشہدا‘‘ مرتب کی تھی؛ حیدری نے اس کا ترجمہ کیا لیکن پھر اس کی طوالت کے پیشِ نظر ’’گلِ مغفرت‘‘ کے نام سے اس کے مطالب کی تلخیص کر دی۔ جیسا کہ اس کتاب کے نام سے مترشح ہوتا ہے، مؤلف نے یہ کتاب اعتقادی جذبے کے تحت لکھی تھی اور اکثر مصنفوں کی طرح اسے اپنی اور عام پڑھنے والوں کی نجات کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ وہ ایک خوش اعتقاد، محب اہلِ بیت بزرگ تھے۔ حیدری کو خاندانِ رسولؐ سے جو لگائو تھا، اُنھوں نے یہ کتاب اسی عقیدت کی بنا پر لکھی ہے۔ اس کتاب میں اُنھوں نے مناقب اہلِ بیت اور کوائف واقعۂ کربلا کے متعلق سولہ مجلسوں کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eحیدری نے یہ کتاب مولوی حسین علی کی فرمائش پر تالیف کی تھی اور اس کی تہہ میں خلوص و عقیدت کے جذبات کارفرما تھے۔ عقیدے کے اظہار میں آرائش و تکلف سے عموماً اجتناب برتا جاتا ہے؛ چنانچہ اس کتاب کی عبارت نہایت رواں، سلیس اور شگفتہ ہے۔ کہیں کہیں عربی اور فارسی الفاظ استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر حامد حسن قادری کی رائے کے مطابق چھوٹے جملے، ہندی الفاظ، روزمرہ اور محاورہ اس طرح بھرتے ہیں کہ ان کی عبارت نہایت دل کش ہو جاتی ہے۔ حیدری کے اسلوب میں دبستانِ دہلی کی نثر کی سادگی کے ساتھ وہ رنگین انداز موجود ہے جو اُن دنوں شمالی ہند میں عام تھا اور جس سے غالب جیسے جدت پسند بھی اعتنا کرتے تھے۔ ’’گلِ مغفرت‘‘ میں جابجا نظم کے ٹکڑے بھی آئے ہیں جن میں سے بیشتر نوحوں کا انداز رکھتے ہیں اور ہیئت کے لحاظ سے مستزاد قرار پاتے ہیں۔ کتاب شروع میں ڈاکٹر ناظر حسن زیدی کا ایک فاضلانہ مقدمہ شامل ہیں جس میں اُنھوں نے بہت دقتِ نظر سے کام لے کر حیدری کے اسلوب کا تجزیہ کیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Haider Bakhsh Haideri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611492200672,"sku":null,"price":150.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/gule-magfirat-50.jpg?v=1770969022"},{"product_id":"khatoot-banaam-sir-syed-خطوط-بنام-سرسیّد","title":"Khatoot Banaam Sir Syed - خطوط بنام سرسیّد","description":"\u003cp\u003eسرسیّد احمد خان انیسویں صدی کی وہ عہد آفریں شخصیت تھے جن کی ہمہ گیری کے اثرات بیک وقت ادب، سیاست، معاشرت، تعلیم، مذہب اور صحافت پر پڑے۔ سرسیّد کے متعدد عظیم الشان کارناموں میں سے ان کی ادبی خدمات کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے سترہ برس کی عمر میں قلم سنبھالا اور وفات تک برابر لکھتے رہے۔ اس طویل عرصے میں انہوں نے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں تصنیف اور تالیف کیں۔ دوسروں کی کتابیں تصحیح کے بعد شائع بھی کیں۔ مگر سرسید کی ادبی حیثیتوں میں سب سے بڑی اور سب سے نمایاں حیثیت ان کی مضمون نگاری اور مقالہ نویسی ہے۔ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے اور سب سے اعلی مضمون نگار تھے۔ انہوں سے سینکڑوں مضامیں اور طویل مقالے بڑی تحقیق و تدقیق اور محنت و کاوش سے لکھے اور اپنے پیچھے ایک عظیم الشان ذخیرہ نادر مضامین اور بلند پایہ مقالات کا چھوڑ گئے۔ ان کے بیش بہا مقالات و مضامین لٹریچر کے لیے مایہ ناز اور عوام و خواص کے لیے بے حد مفید ہیں۔ ان سے معلومات میں اضافہ اور نظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اور علم و ادب اور مذہب و تاریخ کے ہزاروں عقدے حل ہوتے ہیں۔ ان مقالات كی خوبی یہ ہے كہ ان میں علمی اور مدلل نثر اور انداز بیان کے علاوہ علمی حقائق بھی ہیں اور ادبی لطف بھی، سیاست بھی اور معاشرت بھی، اخلاق بھی، مزاح ہے تو طنز بھی ہے، درد ہے تو سوز بھی۔ دلچسپی، دلكشی كے ساتھ نصیحت اور سرزنش بھی موجود ہے۔ گویا سرسیّد كے مقالات ایك سدا بہار گلدستہ ہیں۔ جن میں رنگ برنگے ہر قسم كے پھول موجود ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eمکاتیب کسی شخصیت اور اس کے عہد کی کیفیت، ماحول اور اس کے آدرشوں کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ کیونکہ خط، مضمون اور مقالے کی طرح غور فکر اور شعوری کاوش اور باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ گویا مکتوب اور مقالے میں آمد اور آورد کا امتیاز پایا جاتا ہے۔ اس لیے مشاہیر کے خطوط تحقیق و ادب اور تاریخ کے طلبہ کے لیے معتبر استفادے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں مختلف شخصیات کے اُن خطوط کو جمع کیا گیا ہے جو اُنھوں نے سرسیّد کے نام لکھے۔ اس کتاب میں سرسیّد کے نام پچاس سے زائد خطوط شامل کیے گئے ہیں جنہیں محمد اسماعیل پانی پتی نے بڑی محنت سے جمع کیا ہے اور حسبِ ضرورت حواشی بھی لکھے ہیں۔ ان مکاتیب کو پڑھنے سے نہ صرف اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ سرسیّد کا حلقہ احباب کس قدر وسیع تھا بلکہ ان کے خیالات و موضوعات کا بھی پتہ چلتا ہے جو وہ اپنے حلقۂ احباب سے ڈسکس کیا کرتے تھے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Sir Syed Ahmed Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611492397280,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/khatoot-banaame-sir-syed-50.jpg?v=1770968996"},{"product_id":"letters-to-and-from-sir-syed-ahmad-khan-سر-سید-احمد-خان-کے-نام-اور-خطوط","title":"Letters To and From Sir Syed Ahmad Khan - سر سید احمد خان کے نام اور خطوط","description":"\u003cp\u003eسرسیّد احمد خان انیسویں صدی کی وہ عہد آفریں شخصیت تھے جن کی ہمہ گیری کے اثرات بیک وقت ادب، سیاست، معاشرت، تعلیم، مذہب اور صحافت پر پڑے۔ سرسیّد کے متعدد عظیم الشان کارناموں میں سے ان کی ادبی خدمات کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے سترہ برس کی عمر میں قلم سنبھالا اور وفات تک برابر لکھتے رہے۔ اس طویل عرصے میں انہوں نے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں تصنیف اور تالیف کیں۔ دوسروں کی کتابیں تصحیح کے بعد شائع بھی کیں۔ مگر سرسید کی ادبی حیثیتوں میں سب سے بڑی اور سب سے نمایاں حیثیت ان کی مضمون نگاری اور مقالہ نویسی ہے۔ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے اور سب سے اعلی مضمون نگار تھے۔ انہوں سے سینکڑوں مضامیں اور طویل مقالے بڑی تحقیق و تدقیق اور محنت و کاوش سے لکھے اور اپنے پیچھے ایک عظیم الشان ذخیرہ نادر مضامین اور بلند پایہ مقالات کا چھوڑ گئے۔ ان کے بیش بہا مقالات و مضامین لٹریچر کے لیے مایہ ناز اور عوام و خواص کے لیے بے حد مفید ہیں۔ ان سے معلومات میں اضافہ اور نظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اور علم و ادب اور مذہب و تاریخ کے ہزاروں عقدے حل ہوتے ہیں۔ ان مقالات كی خوبی یہ ہے كہ ان میں علمی اور مدلل نثر اور انداز بیان کے علاوہ علمی حقائق بھی ہیں اور ادبی لطف بھی، سیاست بھی اور معاشرت بھی، اخلاق بھی، مزاح ہے تو طنز بھی ہے، درد ہے تو سوز بھی۔ دلچسپی، دلكشی كے ساتھ نصیحت اور سرزنش بھی موجود ہے۔ گویا سرسیّد كے مقالات ایك سدا بہار گلدستہ ہیں۔ جن میں رنگ برنگے ہر قسم كے پھول موجود ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eمکاتیب کسی شخصیت اور اس کے عہد کی کیفیت، ماحول اور اس کے آدرشوں کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ کیونکہ خط، مضمون اور مقالے کی طرح غور فکر اور شعوری کاوش اور باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ گویا مکتوب اور مقالے میں آمد اور آورد کا امتیاز پایا جاتا ہے۔ اس لیے مشاہیر کے خطوط تحقیق و ادب اور تاریخ کے طلبہ کے لیے معتبر استفادے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں مختلف شخصیات کے سرسیّد کے نام اور سرسیّد کے مختلف شخصیات کے نام انگریزی خطوط کو جمع کیا گیا ہے، البتہ اُردو دان طبقے کے لیے انہیں اُردو میں ترجمہ بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سرسیّد کی طرف سے مختلف لوگوں کے نام باسٹھ خطوط شامل ہیں جبکہ مختلف شخصیات کی جانب سے سرسیّد کے نام چالیس خطوط دیے گئے ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Sir Syed Ahmed Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611492593888,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/letters-to-and-from-sir-syed-50.jpg?v=1770968997"},{"product_id":"nasar-e-akbar-allahabadi-نثر-اکبر-الٰہ-آبادی","title":"Nasar-e-Akbar Allahabadi - نثر اکبر الٰہ آبادی","description":"\u003cp\u003eاکبر الٰہ آبادی کے یہ مضامین اور ادبی کتابوں پر تاثرات مختلف ذرائع سے اکٹھے کر کے پہلی بار ایک مجموعے کی شکل میں شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے بیش تر مضامین اَوَدھ پنچ لکھنو کے مختلف شماروں میں طبع ہوئے تھے۔ مضامین کے آخر میں ایک روداد شامل ہے جو اَوَدھ اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد ادبی کتابوں پر چند تاثراتی تحریریں ہیں۔ لیکن مجموعے کا غالب حصہ اَوَدھ پنچ میں شائع شدہ مضامین پر مشتمل ہے۔ اکبر الٰہ آبادی اودھ پنچ کے اجرا کے تھوڑا عرصہ بعد ہی اس میں نثر و نظم لکھنے لگے تھے۔ ان کا پہلا مختصر نثری مراسلہ بعنوان ’’امتحان اُمیدواراں مقام الٰہ آباد‘‘ 13؍ جنوری 1877ء کے اَوَدھ پنچ میں شائع ہوا تھا اور پھر ان کی نظم و نثر تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد شائع ہوتی چلی گئی۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eیہ مضامین اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ انیسویں صدی کے رُبع آخر اور بیسویں صدی کے ابتدائی چند برسوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان اس زمانے میں مسلمان ممالک کے روز افزوں زوال کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ اور کیا محسوس کرتے تھے۔ ان واقعات کی تصویر کشی اور لوگوں کے احساسات ان تحریروں میں پوری طرح موجود ہیں۔ علاوہ ازیں انگریزوں کے بارے میں عام طور پر کیا خیالات تھے اور ان کی سیاسی پالیسیاں کیا اثرات مرتب کر رہی تھیں۔ ان سب کا عکس ان تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ نئے فلسفیانہ اور سائنسی نظریات کے بارے میں ہندی مسلمانوں کے ردّعمل کا بالواسطہ اظہار بھی ان مضامین میں پایا جاتا ہے۔ ان میں طنز و مزاح پیدا کرنے کے لیے متعدد انداز اور اسالیب اپنائے گئے ہیں۔ سادہ بیانیہ انداز، مکالمہ، مکتوب، اخباری خبر، غرض بہت سے حربے استعمال کر کے دلچسپی پیدا کی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Akbar Hussain Akbar Allahabadi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611492757728,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/nasar-akbar-ilah-abadi-50p_63ea37b5-41e1-4965-b33b-8bd734fc5155.jpg?v=1770968655"},{"product_id":"tehzib-ul-akhlaq-تہذیب-الاخلاق","title":"Tehzib-ul-Akhlaq - تہذیب الاخلاق","description":"\u003cp\u003eمحکمۂ تعلیم نے غالباً 1890ء کے لگ بھگ ایک رزولیوشن پاس کیا، جس کی رُو سے سرکاری مدارس میں ایسی کتابیں پڑھانے کی ہدایات کی گئی جن میں اخلاق کی اعلیٰ درجے کی باتیں بیان کی گئی ہوں۔ چوں کہ سرکاری مدارس میں ہر قوم اور مذہب کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے، اس لیے اس بات کا خاص التزام کیا گیا کہ ان کتابوں میں ایسی باتیں بیان کی جائیں جو تمام قوموں میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہوں۔ شاید اسی رزولیوشن سے متاثر ہو کر مولوی ذکاء اللہ نے اخلاقیات کے موضوع پر قلم اُٹھایا۔ اُنھوں نے علمِ اخلاق پر چھ کتابیں تالیف کیں جو مختلف مذاہب کی کتب سے ماخوذ ہیں۔ انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت اور اُردو کی بیسیوں کتابیں کھنگال کر اُنھوں نے یہ کتابیں مرتب کی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eمولوی ذکاء اللہ نے اخلاقیات پر سب سے پہلے جو تین کتابیں لکھیں، ان میں سے پہلی ’’تہذیب الاخلاق‘‘ ہے جو ہندو مت کی علمِ اخلاق کی کتابوں سے ماخوذ ہے۔ مجلسِ ترقی ادب کی طرف سے مولوی ذکاء اللہ کی دوسری دونوں اخلاقی کتابوں کو شائع کیا گیا تھا اور اب ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کو مصنف کی اپنی بیان کردہ ترتیب کے برعکس بوجوہ سب سے آخر میں شائع کیا جا رہا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Maulvi Muhammad Zakaullah Dehlavi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611492954336,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/tehzeeb-ul-ikhlaq-50-percent_c14e9b03-10e1-4563-b24e-e6066bb8f3e9.jpg?v=1770968850"},{"product_id":"bazm-e-akher-بزم-آخر","title":"Bazm-e-Akher - بزم آخر","description":"\u003cp\u003eیوں تو مغل شہنشاہوں کی دہلی کے دلچسپ موضوع پر قبل و مابعد غدر کے اخبارات و رسائل اور مختلف کتب جن میں سفر نامۂ ابنِ بطوطہ، ڈاکٹر برنیر کا روزنامچہ، سرسیّد کی آثار الصنادید وغیرہ بہت سی کارآمد چیزیں ہیں، لیکن ’بزمِ آخر‘ میں ابو ظفر مُعین الدین محمد اکبر شاہ ثانی کے زمانے سے ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ اخیر بادشاہ دہلی کے عہد تک روزمرہ کے ظاہر و مخفی برتائو، خانگی معاملات، طرزِ معاشرت، دربار اور سواری کے قاعدے، جشن اور نذروں کے قرینے، میلوں کے رنگ، تماشوں کے ڈھنگ، زنانہ میلوں میں بیگمات کی بات چیت، غرض بہت سی ایسی استعمالی اشیا اور ملبوسات وغیرہ ایسی تفصیل و رنگینی سے بیان کیے گئے ہیں جن سے ہم آج قطعی نابلد ہیں، علاوہ ازیں تخت نشینی اور وفات کی کیفیت وغیرہ بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ کتاب قلعۂ دہلی کی تہذیب و معاشرت اور رسم و رواج کا بے مثال مرقع اور زبان کا وہ زندئہ جاوید کارنامہ ہے جس کی اہمیت سے انکار کی جرأت نہیں۔ گزشتہ نصف صدی میں بہت کم ایسے اہلِ قلم ہوں گے جنھوں نے اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہو اور اس کتاب سے استفادہ نہ کیا ہو۔\u003c\/p\u003e","brand":"Munshi Faizuddin Dehalvi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611493118176,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/bazm-e-akhir-50p.jpg?v=1770968927"},{"product_id":"tazkara-makhzan-e-nakat-تذکرہ-مخزن-نکات","title":"Tazkara \"Makhzan-e-Nakat\". - تذکرہ ’’مخزن نکات‘‘","description":"\u003cp\u003eتذکرہ ’’مخزن نکات‘‘ یعنی تذکرہ شعرائے اُردو\u003cbr\u003e\nقائم چاند پوری کا کلام ہر صنف میں موجود ہے۔ قائم نے تذکرہ مخزن نکات (1168ھ\/مطابق1754ء) میں ہر دور کے شعراء کا حال الگ الگ لکھا ہے جو مستند سمجھا جاتا ہے۔ اسپرینگر نے قدیم ہندوستانی ادب کی تاریخ لکھنے کے سلسلے میں ’’مخزنِ نکات‘‘ کو سب سے اہم مآخذ قرار دیا ہے۔ یہ رائے ایک ایسے شخص کی ہے جو ’’نکات الشعرا‘‘ اور ’’تذکرۂ ریختہ گویاں‘‘ کا بھی تفصیلی مطالعہ کر چکا تھا۔ اس اہمیت کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مؤلف نے اُردو شاعری کے ادوار یا طبقات متعین کر کے تذکرے اور تاریخِ ادب میں باہم ربط قائم کیا؛ دوسرے یہ کہ باوجود سنین مُعین نہ ہونے کے اس نوعیت کے اشارے اس تذکرے میں مل جاتے ہیں، چنانچہ اُردو ادب کی تاریخ مرتب کرنے میں جتنی راہ نمائی اس سے مل سکتی ہے، کسی دوسرے معاصر تذکرے سے نہیں مل سکتی۔ قائم چاند پوری خود ایک بڑے شاعر تھے اور شعر کو پرکھنے کی صلاحیتوں کا جس خوبی، ہمدردی اور غیرجانبداری سے اس تذکرے میں استعمال کیا گیا ہے وہ بھی قدیم تذکروں میں شاذ ہی نظر آتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003e’’مخزن نکات‘‘ 1168ھ کی تالیف ہے۔ زیرِ نظر نسخے کا متن انڈیا آفس لائبریری، لندن، کے مخطوطے کے مطابق ہے۔ اور گمان یہ ہے کہ یہ وہی نسخہ ہے جو کبھی شاہ اودھ کے کتب خانے کی زینت تھا اور جس سے اسپرینگر نے اپنی فہرستِ شعرا کی تیاری میں مدد لی تھی۔ موجودہ متن اسی نسخے کے مطابق ہے۔ البتہ موجودہ ایڈیشن کی تیاری میں انجمن ترقی اُردو کے مطبوعہ نسخے کو بھی سامنے رکھا گیا ہے اور اختلافِ نسخ کو حواشی میں درج کر دیا گیا ہے۔ آخر میں ایک ’’ضمیمہ‘‘ بھی منسلک ہے جو قائم کے علاوہ تذکرہ ہائے میر اور گردیزی میں شامل تمام شعرا پر مشتمل ہے۔ جن شعرا کے سنین وفات تحقیق ہو سکے وہ درج کر دیے گئے ہیں؛ باقی کے بارے میں بھی مختصر مگر مفید معلومات اس فہرست میں موجود ہیں۔ مجلس اس سے پہلے ’’کلیاتِ قائم‘‘ شائع کر چکی ہے اور یہ قائم کا دوسرا علمی کارنامہ ہے جو مجلس ترقی ادب نے پیش کیا ہے۔ کلیات کی طرح تذکرۂ قائم بھی علمی حلقوں میں خاطر خواہ مقبول ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Qiamuddin Qaim Chandpuri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611493282016,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/mukhzan-nikaat-50.jpg?v=1770968950"},{"product_id":"maghrib-ke-urdu-lugat-nigar-مغرب-کے-اُردو-لغت-نگار","title":"Maghrib Ke Urdu Lugat Nigar - مغرب کے اُردو لغت نگار","description":"\u003cp\u003eپیشِ نظر کتاب نوجوان محقق و مترجم جناب صفدر رشید کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ نوے صفحات پر مشتمل کتاب کو معیاری سفید کاغذ پر بہت اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ موضوع کی اہمیت کے بارے میں ’’حرفے چند‘‘ میں لکھا ہے کہ محکوموں کی زبان سے حاکمیت کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔ چنانچہ برعظیم میں انگریز نے آمد کے بعد اس مقصد کے لیے جو اقدامات کیے ان میں مغربی لغت نگاروں کی اُردو لغات کی تشکیل و تدوین کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eواقعہ یہ ہے کہ اہلِ زبان عام طور پر سرمایۂ الفاظ، ان کے مفاہیم اور قواعد و ضوابط کے سلسلے میں فرہنگ اور لغات کے محتاج نہیں ہوتے۔ چناںچہ دوسری اقوام اور افراد کو متعلقہ زبان سیکھنے کے لیے قواعد اور لغات کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔ اسی لیے ہندوستان میں قواعد و لغت سازی کے لیے بہت سی کاوشیں کی گئیں۔ مذکورہ کتاب میں ان کا اجمالی بیان ہے مگر اس کے باوجود اس کتاب کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لغت نویسی کا مطالعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دو لسانی لغات صرف لسانی ضرورتوں ہی کو پورا نہیں کرتے بلکہ دو قوموں کو قریب لانے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ اس کتاب سے اس امر کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مغرب کے اُردو لغت نگاروں کے کام میں کس قدر تنوع ہے۔ کتاب کے آخر میں حوالہ جات و حواشی کے علاوہ ان کتب کی فہرست بھی موجود ہے جن سے فاضل مؤلف نے استفادہ کیا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اُردو لغت کی تدوین و ارتقاء سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Safdar Rasheed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611493413088,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/magrib-k-urdu-lugat-nighar-50p.jpg?v=1770968979"},{"product_id":"agha-hasher-ke-daramay-آغا-حشر-کے-ڈرامے-جلد-اوّل","title":"Agha Hasher Ke Daramay - آغا حشر کے ڈرامے (جلد اوّل)","description":"\u003cp\u003eاُردو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ چنانچہ متاخرین میں سے سب سے نمایاں ڈراما نویس آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے زیورِ طبع سے آراستہ کیے گئے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاُردو ڈرامے کے ایک معروف نقاد جناب عشرت رحمانی نے مجلس کا بھرپور ساتھ دیا اور پھر پنجاب آرٹس کونسل کے مالی تعاون کی وجہ سے ڈراموں کی اشاعت کے سلسلے کو برقرار رکھا گیا۔ آغا حشر کاشمیری کو اُردو ڈرامے کا نقطۂ معراج سمجھا جاتا ہے مگر ان کے ڈراموں کے صحیح متون کی دستیابی دشوار تھی۔ عشرت رحمانی نے اُردو ڈراموں، خاص طور سے آغا حشر کے ڈراموں کی تحقیق و تنقید میں عمر گزاری ہے۔ چنانچہ آغا حشر کے بارے میں اُن کا نہایت معلومات افزا سوانحی و تنقیدی مقدمہ ڈراموں کی اس پہلی جلد میں شامل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنھوں نے ہر ڈرامے کے متن کی صحت کے سلسلے میں بڑی محنت کی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Agha Hasher Kashmiri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611493576928,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/aga-hashr-k-dramay-1-50_4ca486fa-f06e-48aa-bc86-1a2a574efe47.jpg?v=1770968639"},{"product_id":"agha-hasher-ke-daramay-آغا-حشر-کے-ڈرامے-چوتھی-جلد","title":"Agha Hasher Ke Daramay - آغا حشر کے ڈرامے (چوتھی جلد)","description":"\u003cp\u003eدو کا کلاسیکی ڈراما، اُردو ادب کی صد سالہ روایت کا حصہ ہے۔ شاہی سٹیج سے عوامی سٹیج اور عوامی سٹیج سے تھیٹریکل کمپنیوں تک اُردو ڈراما جن جن نئی اشکال اور مراحل سے گزرا ہے، وہ تاریخِ ادب کی گم شدہ لیکن اہم ترین کڑیاں ہیں اور ادب کے طالب علم اس سے خاصی حد تک ناآشنا ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اُردو سٹیج کے ڈرامے کسی منظم کاوش کے تحت ایک جدا ادبی صنف کے طور پر کبھی شائع نہیں ہوئے۔ لوگ جس طرح تقریباً کھیل دیکھتے تھے، تقریباً اُسی طرح چھپے ہوئے ڈراموں کو پڑھتے تھے، جو اکثر اوقات مصنّفین سے مسودہ حاصل کرنے کی بجائے اداکاروں کی زبانی سن کر چھاپے جاتے تھے۔ یوں کلاسیکی ڈرامے کو کم از کم اشاعت کی حد تک تو کبھی کلاسیکی ادب کا درجہ نہ مل سکا۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔ کلاسیکی ڈراموں کو ایک سلسلے میں مرتب کیا گیا ہے، جو دو ادوار پر مشتمل ہے: (۱) متقدمین کا دور، (۲) متاخرین کا دور۔ یہ سلسلہ تاریخ کے اُس عہد سے شروع ہوتا ہے جب انگریزی تہذیب اور انگریزی ادب ملکی ادب اور تہذیب کو متاثر کر رہا تھا اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناٹک بھی ڈرامے کی ہیئت اختیار کر رہے تھے۔ متقدمین کے کم و بیش تیس ڈرامے شائع کر چکنے کے بعد اس دور کے مزید ڈراموں کے متون کے حصول میں چند در چند مشکلات درپیش تھیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اگر متاخرین کے ڈراموں کے مستند متون دستیاب ہوں تو پہلے اُنھیں شائع کر دیا جائے۔ چنانچہ متاخرین میں سے سب سے نمایاں ڈراما نویس آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے زیورِ طبع سے آراستہ کیے گئے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاُردو ڈرامے کے ایک معروف نقاد جناب عشرت رحمانی نے مجلس کا بھرپور ساتھ دیا اور پھر پنجاب آرٹس کونسل کے مالی تعاون کی وجہ سے ڈراموں کی اشاعت کے سلسلے کو برقرار رکھا گیا۔ آغا حشر کاشمیری کو اُردو ڈرامے کا نقطۂ معراج سمجھا جاتا ہے مگر ان کے ڈراموں کے صحیح متون کی دستیابی دشوار تھی۔ عشرت رحمانی نے اُردو ڈراموں، خاص طور سے آغا حشر کے ڈراموں کی تحقیق و تنقید میں عمر گزاری ہے۔ آغا حشر کے ڈراموں کی اس چوتھی جلد میں تین ڈرامے ’’سفید خون‘‘، ’’یہودی کی لڑکی‘‘ اور ’’ بَن کی دیوی‘‘ شامل ہیں اور ہر ڈرامے سے پہلے مختصر تبصرہ اور پلاٹ کا خلاصہ دیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Agha Hasher Kashmiri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611493740768,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/aga-hashr-kdramay-4-50-1_d66d0ff5-5a25-41b2-a1f4-2839fcc53812.jpg?v=1770968640"},{"product_id":"rafi-pir-ke-daramay-رفیع-پیر-کے-ڈرامے","title":"Rafi Pir Ke Daramay - رفیع پیر کے ڈرامے","description":"\u003cp\u003eموجودہ صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں ریڈیو کے حوالے سے جن اہلِ قلم نے بطور تمثیل نگار شہرت پائی، ان میں ایک نام رفیع پیر کا بھی ہے۔ رفیع پیر اُس دور میں پیرزادہ رفیع کہلاتے تھے۔ انہوں نے ڈرامے کی تربیت جرمنی سے پائی۔ آل انڈیا ریڈیو سے اپنی آواز کا جادو جگا کر ہزاروں کے دل موہ لیے۔ رفیع پیر صرف صداکار ہی نہیں، بلکہ تمثیل نگار، اداکار، ہدایت کار بھی تھے اور ان سبھی شعبوں میں انھیں کمال حاصل تھا۔ پیر صاحب تمثیل نگاری میں بڑے مشکل پسند واقع ہوئے تھے، اس سلسلے میں ان کے اپنے ہی ضوابط تھے۔ وہ ڈراموں میں ایک اونچے مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے مکالموں میں سطحیت، سستی جذباتیت نہیں بلکہ ادیبانہ خلاقیت کا رنگ بڑا گہرا ہے۔ دوسرے وہ بالعموم ایک ہی منظر میں ڈرامے کے سارے واقعات پیش کر دیتے تھے۔ پیر صاحب خوبصورت شعروں سے بھی حسبِ منشا کام لیتے ہیں، جو کہ اُردو اور فارسی کے کلاسیکی شعرا کے کلام سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ پیر صاحب احتیاط کے پیشِ نظر رسائل و جرائد کو ڈرامے اشاعت کے لیے نہ دیتے تھے کہ کتابت وغیرہ کی غلطیاں رہ جائیں گی۔ رفیع پیر کے ڈرامے تمثیلی ادب کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ ہمارا تاریخی ورثہ ہیں، جنہیں محفوظ کرنا ہمارا فریضہ ہے۔ ان کی اہمیت آج بھی مسلّم ہے۔ اُردو ڈرامے کے ارتقا میں رفیع پیر کے ڈرامے ایک تابناک باب کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔ پارسی تھیٹر کے زوال کے بعد جن مصنّفین نے ڈرامے کو زندہ کرنے کی نہایت مخلصانہ کوشش کی تھی، پیر صاحب کا نام ان کی فہرست میں نمایاں مقام پر جگہ پاتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاس جلد میں رفیع پیر کے آٹھ ڈرامے شامل کیے گئے ہیں، جن کے نام: نقاب، موت سے ملاقات، سناٹا، راز و نیاز، دیوانہ بکارِ خویش ہشیار، ساحل، مارِ آستین، نواب صاحب قبلہ ہیں۔ کتاب کے شروع میں رفیع پیر کا 1960ء کا لکھا ہوا ایک مضمون بعنوان ’’پاکستان میں ڈرامے کا مستقبل‘‘ بھی شامل ہے۔ مرتب نے تا بہ حدِ امکان ان ڈراموں کے متن کی تصحیح کر دی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Rafi Pir","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611493904608,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/rafi-peer-k-dramay-50.jpg?v=1770968956"},{"product_id":"ikhwan-e-safa-اخوان-الصفا","title":"Ikhwanus Safa - اخوان الصفا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eدنیا کی قدیم بلند پایہ اور ہمیشہ زندہ رہنے والی کتابیں جنھوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی ان میں ایک ’’اِخوانُ الصفا‘‘ بھی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ مغرب اور مشرق کی بیشتر زبانوں میں ہوچکا ہے۔ اردو میں اس کتاب کے ایک حصے کا ترجمہ مولوی شیخ اکرام علی نے کیا ہے جو 1810ء میں ہندوستان پریس سے شائع ہوا ۔ پاکستان میں اس کا پہلا ایڈیشن جو ڈاکٹر احراز نقوی نے مرتب کیا ہے مجلس ترقی ادب لاہور سے 1966ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب جو عربی میں ہے کس نے لکھی اور کب شائع ہوئی اس کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تیسری صدی ہجری کے بعد لکھی گئی، اس کی نوعیت ایک داستان کی سی ہے۔ ڈاکٹر احراز نقوی لکھتے ہیں۔ ’’قصے کا مرکزی خیال فقط ثنا ہے کہ انسان ہر ذی روح سے اشرف اور افضل ہے۔ اس خیال کو مصنف ایک قصے کی شکل میں کرداروں کی مدد سے پلاٹ کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ قصہ تو بے حد مختصر ہے مگر حکایت بڑی طوفانی ہے۔‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eڈاکٹر احراز نقوی لکھتے ہیں کہ جہاں یہ کتاب اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ ایک لاجواب تصنیف ہے اس کا اردو ترجمہ بھی باکمال ہے۔ کتاب کے مولف کی طرح مولوی شیخ اکرام علی بھی بڑے عالم فاضل تھے وہ سیتا پور میں پیدا ہوئے جو علم و ادب کا گھر تھا۔ انھوں نے ترجمے کے فن میں حیرت انگیز قدرت دکھائی کہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’اِخوانُ الصفا‘‘ کی تصنیف خود مولوی اکرام علی کے علم و فن کا ایک شاہکار ہے۔ مولوی شیخ اکرام علی فورٹ ولیم کالج کے آخری دور میں اس کے شعبہ تصنیف و تالیف سے منسلک ہوئے۔ جان ولیم ٹیلر نے ’’اِخوانُ الصفا‘‘ کے اردو میں ترجمہ کرنے کا کام انہیں دیا۔ ان کا ترجمہ خاصا مقبول ہوا اور باقاعدہ کالج کے نصاب تعلیم میں شامل کرلیا گیا۔ ’’اِخوانُ الصفا‘‘ سے ایک پرچہ امتحان کے لیے باقاعدہ تیار کیا جاتا تھا اور طلبہ کے لیے اس پرچے میں کامیاب ہونا لازمی شرط تھی۔ اس کے علاوہ لندن میں ہندوستانی زبان سیکھنے کے لیے جو نصاب تیار کیا گیا تھا اس میں بھی اس کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ پھر جب ایسٹ انڈیا کمپنی ختم ہوگئی تو ’’اِخوانُ الصفا‘‘ کو انڈین سول سروس کے نصاب میں شامل کرلیاگیا۔\u003c\/p\u003e","brand":"Maulvi Ikram Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611494461664,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/ikhwan-ussufa-50_1c44b133-94d1-4f8a-ad93-61d523697df7.jpg?v=1770968842"},{"product_id":"qisa-agargul-قصہ-اگرگل","title":"Qisa Agargul - قصہ اگرگل","description":"\u003cp\u003eقصہ اگرگل نوابی عہد کے لکھنو کی تہذیب و معاشرت کا ایک دل آویز مرقع ہے۔ نامعلوم مصنف نے اس دور کے رسم و رواج اور ثقافتی روایات کی تصویریں کھینچتے وقت اپنے موِ قلم کا استعمال ایسی نزاکت اور فنی چابک دستی سے کیا ہے کہ ہر نقش اپنی جگہ بولتا ہوا اور ہر تفصیل زندگی کی تصویر نظر آتی ہے۔ چنانچہ آج کا قاری کم و بیش دو سو سال پہلے کے لکھنؤ میں پہنچ کر اپنے آپ کو ایک ایسے ماحول میں پاتا ہے جو ایک حد تک اُس کے لیے نامانوس سہی لیکن نہایت شائستہ، نفیس اور زندگی کی رنگینیوں سے بھرپور ہے اور قاری اس کی دلچسپیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوبِ نگارش اگرچہ مسجع و مقفیٰ ہے کہ اس زمانے میں علم و فضل کا معیار تھا، لیکن اس کے باوجود عبارت میں روانی ہے اور پڑھنے والے کو کہیں رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ مصنف اپنے پُرتکلف انداز میں صفحے کے صفحے لکھتا چلا جاتا ہے اور تھکن کے آثار کہیں نمایاں نہیں ہوتے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاُردو کی دیگر داستانوں کے مقابلے میں قصّہ اگرگل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہیرو کا کردار ایک پری پیکر نازنین ادا کرتی ہے۔ ’’اگر‘‘ ایک عورت ہے لیکن وہ ہمیشہ مردانہ لباس پہنتی ہے۔ اور داستان کی اسٹیج پر اپنی اس روشنیِ طبع کی قیمت اسے یوں ادا کرنی پڑتی ہے کہ وہ بھی زندگی کے وہ تمام نشیب و فراز عبور کرتی ہے جو اُردو داستانوں میں ہیرو کا مقدر ہیں۔ ہیروئن کی اس دوہری شخصیت کو نبھانے کے لیے مصنف کو غیرمعمولی فنی کاوش اور دقتِ نظر سے کام لینا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قصہ اگرگل اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود قصہ گوئی کے اس بنیادی منصب و مقصد کو پورا کرتا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لیے دلچسپ ہے۔ کہانی کی ترتیب و تعمیر میں، اور اسلوبِ بیان اور طرزِ ادا کی خصوصیتوں میں، زمانے کی عام روشوں سے ہٹتے ہوئے صرف دلچسپی کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے، یہی اس کی بقا کا موجب ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Khalil-ul-Rehman Dawoodi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611494592736,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/qisa-e-ager-gul-50.jpg?v=1770968816"},{"product_id":"mazhab-e-ishq-qisa-gul-bakawli-مذہبِ-عشق-قصہ-گل-بکاولی","title":"Mazhab-e-Ishq (Qisa Gul Bakawli) - مذہبِ عشق (قصہ گل بکاولی)","description":"\u003cp\u003eقصہ تاج الملوک اور گل بکاولی سے ذہن پنڈت دیاشنکر نسیم لکھنوی کی ’’گلزارِ نسیم‘‘ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں نہال چند لاہوری کی نثری تالیف ’’مذہبِ عشق‘‘ ہے۔ اس سے بھی قبل یہ قصہ اصلاً فارسی نثر میں عزت اللہ بنگالی نے 1124ھ میں لکھا۔ لیکن مزید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قصہ عزت اللہ بنگالی کی فارسی نثر سے پہلے بھی اُردو یا دکنی زبان میں محفوظ تھا۔ لیکن نہال چند لاہوری نے مذہبِ عشق کے دیباچے میں شیخ عزت اللہ بنگالی کے فارسی قصے کو اپنی تالیف کی اساس قرار دیا ہے۔ نہال چند لاہوری نے ’’مذہبِ عشق‘‘ کی تکمیل 1217ھ مطابق 1803 میں کی تھی اور 1804ء میں اس کا پہل ایڈیشن فورٹ ولیم کالج سے شائع ہوا۔ اگرچہ اس کی تالیف کو ڈیڑھ صدی گزر چکی ہے لیکن اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ اس دوران یہ متعدد مطبعوں سے متعدد بار نہ صرف یہ کہ شائع ہوتا رہا بلکہ مختلف زبانوں میں اس کے تراجم کیے گئے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eیہ کتاب چھبیس ابواب پر مشتمل ہے۔ ہر باب میں ایک داستان بیان ہوتی ہے، اس لیے ہر باب کو داستان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں طرزِ بیان سادہ اور سلیس نہیں بلکہ فارسی تراکیب سے فارسیت چھائی ہوئی ہے، تشبیہات و استعارات سے زیادہ کام لیا گیا ہے جبکہ محاورات و روزمرہ کا استعمال بہت کم ہے۔ گھریلو الفاظ عورتوں کی زبان سے نگینے کی طرح جابجا جڑ دیئے گئے ہیں۔ ’’مذہبِ عشق‘‘ میں ایک ہی طرح کے چند بیانات بھی ہر داستان میں آتےہیں۔ نہال چند کا یہ ترجمہ بہت صاف اور خوب ہے، اگر ترجمے کا خیال دل میں نہ ہو تو عبارت پڑھنے سے ہرگز یہ تصور نہیں ہوتا کہ یہ کسی کتاب کا ترجمہ ہے بلکہ ذہن اس طرف منتقل ہی نہیں ہوتا۔ الغرض، ’’مذہبِ عشق‘‘ اُردو ادبیاتِ عالیہ کی اہم کتابوں میں سے ایک ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Nehal Chand Lahori","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611494756576,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/mazhab-e-ishaq-50.jpg?v=1770968937"},{"product_id":"riyaz-e-dilruba-ریاض-دلربا","title":"Riyaz-e-Dilruba - ریاض دلربا","description":"\u003cp\u003e’’ریاض دلربا‘‘ ہریانہ کے ادیب منشی گمانی لعل کا ناول ہے، جسے مصنف نے 1832ء میں تصنیف کیا تھا اور جیل پریس روہتک سے 1863ء میں پہلی بار اس کی اشاعت عمل میں آئی تھی۔ اب تک کی تاریخ میں اُردو ناول کا نقشِ اوّل مولوی نذیر احمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ کو مانا گیا ہے، یہ ناول 1869ء کی تصنیف ہے۔ بعض نقاد کے نزدیک ان دونوں ناولوں کے سنہِ تصنیف کے پیشِ نظر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روہتک کے منشی گمانی لعل کا ناول ’’ریاضِ دلربا‘‘ مولوی نذیر احمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ سے 37 برس پہلے کی تصنیف ہی نہیں بلکہ ناول کا نقشِ اوّل بھی ہے۔ یہ ناول 1990ء میں بھارت سے ہریانہ اُردو اکیڈمی کی طرف سے شائع ہو چکا ہے، جسے ابنِ کنول نے ایڈٹ کیا تھا۔ گمان لعل مسکین کے حالات تذکروں میں نہیں ملتے البتہ ابنِ کنول کے مطابق منشی گمانی لعل رہتک میں سکونت پذیر تھے لیکن ان کا آبائی وطن قصبہ رامپور تھا۔ گمانی لعل مسکین سے چار تصانیف وابستہ ہیں: ریاض دلربا، بھگت مال، بہارستانِ عقل و دانش اور بہارستانِ عقل و فرہنگ۔ کچھ نقاد اسے اُردو کا پہلا ناول نہیں گردانتے بلکہ کہتے ہیں کہ روایتی ادب میں طبع زاد قصوں کی کوئی اہمیت نہ تھی بلکہ پرانے اور معروف قصوں کو اپنے رنگ میں لکھنے پر اکتفا کیا جاتا تھا، ریاض دلربا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بظاہر گمانی لعل مسکین کو محض قصہ نویسی سے غرض نہ تھی بلکہ وہ اپنی علمیت کی دھاک بھی بٹھانا چاہتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ ریاض دلربا میں اوّل تا آخر ایسی نثر سے واسطہ پڑتا ہے جو نہایت معرب، مفرس اور عالمانہ ہے۔ اس گاڑھے اسلوب سے کہیں ذرہ برابر انحراف نہیں کیا گیا۔ چنانچہ بادشاہ ہو یا فقیر، کوتوال ہو یا ٹھگ، طوائف ہو یا بادشاہ زادی، سب بالکل ایک ہی لب و لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ لب و لہجہ سراسر ادبی ہے، اس پر روزمرہ کی بول چال کا سایہ تک نہیں پڑا ہے۔ کتاب کے آخر میں حواشی اور مشکل الفاظ کی فرہنگ بھی دی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Muhammad Salim-ur-Rehman","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611494985952,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/ryaz-dilruba-50.jpg?v=1770968915"},{"product_id":"shakuntala-شکنتلا","title":"Shakuntala - شکنتلا","description":"\u003cp\u003eشکنتلا” کالی داس کا ایک شاہکار ڈرامہ ہے۔”\u003cbr\u003e\nاسے اگر بین الاقوامی ادب کا شاہکار مانا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔\u003cbr\u003e\nیہ ڈرامہ سنسکرت میں لکھا گیا اور اس کا اردو ترجمہ اختر حسین رائے پوری نے کیا ہے۔\u003cbr\u003e\nاردو میں دیگر تراجم بھی موجود ہیں جو ساغر نظامی، منور لکھنوی اور قدسیہ زیدی نے کیے ہیں۔\u003cbr\u003e\nساغر اور منور کے ترجمے منظوم ہیں جبکہ قدسیہ زیدی کے ترجمے پر اردو کی بجائے ہندی کا گمان ہوتا ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کے برعکس اختر حسین رائے پوری کا یہ ترجمہ سہل اور رواں اردو میں ہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب ایک سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Akhtar Hussain Raipuri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611495117024,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-05-at-12.42.55-AM.jpg?v=1770968656"},{"product_id":"surosh-e-sukhan-سروشِ-سخن","title":"Surosh-e-Sukhan - سروشِ سخن","description":"\u003cp\u003eیہ داستان فخرالدین سخن نے فرصت کے لمحات میں نام و نمود کے لیے اپنی فطری طبعیت کے زیرِاثر لکھی۔\u003cbr\u003e\nسروشِ سخن کا پلاٹ گٹھا ہوا، کوئی مقام قابلِ اعتراض نہیں اور ہر واقعہ مرکزی واقعے سے جڑا ہوا ہے۔\u003cbr\u003e\nبحیثیتِ مجموعی یہ داستان اُردو داستانوں کی صفِ اوّل میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Khalil-ul-Rehman","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611495313632,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/saroosh-e-sukhan-50_267a9f71-5603-41c4-b42f-293f2495cf67.jpg?v=1770968816"},{"product_id":"diwan-e-mahalqa-bai-chanda-دیوانِ-مہ-لقا-بائی-چندا","title":"Diwan-e-Mahalqa Bai Chanda - دیوانِ مہ لقا بائی چندا","description":"\u003cp\u003eیوانِ مہ لقا بائی چندا” کی مرتیہ شفقت رضوی ہیں۔”\u003cbr\u003e\nاردو شاعروں کے تذکروں اور کتبِ تاریخِ ادب میں پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ ہونے کا اعزاز مہ لقا چندہ بائی کو حاصل ہے۔\u003cbr\u003e\nآپ کا تعلق دکن سے تھا۔\u003cbr\u003e\nاردو کی اس صاحبِ دیوان شاعرہ کی طرف کبھی توجہ نہ دی گئی کیونکہ ہم مروجہ روایتی ناموں کے علاوہ تاریخِ ادب کے پوشیدہ گوشوں سے ہمیشہ گریزاں رہے۔\u003cbr\u003e\nیہ کتاب اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ صفحات کی تعداد ایک سو باون ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Hashfaqat Rizvi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611495477472,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-19-at-10.42.37-AM.jpg?v=1770968798"},{"product_id":"sahar-e-bayan-سحرالبیان","title":"Sahar-e-Bayan - سحرالبیان","description":"\u003cp\u003eسحرالبیان’ میر حسن دہلوی کی تصنیف ہے۔’\u003cbr\u003e\nمثنوی سحرالبیان میر حسن کی قادرالکلامی کا نمونہ ہے اور اردو کی چند معروف ترین مصنویوں میں شامل ہے۔\u003cbr\u003e\nاس کی مقبولیت کی وجہ دلنشین اسلوب، چٹخارے دار زبان، سادہ بیانی، جزبات و جزیات نگاری، روزمرہ اور محاورے کا برجستہ استعمال ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Mir Hassan Dehalvi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611495739616,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-19-at-10.44.27-AM.jpg?v=1770968861"},{"product_id":"bahar-e-danish-بہارِ-دانش","title":"Bahar-e-Danish - بہارِ دانش","description":"\u003cp\u003e‘بہارِ دانش’ مرزا جان طپش کی مثنوی پر مبنی کتاب ہے۔’\u003cbr\u003e\nاس کتاب کو خلیل الرحمن داؤدی نے مرتب کیا ہے۔ طپش نے دہلی میں پرورش پائی اور جملہ علوم میں دسترس حاصل کی۔\u003cbr\u003e\nعربی اور فارسی کے علاوہ سنسکرت زبان کی تحصیل بھی کی اور استادی کا مرتبہ حاصل کیا۔\u003cbr\u003e\nطپش نے مرزا محمد یار بیگ سائل کے سامنے زانوے تلمذ کیا۔\u003cbr\u003e\nصفحات کی تعداد ١٦١ ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Khalil-ul-Rehman Dawoodi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48611496001760,"sku":null,"price":165.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0663\/6237\/6416\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-06-at-1.59.57-AM.jpg?v=1770968819"}],"url":"https:\/\/noorisons.com\/collections\/majlis-e-tarqee-adab.oembed?page=3","provider":"Noori Sons","version":"1.0","type":"link"}