Rs.800.00

’’امراؤجان ادا‘‘ پر رائے زنی کرتے ہوئے علی عباس حسینی نے لکھا تھا کہ یہ رنڈی کی کہانی اسی کی زبان ہے۔ لیکن یہ رائے ناول کے حقائق کو پیش کرنے سے عاری ہے۔ طوائف...

  • Book Name: Amrao Jaan Ada امراؤ جان ادا
  • Author Name Mirza Hadi Ruswa
  • No. of Pages 259
  • URD- Urdu 2026 / 01 / 03

Tags: Novlet

’’امراؤجان ادا‘‘ پر رائے زنی کرتے ہوئے علی عباس حسینی نے لکھا تھا کہ یہ رنڈی کی کہانی اسی کی زبان ہے۔ لیکن یہ رائے ناول کے حقائق کو پیش کرنے سے عاری ہے۔ طوائف کی کہانی کے پس منظر میں مرزا رسوا نے اپنے عہد کے لکھنؤ کی جو تصویر کشی کی ہے، وہ انہیں کا حصہ ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ بعض لوگ رنڈی اور رنڈی بازی کے اردگرد ہی اس ناول کا جائزہ لیتے ہیں، حالانکہ مرزا رسوا کا شعور ان حدود میں بند نہیں تھا۔ یہ ناول لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کا ایک نگارخانہ ہے جس کے حوالے سے بہت سی تصویریں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں خواجہ محمد زکریا نے لکھا ہے۔
’’۔۔۔ ناول کے آغاز میں رسوا ہمیں اودھ کی ایک غریب بستی کی معاشرت سے متعارف کراتے ہیں، پھر نگار خانے کے حوالے سے نوابوں کا تمدن سامنے لگایا گیا ہے، پھر امراؤ جان کے نگارخانے سے فرار کے بعد اس زمان کے غیر محفوظ راستوں، چوروں ڈاکوؤں کی کارروائیوں، سیاسی بے تدبیریوں اورفوجوں کی بزدلیوں کی طرف واضح اشارے کئے گئے ہیں۔ ناول کے آخری حصے میں اکبر علی خاں کے حوالے سے متوسط طبقے کے گھروں کے نقشے بیان کئے گئے ہیں، جو اب تک ناول نگار کے قابو میں نہیں آسکے تھے۔ غرض اس عہد کے اودھ کے ادنیٰ، متوسط اور اعلیٰ سبھی طبقوں کے اس زمانے کے طرز معاشرت کو اس ناول کا موضوع بنایا گیا ہے۔

بہرحال! کردارنگاری، نفسیاتی کیف و کم اور ردعمل تہذیب و معاشرت کے اظہار وغیرہ کی بنیاد پر اسے اردو کے اہم ترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک گرانقدر مضمون خورشیدالاسلام نے لکھا جو اس ناول کے خدوخال نیز اہمیت کو واضح کردیتا ہے۔
’’شریف زادہ‘‘ اور ’’ذات شریف‘‘ میں وہ کیف و کم نہیں ہے جو ’’امراؤجان ادا‘‘ میں ہے۔ ’’شریف زادہ‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ رسوا کی اپنی سوانح حیات ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ رسوا نے جس طرح زندگی گزاری ہے وہ سب کی سب اس میں موجود ہے۔

یہاں اس امر کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ ایک ناول ’’شاہد رعنا‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رسوا کا ناول اس سے بہت مماثل ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دونوں میں جس طرح کا فرق ہے وہ بہت واضح ہے اور یہ طوفانی بحث ہے، جسے میں یہاں چھیڑنا نہیں چاہتا۔ بہرطور! رسوا اپنے وقت کے ایک ایسے Genius تھے کہ اردو تاریخ میں ان کی جگہ محفوظ ہے۔

Translation missing: en.general.search.loading